Monday , September 24 2018
ہوم > کالم > ۔”ٹرمپ کارڈ”کے دنیاپراثرات۔۔۔(حصہ دوئم)۔۔۔تحریر،رائے صابرحسین

۔”ٹرمپ کارڈ”کے دنیاپراثرات۔۔۔(حصہ دوئم)۔۔۔تحریر،رائے صابرحسین

ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں نیٹو، سیٹو اور ایساف و دیگر کیلئے کوئی اہمیت نہیں۔ وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ یورپ کو اپنی سلامتی کا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ اِسی طرح جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک میں موجود افواج کے اخراجات کا مزید بوجھ متعلقہ ممالک پر پڑے گا تو بھی امریکہ سے بدظن ہوں گے۔ امریکہ افغانستان سے اپنی افواج نکال اور ایران اور سعودی عرب سے فاصلے بڑھا لے گا۔

اگرچہ روسی صدر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان خیرسگالی کے جذبات کا اظہار ہو رہا ہے مگر تجزیہ نگار درون پردہ “دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے” کی گردان کرتے نہیں تھکتے۔

بادی النظر میں یوں دکھائی دیتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ پیوٹن امریکہ کو گھیر کر، ڈونلڈ ٹرمپ جذبات کی رو میں بہہ کر حکم دیں گے یا اسٹیبلشمنٹ اپنی من مرضی سے فیصلہ کرے گی، شام میں لے آئیں گے اور ٹرمپ امریکہ کیلئے گورباچوف ثابت ہوں گے۔

امریکی میڈیا ڈونلڈ ٹرمپ کا کبھی ساتھ نہیں دے گا۔ دونوں کے درمیان اَن بَن رہے گی اور ذرا سی بات کو ہوا دے کر خوب اچھالا جائے گا۔ اِسی طرح ٹرمپ کے سرکاری اداروں سے بھی مراسم کشیدہ رہیں گے۔ جب خاکسار نے حال ہی میں گرین کارڈ حاصل کرنے والے اپنے دوست شبیر میو سے دریافت کیا کہ کیا سرکاری ادارے ڈونلڈ ٹرمپ کی بات ماننے سے انکار کر دیں گے تو وہ دیر تک ایک ہی گردان کرتے رہے”یہ پاکستان نہیں ہے”، “یہ پاکستان نہیں ہے”۔ یعنی یہاں حکمرانوں کو من مرضی نہیں کرنے دی جا سکتی۔

ڈونلڈ ٹرمپ معمر،بددماغ،جذباتی اور “یس باس” سننے کے عادی ہیں، مزاج کے برعکس ردعمل پر سرکاری اداروں اور صدر کے مابین نہ صرف خلیج بڑھے گی بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی جنگ بھی شروع ہو جائے گی جس سے امریکی معیشت و سیاسی زندگی میں بھونچال آ جائے گا۔

امریکہ میں جہاں عیسائیوں کے تینوں بڑے گروہ کیتھیڈرل، پروٹسٹنٹ اور آرتھوڈاکس پائے جاتے ہیں، وہیں بکرے کے سر والے شیطان “بافومت” کے پیروکار الومیناتیز بھی موجود ہیں۔ کیلی فورنیا سمیت دیگر ریاستوں میں اِن کا بہت زور ہے، الومیناتیز نے ہی نیو ورلڈ آرڈر جاری کر رکھا ہے اور پوری دنیا پر ایک ہی نظام نافذ کرنا اِن کا خواب ہے۔ یہ نظام “شیطان کے پیروکاروں کا نظام” ہو گا۔ ایک آنکھ کا تصور بھی اِسی تنظیم نے متعارف کرایا ہے۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ذریعے پوری دنیا کی دولت، اختیار اور طاقت چند افراد کے پاس آ گئی ہے، دنیا بھر کی دولت صرف آٹھ افراد کے ہاتھوں میں سمٹ چکی ہے اور وہ یہودی ہیں۔ یہ تنظیم یہودیوں کو دنیا پر مسلط کرنا چاہتی ہے (اسرائیلی ریاست کا قیام اِسی فکر و نظریہ کے تحت عمل میں لایا گیا تھا) اور اُن کے ذریعے شیطانی نظام رائج بھی ۔۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو گورے عیسائیوں نے منتخب کرایا ہے اور وہ اپنی اکثریت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں مگر اِس کے ساتھ ساتھ وہ بھی اسرائیل کی بقاء چاہتے ہیں، تو کیا ڈونلڈ ٹرمپ اور الومیناتیز ایک پیج پر ہیں۔ نہیں، ایسا نہیں ہے، اگرچہ دونوں کے درمیان ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں اسرائیل کے حمایتی ہیں مگر مقاصد دونوں کے الگ الگ ہیں۔

الومیناتیز یہودیوں کے تعاون و اشتراک سے دنیا بھر میں شیطانی ایجنڈا نافذ کرنا چاہتے ہیں، اِس لیے وہ اسرائیل کی سرپرستی کرتے نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف عیسائیوں کا خیال ہے، اسرائیل آباد ہوگا تو ہی حضرت عیسیٰ ؑ دنیا میں دوبارہ آئیں گے اور اُن سے جنگ کریں گے۔ اِسی لیے گورے عیسائی اسرائیل کو تو کچھ نہیں کہیں گے مگر شیطان کے چیلوں کیخلاف کریک ڈاؤن ضرور کریں گے۔ اگر یہ کریک ڈاؤن ہوا تو کیلی فورنیا سمیت کچھ ریاستیں متحدہ امریکہ سے علیحدگی کا اعلان کر دیں گی۔

اِسی طرح گورے عیسائیوں کی اکثریت برقرار رکھنے کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلمانوں اور ہسپانوی عیسائیوں کیخلاف جو بھی اقدام کرنا پڑا، کر گزریں گے۔ اِن اقدامات کے باعث امریکی معیشت تباہ ہو گی اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔

نائن الیون کی جھوٹی واردات اور صدر بش کی بڑھک امریکہ کے غرور و تکبر کی ناقابل تردید علامت تھی، افغانستان پر حملہ کے دن سے اُس کا زوال شروع ہو چکا ہے، امید کی جا سکتی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورحکومت تک سپرپاور ریاست ہائے متحدہ امریکہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے گی۔ اِن شاءاللہ۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *