ہوم > کالم > بھینسا اور اُس کا مستقبل۔۔۔۔۔۔۔تحریر،محمدوقاص غوری

بھینسا اور اُس کا مستقبل۔۔۔۔۔۔۔تحریر،محمدوقاص غوری

بابا جی نے سالوں پہلے بتایا تھا کہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی جانور چھپا ہوتا ہے ۔لیکن سچ پوچھیں تو مجھے معرفت کی یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی ۔کئی بار لوگوں کے چہروں کے خدوخال سے اندازہ لگانے کی کوشش بھی کی ،کسی کو کمزور دیکھا تو چوہے سے تشبیہ دی کسی کو حد سے زیادہ وفادار دیکھا تو کتے سے ،ایام جاہلیت میں تو کئی حسیناؤں کی چال دیکھ کر ہرن کا گمان ہوا ،کوئی شیر کی طرح دھاڑا تو اس کوشیر مان لیا ۔تاہم وقت نے ثابت کیا کہ یہ سب اندازے اور قیافے ہیں ۔ چوہا کسی سے بھی خوفزدہ نہیں ہو رہا ، ہرنوں کی نزاکت بھی جعلی ہے اور “کتوں” میں سب کچھ ہے لیکن وفاداری نہیں اور تو اور جس کو ہم شیر سمجھے تھے وہ پورے جنگل کی بجائے صرف اپنی حفاظت میں سنجیدہ ہے ۔کڑا وقت آئے تو سب سے پہلے جنگل چھوڑ کر بھی وہی بھاگتا ہے ۔ان تلخ تجربات کے بعد ہم نے ایسے فرسودہ تصورات دماغ سے جھٹک دیے ۔فیصلہ کیا کہ انسانوں کے اندر کے جانور کو ڈھونڈنے سے بہتر ہے کہ جانوروں میں انسانیت تلاش کر لی جائے جو زیادہ آسان بھی ہے ۔ ۔مگر تقدیر کا لکھا کون ٹال سکتا ہے کہ مصداق آج کل ایک گمشدہ ” بھینسا”اپنی جانب متوجہ کرنے میں پھر کامیاب ہو گیاہے ۔جہاں دیکھو ہر کوئی بھینسے کے درد میں مرا جارہا ہے ۔سوٹڈ بوٹڈ انکل ہوں یا موم بتیوں والی آنٹیاں سب کی زبان پر بھارتی فلم “کرن ارجن “کی دکھیاری ماں کی طرح ایک ہی سوال ہے ۔میرا “بھینسا” کہاں ہے ۔۔؟میرا بھینسا کب آئے گا ۔۔؟ ہر سمت سے پیدا ہونے والی بھینسا بھینسا کی صدائیں سن کر ہم میں بھی درد دل جاگ اٹھا کہ آخر بیچارہ “بھینسا “کسی کو کیا تکلیف دے رہا تھا کہ اس کو غائب کردیا گیا ۔ویسے بھی کسی بے زبان جانور کو قید کرنا انسانیت کے خلاف ہے ۔یہی سوچ کر اس حوالے سے تحقیق کی تو الگ ہی انکشافات ہوئے کہ ہم جس سے ہمدردی کرنے کا سوچ رہے تھے یہ کوئی بیچارہ یا بے زبان جانور نہیں بلکہ ایک لمبی زبان والا”بھینسا” تھا ،جو سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کے عقائد کے درو دیوار پر بپھرے سانڈ کی طرح حملے کرتا تھا ،ایسی ایسی منطق بیان کرتا جس سے لاکھوں لوگوں کی دل آزاری ہوتی ۔اس کا خاص نشانہ اسلام ،پاکستان اور دو قومی نظریہ تھے ۔ ان حساس معاملات پر ” بھینسا “ایک خاص نقطہ نظر پیش کر رہا تھا تاکہ نئی نسل کو کنفیوژ کیا جا سکے اور نوجوانوں کے دل میں شک کا بیج بویا جا سکے ۔ہزاروں لوگوں نے اس کے خلاف رپورٹ کی لیکن “بھینسا”آئی ٹی کا بھی ماہر نکلا سو کسی کے ہاتھ نہ آیا ،یہی وجہ ہے کہ کافی عرصہ تک بلارکاوٹ لوگوں کے دماغوں میں زہر بھرتا رہا ۔
قارئین !پاکستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جو بظاہر تو ہمارے جیسا ہے لیکن پس پردہ ایسے خیالات و نظریات کا حامل ہے کہ کافر بھی شرما جائیں ،ایسے لوگوں کے لیے” بھینسا “ہی معلومات کاخزانہ تھا ۔اس لیے میں بھینسے کی گمشدگی پر ان لوگوں سے بھی اظہار افسوس کرنا چاہتا ہوں کہ اب انہیں بوسیدہ معلومات ڈھونڈنے کے لیے کھجل ہونا پڑے گا ۔شاید یہی وجہ ہے کہ جب “بھینسے” پر ہاتھ ڈالا گیا تو ان لوگوں کی دم پر بھی پاؤں آ گیا اور ان خواتین حضرات نے الماریوں میں رکھی موم بتیاں نکال لیں ۔وہ تو اللہ کی کرنی کہ دو تین روز سے موسم بہت سرد ہے اور ملک میں بارشیں ہو رہیں ورنہ ان لوگوں نے موم بتیاں جلا جلا کر حشر اٹھادینا تھا ۔بھینسے کے ہمدردوں کے ساتھ اب زرا” بھینسا ” کے اصل مالکان کا ذکر بھی کر ناضروری ہے ۔ بعض مستندزرائع بتاتے ہیں کہ اس کے مالکان بیرون ملک ہیں اور باہر سے ہی بھینسے کے چارے کا بندوبست کیا جارہا تھا ۔دو روز قبل امریکہ کے محکمہ خارجہ نے جب “بھینسا “پیج کو چلانے والے ایک پروفیسر اور اس کے ہمنواؤں کی گمشدگی پر آواز بلندکی تو یقین مزید پختہ ہو گیا کہ معاملہ “ایویں ” نہیں بلکہ اس کے تانے بانے بہت اوپر جا کر ملتے ہیں ، امریکی ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ انتظامیہ تمام صورتحال پر پوری طرح نظر رکھے ہوے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ امریکی جن لوگوں پر نظر رکھیں وہ کوئی عام لوگ نہیں ہوتے ۔تمام صورتحال اور شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے خدشہ ہے کہ “بھینسا “اب زیادہ دن قید میں نہیں رہے گا ۔کیونکہ اس کے مالکان اور ہمدرد تگڑے ہیں ورنہ ایسے بھینسے اور جانور تو ہمارے اداروں کی دو گھنٹوں کی مار ہیں ۔جس کی حالیہ مثال لاہور کے علاقے نشتر کالونی میں دیکھنے میں آئی جب ایک بھینس آؤٹ آف کنٹرول ہوکرمقامی سکول میں گھس گئی اورٹکریں مار کر پانچ بچوں کو زخمی کردیا ۔ وہ مقامی بھینس تھی اس لیے پولیس فورا حرکت میں آئی اور اس کو جکڑ لیا ،ساتھ ہی اس کے دو مالکان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ۔حالانکہ وہ بھینس کسی خاص “مشن “پر نہیں تھی اور اس نے حادثاتی طور پراسکول کے پانچ بچوں کو زخمی کیا ۔دوسری طرف یہ” بھینسا “ہے جس نے ایک سازش کے تحت لاکھوں ذہنوں میں زہر گھولنے کی کوشش کی اور ایسی ایسی باتیں کی جنہیں تحریر میں لانا بھی ممکن نہیں ۔بھینس کو تو اپنے کیے کی سزا مل گئی لیکن کیا “بھینسا” اپنے کرتوتوں کی سزا پائے گا۔۔؟ یا اس کے طاقتور مالکان جلد ہی اس کو چھڑوا کر اپنے پاس باہر بلا لیں گے ،جہاں وہ کھل کر اسلام ،پاکستان اور دو قومی نظریے کے خلاف زہر افشانی کرے گا اور اگر ہم آج اس پر زنجیر نہیں ڈال سکے تو کل تو یہ ہماری رسائی سے بھی دور ہو گا ۔

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *