Friday , October 19 2018
ہوم > کالم > یہودیوں کا ایجنٹ اوردینی مدرسے۔۔۔تحریر/امتیازاحمد شاد

یہودیوں کا ایجنٹ اوردینی مدرسے۔۔۔تحریر/امتیازاحمد شاد

نائن الیون کے بعد کی دنیا یکسر تبدیل اورزیادہ منہ زور دکھائی دیتی ہے ۔ دہشت گردری اوراس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ ایک شکل اختیار کرچکی ہے کہ ہمرکاب ایک دوسرے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ نائن الیون کے فوری بعد جس شدت سے دنیایلغار کو دوڑی ٗ اس سے زیادہ خاموشی سے پسپائی اختیار کرگئی مگر پاکستان کو اس جنگ میں تنہا چھوڑدیا گیا۔یہ دنیا کی لڑائی پاکستان کے گلی کوچوں میں لڑی جانے لگی۔ پاکستان میں اندرونی اوربیرونی دونوں محاذوں پر ایسا طوفانِ بدتمیزی نمودار ہوا کہ عوام بیچاری جو پہلے ہی بسترِ مرگ پر تھی مزید سَکتے میں چلی گئی مگر بھلا ہوعسکری قیادت کا جس نے ضرب عضب کے ذریعے معاملے کو قابو کیا اورعوام میں پھر ایک امید کی کرن جاگ اٹھی۔حکمت ودانش کے تمام اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بات چیت اورہتھیار دونوں کا استعمال بخوبی کیا گیا جس کے نتیجے میں وطن عزیز بہت بڑی تباہی سے بچ گیا اوریہ عمل ابھی رکا نہیں بلکہ جاری ہے۔مگر بدقسمتی سے وطن عزیز میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو فقط اپنی ذات اورذاتی مفادات کی خاطر وطن عزیز کے امن کو برداشت نہیں کرسکتے۔تھوڑا عرصہ پہلے پاکستان کا کون سا شہر ایسا تھا جہاں پر خون کی ہولی نہ کھیلی جارہی تھی۔اس تمام افراتفری اورخون وخشت کا ذمہ دار اسلام کو ٹھہرایا گیا۔عسکری ماہرین اس پر بخوبی روشنی ڈال سکتے ہیں کہ جنگ لڑنے کے کئی طریقے ہوتے ہیں جن میں اسلحہ کا استعمال تو یقینی ہے مگر نفسیات کو سمجھتے ہوئے ماحول اورحالات کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں۔خیبرپختونخوا حکومت نے بجٹ میں جامعہ حقانیہ کے لیے تیس کروڑ روپے کی گرانٹ مختص کی ہے جس پر حکومتی ایوانوں سے لے کر قصیدہ گو افراد تک سب کے سب بصانت بصانت کی بولیاں بول رہے ہیں۔اسلامی مدارس کی تاریخ ہے کہ یہ مخیر حضرات کے تعاون سے چلتے آئے ہیں ۔ پاکستان میں مخیر حضرات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ان اداروں میں طلباء وطالبات کو صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ طعام وبسرام کی سہولیات بھی میسر ہیں۔اوریہ سب کام مخیر حضرات کی مدد سے انجام پاتا ہے ۔ کم وبیش بائیس لاکھ طالب علم ان دینی مدارس میں زیرِ تعلیم ہیں ۔ اگر یہ دینی درس گاہیں بند ہوجائیں تو سوچیں کیا ریاست میں اتنی سکت ہے کہ جس میں پہلے اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں ٗ وہ ان بائیس لاکھ بچوں کی کفالت کرپائے۔خدارا کچھ رحم کریں محض سیاست اوردانشوری کی دکانیں چمکانے کے چکر میں جلتی پر تیل کا کام مت کیجئے ۔ خیبر پختونخوا حکومت نے کوئی انہونی نہیں کردی کہ تمام لوگ میانوں سے تلواریں نکال کر میدان میں اتر آئے ہیں ۔ کیا حکومتیں سرکاری سکولوں ٗ کالجوں اوریونیورسٹیوں کو فنڈز نہیں فراہم کرتیں۔کیا نجی تعلیمی اداروں اوراین جی اوز اورصحافتی تنظیموں کو نہیں نوازتیَ بقول آپ کے کہ یہ دہشت گردی کی آماجگاہیں ہیں تو کہیں آپ بھی ان کے لیے تمام دروزے بند کرکے انہیں معاشرے کا حصہ ماننے سے انکار تو نہیں کررہے۔ایک دانشور جو عمران خان کو مشورے دینے میں کوئی ثانی نہیں رکھتے ٗ فرماتے ہیں کہ خان صاحب نے ایک دینی درس گاہ کے لیے فنڈ مختص کرکے بہت بڑی سیاسی غلطی کی ہے اوراس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پولیٹیکل سائنس کا بنیادی نقطہ ہی نہیں سمجھتے ۔ انہیں عوامی احساسات کا ادراک ہی نہیں ہے۔عوامی احساسات یہ ہیں کہ ان تعلیمی اداروں کا گلہ گھونٹ دیا جائے جہاں صرف غریب گھرانوں کے بچے زیر تعلیم ہی نہیں ٗ زیرِ کفالت بھی ہیں؟کیا عمران خان بھی دینی فیصلے کرتے جو یورپ اورامریکہ کو پسند آئیں؟یورپ اورامریکہ کے فیصلوں کے مطابق ریاستی امور چلانا عوامی احساسات کے عین مطابق ہے؟ دور کی بات کیا کرنی ٗ لاہور شہر میں درجنوں ایسے مدارس ہیں جن میں صاحبِ اقتدار لوگوں کے ناموں کی تختیاں آویزاں ہیں اوران کے تعاون کی فہرستیں بھی دیکھی جاسکتی ہیں جو کہ تمام رقوم خفیہ انداز میں ثواب کی نیت سے پیش کی گئی تھیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایمان کی کچھ قدریں ہمارے اعلیٰ عہدایداروں میں باقی ہیں جبکہ عمران خان نے تو باقاعدہ سرکاری بجٹ کا حصہ بناتے ہوئے دوسرے سرکاری اورنجی سکولو ں ٗ کالجوں اوریونیورسٹیوں کی طرح رقم کی مختص کی ہے جس کا باقاعدہ آڈٹ ہوگا اورمعاف کیجئے گا یہ بارش کا پہلا قطرہ اس شخص کی طرف سے تھر کے صحرا میں گرا ہے جسے مذہبی پنڈت یہودیوں کا ایجنٹ قرار دے چکے ہیں ۔مولانا فضل الرحمن ہر حکومت کے ساتھ رہے ہیں ٗ بڑے بڑے مدارس کے منتظمین اُنہیں اپنا سیاسی لیڈر تسلیم کرتے ہیں ٗ وہ تو کبھی بھی یہ فیصلہ نہیں کروا پائے ۔اللہ تعالیٰ اُنہیں ہدایت دے ۔کیا اس کو آپ عمران خان کی کامیابی تصور نہیں کرتے کہ جس مدرسے کو آپ دہشت گردوں کی آماجگاہ قراردے رہے ہیں اورجس کے مہتمم میں کو آپ دہشت گردوں کا روحانی باپ تصور کرتے ہیں ٗ اسی کے ادارے کو عمران خان نے قومی دھارے میں لانے کے لیے راضی کرلیا ہے۔اس کارِ خیر میں تو تمام صوبائی اورمرکزی حکومتوں کو آگے بڑھنا چاہئے اوریہ وقت ہے کہ ان کو قومی تعلیمی اداروں کے درجہ پر لایا جائے اورسرکاری تعلیمی اداروں کی طرح ان کو بھی فنڈز مہیا کیے جائیں اورچیک اینڈ بیلنس کا مؤثر نظام بنایا جائے تاکہ دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔معاملے کی نزاکت کو سمجھا جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ بغضِ عمران خان میں آپ تمام حدیں ہی پار کرجائیں اورآپ جانے انجانے میں (میرے منہ میں خاک)ضربِ عضب کو نقصان نہ پہنچا بیٹھیں۔یہ کوئی صدیوں پرانی حکایت نہیں بلکہ کل کی بات ہے کہ آپ تمام مولانا سمیع الحق کے قدموں پر تھے ۔ اخبارات اورٹیلی ویژن کی سکرین چِلّا چِلّا کر بیان کررہے ہیں کہ ایوانوں میں آپ میزبان تھے اورمولانا سمیع الحق مہمان تھے۔ آج اتنی بے چینی کیوں؟ عمران خان نے کوئی احسان نہیں کیا بلکہ قوم کے غریب اورمتوسط طبقہ کے بچوں کی کفالت جو کہ حکومتِ وقت کا فرض ہے ٗ اسے نبھانے کے عمل کا آغاز کیا ہے۔عمران خان نے یہ فیصلہ اس وقت کیا ہے جب دنیا ان مدارس کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھ رہی ۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جو فیصلہ کرے اوراس پر ڈٹ جائے اوراس کا مظاہرہ گذشتہ روز عمران خان کرچکے ہیں ۔ اب یہ خیبر پختونخوا حکومت کا امتحان ہے کہ صوبے کے تمام تعلیمی اداروں کو قومی دھارے میں لائے اوریکساں جدید تعلیمی نظام کا نفاذ کرے جو دوسرے صوبوں کے لیے بھی ایک مثال بن جائے۔استاد دامن پنجابی کے مشہور شاعر گزرے ہیں ۔ ایک دفعہ انٹرویو کے دوران صحافی نے ان کے حجرہ میں چوہوں کی موجودگی اوران کو دیسی گھی کی چوری بھرے برتن کی طرف توجہ دلائی کہ آپ خود خشک روٹی کھا رہے ہیں جبکہ انہیں دیسی گھی کی چوری کھلا رہے ہیں جبکہ آپ کے کمرے میں موجود کتابوں کو نقصان پہنچائیں گے ۔ اُستاد دامن کا جواب ایک تاریخی جملہ تھا کہ ان کا بھی پیٹ ہے ٗ انہیں بھوک لگتی ہے ٗ جب ان کا پیٹ بھر جائے گا تو پھر یہ میری کتابوں کو کیوں کر کھائیں گے؟اس بات کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب آپ دینی مدارس کو فنڈز کی فراہمی کرکے دوسرے تعلیمی اداروں کی طرح باعزت طریقے سے سہولیات فراہم کریں گے تو یقیناًان میں احساسِ محرومی ختم ہوگا اوروہ بھی اپنے آپ کو باعزت شہری محسوس کریں گے اورملکی فلاح وترقی میں اپنا کردار اداکریں گے۔بصورتِ دیگر پھر کوئی ضیاء الحق آئے اورانہیں بندوق تھما دے گا اورپھر کوئی مشرف آئے گا اورلال مسجد کو میدانِ جنگ بنا دے گا ۔ پھر وہی خون وخشت کی ہولی کھیلی جائے گی اورریاست کی رٹ چیلنج ہونے لگے گی۔کچھ تو حکمت اوردانش ہوتی ہے ٗ کبھی تو شعور کا تدراک کریں۔وہ آکسفورڈ سے پڑھ کر یہودیوں کی (بقول آپ کے)تربیت لے کر وطنِ عزیز میں امن کے لیے دینی درس گاہوں کو فنڈز فراہم کررہا ہے ۔ انہیں قومی دھارے میں لانے کی کوشش کررہا ہے اورآپ اس عمل کو بھی سیاست کی نذر کررہے ہیں ۔ اس وقت معاشرے کے تمام طبقات میں عجیب سی بے چینی اورپریشانی ہے ٗ خدا را اپنے اپنے حصے کا کام کیجئے ٗ لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھیں ٗ نمک پاشی کا کام بہت ہوچکا ٗ اب یہ قوم اورریاست اس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *