ہوم > کالم > محمدمناظرعلی کی تحریر۔۔۔پُرخلوس رویوں کی علامت۔۔۔فاطرشاہ

محمدمناظرعلی کی تحریر۔۔۔پُرخلوس رویوں کی علامت۔۔۔فاطرشاہ

فاطرولیدصاحب،،،سیدگھرانہ،،،علم وادب اور تعلیم و تربیت کے فطری زیور سے آراستہ،صحافی برادری میں ایسے ذہن کااضافہ جس کی فہم و فراست اتحاد،فلاح اورانسانی سدھارپربنیاد،شعروادب کی چاشنی،مزاج کی نفاست،علم کےساتھ ساتھ حلم کا کیف اپنی پوری آب وتاب کےساتھ حیات کی سرمستی کو توازن دیتا ہوا،خودفاطرکےاشعاراس کے بہترین عکاس ہیں۔۔

کہاں ہے چاشنی اتنی کسی بھی استعارے میں
میں اس کا نام لے کر لکھ رہا ہوں،اُس کے بارے میں

چھ برس کی کمسنی اورعطاءمدینۃُ العلم وباب علم،
یہ پہلا شعراُن کا ادبی دنیا میں تعارف بنا۔

خدا اسے ہی توکہتے ہیں جس کوقدرت ہو
تومیری روح پہ قادرہے تو خدا ہوگا

بیس برس سےزائد کا عشقِ صحافت جب کہ دوہزار تین سے الیکٹرانک میڈیا کے ہوگئے۔ظلمت کے ایام میں کئی نظمیں ،مسلسل غزلیں اورمتفرق اشعار زبان زد عام ہوئے۔۔۔

دھرتی کے خدا شعلہ قندیل گرادیں
ممکن ہو جو پھونکوں سے تو سورج کو بجھادیں
یہ سبط پیمبرکالہو چاٹنے والے
کیسے بھلا اجداد کی سنت کوبھلادیں؟
مقتل کو چلا پھر کسی شبیرؑکااصغرؑ
کہہ دو انہیں اس دور کے حرمل کوصدادیں
گرچاہیں یہ مسجد ہو کلیسا ہو کے مندر
پتھر کو زباں دیں کسی ممبرپہ بٹھا دیں
یہ بات شہید ان کے نہیں بس میں وگرنہ
یہ درمیاں دو سانوں کے دیوار اٹھا دیں۔

شہیدسے یاد آیا،،،ولید سے اُن کا تخلص شہید ہوا۔
اردگرد کو روشن رکھنے کی خواہش میں اس درویش کی خامشی یوں چیخ بھی بنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بجھنے لگی نظر تو مجھے بولنا پڑا
جلنےلگاجوگھرتومجھےبولنا پڑا
آنکھوں سےنفرتوں کاٹپکنےلگا لہو
کٹنے لگے جو سر تو مجھےبولنا پڑا
فاقوں کی سولیوں پہ بڑی مصلحت کے ساتھ
چڑھنے لگے بشر تو مجھے بولنا پڑا
تنہائی کھاچکی میرے آنگن کی رونقیں
چیخے جو بام ودَر تو مجھے بولنا پڑا
باد سموم لے اڑی پتوں کاآشیاں
چپ ہوگئے شجر تو مجھے بولنا پڑا

خیر اُن کی شاعری ،اُن کی شخصیت،متاثرکُن،صحافت میں آغازسے اب تک اپنے احباب کے لئےپُرخلوص رویوں کی علامت پی یو جے ،پریس کلب ہو،،،ایمرا،،،ایمپرا،،،یا کوئی اورکمیونٹی پلیٹ فارم ،،،اورنئے آنے والوں کے لئے شجر سایہ دارجب کہ تمام دوستوں کومتحد رکھنے کی کاوش کا دوسرا نام،فاطر شاہ۔۔۔
آج اس علامت کو عَلم بنانے کی ضرورت ہے
ان جیسوں کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں جوبلا تفریق،اپنی برادری کو ناموں سے پکارتے ہیں،ان کی عادات اورخصائل سے انہیں جانتے ہیں،ان میں زندہ ہیں ان کے لئے زندہ ہیں۔۔۔شاہ صاحب کا
پھر وہی شعرذہن میں گونج رہا ہے
خدا اسے ہی تو کہتے ہیں جس کو قدرت ہو
تو میری روح پہ قادر ہے تو خدا ہوگا۔۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *