Sunday , September 23 2018
ہوم > کالم > اللہ تعالیٰ کی نشانی جھٹلانے والوں کا انجام۔۔۔تحریر/رائے صابرحسین

اللہ تعالیٰ کی نشانی جھٹلانے والوں کا انجام۔۔۔تحریر/رائے صابرحسین

کتاب ہدایت کہتی ہے”اِن سے فرما دیجئے کہ تم دھرتی پر گھومو پھرو اور نگاہ عبرت سے دیکھو کہ اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا؟؟” پھر اللہ فرماتے ہیں:تو کیا تم غوروفکر نہیں کرتے!!! ہر نبی کو باری تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی معجزہ عطا فرمایا۔ حضرت صالح علیہ السلام کا معجزہ اُن کی اونٹنی تھی۔ وہ سارا دن گلیوں میں پھرا کرتی تھی۔ صالح لوگ اُسے کھلاتے پلاتے اور اُس سے محبت کا اظہار کرتے، فاسق لوگ اُسے ایذا پہنچاتے۔ اونٹنی اللہ کا معجزہ تھی اور چوں کہ اللہ کو اپنے نبی کی ہر شے سے پیار ہوتا ہے، اِسی لیے جو اونٹنی سے محبت کرتا،اللہ کی رحمت اُسے ڈھانپ لیتی اور جو ایذا رسانی سے کام لیتا، اُس پر عذاب نازل ہو جاتا! جناب اشفاق احمد اکثر کہا کرتے تھے کہ پاکستان اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے بالکل حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی طرح ،،،،،، جو پاکستان سے پیار کرے گا، پھلے پھولے گا اور جو نقصان پہنچائے گا، عبرت کا نشاں بن جائے گا۔ ویسے تو تاریخ پاکستان، جو زیادہ طویل نہیں، ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے مگر اِس بات کو سمجھنے کیلئے سب سے اہم اور موثر سبق سانحہ سقوط ڈھاکہ کے کرداروں کے انجام میں مضمر ہے۔ محرومیوں کے مارے،ظلمتوں کے شکار اور مفلوک الحال بنگالیوں نے1970ء کے انتخابات میں عوامی لیگ کی قیادت پر اعتماد کیا تو فوجی صدر جنرل یحییٰ خان نے شیخ مجیب الرحمن کو اقتدار سونپنے کے بجائے قید میں ڈال دیا۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو نے اُدھر تم اِدھر ہم کا نعرہ لگا دیا۔ عوامی لیگ کے جوانوں نے مکتی باہنی بنا لی اور پارٹی قیادت نے “بنگلہ دیش ” کے قیام کا اعلان کر دیا۔ بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے پاک فوج سے لڑنے کیلئے نہ صرف بنگالی نوجوانوں کو اسلحہ و تربیت دی بلکہ عالمی سرحد عبور کرتے ہوئے مشرقی پاکستان میں اپنی افواج بھی داخل کر دیں۔ جنرل نیازی نے پلٹن میدان میں جنرل اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور یوں پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔ اِس پر اندراگاندھی نے پارلیمنٹ میں نعرہ لگایا: آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا۔ اللہ کی نشانی کا مذاق اڑایا گیا اور پاکستان کو نقصان پہنچایا گیا تو رب العالمین کی لاٹھی حرکت میں آ گئی۔ بے آواز لاٹھی کی آواز آج ہر کوئی سن رہا ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے ٹھیک چار سال بعد ہی بنگلہ دیش میں جنرل ضیاءالرحمن نے بغاوت کر دی اور عنان اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اگست 1975ء میں شیخ مجیب الرحمن،اُن کی اہلیہ فضیلت النساء،تین بیٹے شیخ کمال،شیخ جمال اور دس سالہ شیخ رسل کو فوجیوں نے بھون ڈالا۔ اِس کے علاوہ شیخ مجیب کے بھانجے اور برادر نسبتی سمیت دیگر 13افراد بھی مارے گئے۔ سب کی نعشیں تین دن تک بے گوروکفن پڑی رہیں۔ اہل محلہ نے فوج کی اجازت سے انتہائی کسمپرسی کے عالم میں گاؤں والوں کی مدد سے انہیں سپردخاک کیا۔ شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ بیرون ملک ہونے کی باعث زندہ بچ گئیں۔ صرف شیخ حسینہ سیاست میں آئیں اور آج کل بنگلہ دیش کی وزیراعظم ہیں۔ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ کے رہنماؤں کو جس بے دردی اور بے حسی کے ساتھ جھوٹے مقدمات میں اُنہوں نے پھانسیاں دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، لگتا ہے، اُن کا انجام بھی اپنے پیشروؤں سے مختلف نہ ہوگا۔ )ان شاءاللہ ( موجودہ پاکستان میں جنرل ضیاءالحق نے 5جولائی 1977ء کو مارشل لاء نافذ کر کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو نظربند کر دیا۔ بعدازاں ذوالفقار علی بھٹو کو 51برس کی عمر میں 4اپریل 1979کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ انتہائی خاموشی کے ساتھ متوفی کو نوڈیرو میں قبر میں اتار دیا گیا۔ اُن کی اہلیہ نصرت بھٹو آخری ایام میں یادداشت کھو چکی تھیں اور انہوں نے دبئی میں وفات پائی۔ اُن کے چھوٹے بیٹے شاہنواز بھٹو محض تیس سال کی عمر میں 18جولائی 1985ء کو پیرس کے ایک ہوٹل میں پراسرار طور پر مردہ حالت میں پائے گئے۔ بڑے صاحبزادے مرتضیٰ بھٹو نے پاکستان کی پہلی دہشتگرد تنظیم “الذولفقار” بنائی۔ بہن وزیراعظم تھیں تو وہ کراچی کی شاہراہ پر 20ستمبر 1996ء میں مارے گئے۔ اُس وقت اُن کی عمر بیالیس برس تھی۔ بے نظیر بھٹو 27دسمبر 2007ء کو 54سال کی عمر میں لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک خودکش حملہ کا نشانہ بن گئیں۔ اُن کی ایک بہن صنم بھٹو زندہ ہیں، وہ سیاست میں نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری اور اُن کے بچوں کے ہاتھ میں ہے اور اُس کا جو حال ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو 1972ء میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنے تو انہوں نے صدرمملکت جنرل یحییٰ خان کو زبردستی معزول کر کے ایبٹ آباد میں اُن کے گھر میں نظربند کر دیا جہاں وہ آٹھ سال تک “قید” ہی رہے۔ اہل خانہ کے سوا کسی کو اُن سے ملنے کی اجازت نہ تھی۔10اگست 1980ء میں تریسٹھ برس کی عمر میں وہ گمنامی کی حالت میں مرے اور اپنے انجام کو پہنچے۔ سقوط ڈھاکہ کے تیرہ سال بعد اکتوبر 1984ء میں اندراگاندھی کے محافظ سب انسپکٹر بے انت سنگھ نے سرکاری پستول سے اُن پر تین گولیاں داغ دیں، دوسرے محافظ ستونت سنگھ نے سٹین گن سے تیس گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ واقعہ سے چار سال قبل جون 1980ء میں اُن کے چھوٹے بیٹے چونتیس سالہ سنجے گاندھی نئی دہلی ہوائی اڈے پر ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ بڑے بیٹے راجیو گاندھی کو 1991ء میں مدراس میں بھانو نامی خاتون نے خودکش حملہ میں اڑا دیا۔ راجیو کی اہلیہ سونیا اور بیٹا راہول گاندھی سیاست میں ہیں مگر سونیا وزیراعظم بن نہیں سکیں اور راہول لیڈر نہ بن سکا۔ نہرو خاندان کی سیاست قریباً اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔۔ اللہ کی نشانی باقی اور حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی زندہ ہے، پھر کیا بات ہے کہ آج بھی کچھ لوگ اِسے ایذا پہنچانے سے باز نہیں آتے حالانکہ کتاب ہدایت کہتی ہے،”اِن سے فرما دیجئے کہ تم دھرتی پر گھومو پھرو اور نگاہ عبرت سے  دیکھو کہ اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا؟؟ پھر اللہ فرماتے ہیں:تو کیا تم غوروفکر نہیں کرتے۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

3 تبصرے

  1. good Mr Roy

  2. khoob Sir.

  3. hmmmmmmmmmmmm

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *