Sunday , August 19 2018
ہوم > کالم > ٹرمپ ٗ جمہوریت اوررکشہ یونین۔۔تحریر/امتیازاحمدشاد

ٹرمپ ٗ جمہوریت اوررکشہ یونین۔۔تحریر/امتیازاحمدشاد

دنیا کوجمہوریت کا درس دینے کے لیے چمپئن ملک میں گزشتہ دنوں عام صدارتی انتخاب منعقد ہوا ٗجس میں دو امیدوار ہیلری کلنٹن اور ٹرمپ کے درمیان مقابلہ ہوا۔مروجہ اصولوں کی بنیاد پر دونوں فریقین نے تمام مراحل کو عبورکیا اورمقابلہ مباحثوں کی شکل میں فریقین کے اتارچرھاؤسے طے ہوتا رہا۔پوری دنیا کے مبعرین ہیلری کو مضبوط امیدوارکے طور پر پیش کرتے رہے۔میڈیاکی اکژیت ٹرمپ کو غیر سنجیدہ اور اناڑی کے طور پر پیش کرتی رہی۔مگر ٹرمپ نے جس انداز سے صدارتی مہم کا آغاز کیا انجام تک وہ لب ولہجہ مخاطب رہا۔ اس نے روائیتی انداز سیاست اورسیاسی چالبازیوں کو پس پست ڈالتے ہوئے ایک نئے نعرے اور سوچ کو جنم دیا جو امریکی عوام کو پسند آیا اور عوام نے ٹرمپ کو مستقبل کے لئے امریکا کا صدر منتخب کردیا ہے۔اسی کو جمہوریت اورجمہوری نظام کہتے ہیں مگراس انتخاب میں سے ایک چیز جو واضح ہوئی وہ امریکہ کی اصل شکل ہے۔ اس انتخاب نے امریکہ کے چہرے پر پڑامکاری کا پردہ نہ صرف اٹھا دیا بلکہ اسے تارتار کردیا ہے۔امریکہ جودنیا کو خاص طور پر مسلم ممالک کو عورت کی آزادی اورمقام کا درس دیتا پھر رہا تھا کہ اسلامی ممالک نے عورتوں کے ساتھ ناروا سکول رکھا ہوا ہے ۔ اس انتخاب میں امریکی عوام جس نے ٹرمپ کا ساتھ دیا یہ واضح پیغام دیا کہ ہم اپنے ملک پر عورت کی حکمرانی قبول نہیں کریں گے اورہیلری کو بطور خاتون نمائندہ بڑے بڑے اجتماعات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ہمارے نام نہاد لبرل ازم کے مارے دانشوروں کو یہ بات اب سمجھ لینی چاہئے کہ ٹرمپ کے ساتھ متعدد ریاستوں میں باقاعدہ مطالبہ کیاگیا کہ اب اپنی صدارتی مہم کے دوران عورت کے حق حکمرانی کو موضوع بنائیں اورعورت کو کم فہم ہونے کا طعنہ دیں تاکہ مرد ووٹرز کو متوجہ کیا جاسکے۔عوامی سطح پر زور پکڑنے والے اس نعرے نے ٹرمپ کو مزید تقویت بخشی کہ میں جیت کر مہاجرین کو ملک سے نکال دوں گا اوراس نعرے کو اس نے اپنے ابتدائی سودنوں کے ایجنڈے میں پہلے نمبر پر رکھا ہے۔ یہ بات اس چیز کو واضح کرتی ہے کہ ٹرمپ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ غیر امریکیوں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔دوسری طرف امریکہ دوسرے ممالک میں موجود مہاجرین کو نہ نکالنے کا درس دے رہا ہے بلکہ پوری طاقت سے انہیں منع کررہا ہے۔ اسلام اورخاص طور پر پاکستان امریکی صدارتی مہم میں سب سے زیادہ موضوع بنا رہا۔ٹرمپ نے اسلام اورمسلمانوں کی کھل کر مخالفت کی اورمسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دہشت گرد قراردے دیا ۔ اس کی اسلام اورپاکستان کے خلاف اس زبان درازی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے روایتی حریف ہندوستان نے بھی بھرپور واویلا کیا۔پوری دنیا کا میڈیا ٹرمپ کے ان تمام دعوں کو فضول جان کا اسے تمسخر کا نشانہ بناتا رہامگر ٹرمپ اپنے ہی نعروں سے صدارتی الیکشن جیت گیا۔پہلی دفعہ دھاندلی کا نعرہ ترقی پذیر ممالک خاص طور پر پاکستان سے نکل کر جمہوریت کے چمپئن امریکہ کے شہروں کے خلاف مظاہروں میں شدت آتی جارہی ہے اورافرادی قوت روز بروز بڑھتی جارہی ہے ٗ ہوسکتا ہے کہ یہ مظاہرے دھرنوں کی شکل اختیار کرلیں اوتحریک انصاف کا ریکارڈ بھی توڑ دیں مگر یہ بات نام نہاد لبرلز اورجمہوریت کے چمپئن کو معلوم ہونی چاہئے کہ تحریک انصاف کے دھرنوں میں لاشیں نہیں گری جبکہ امریکہ میں ہونے والے مظاہروں میں اب تک سات افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔اس صدارتی انتخاب کے دوران پیدا ہونے والے رجحانات سے اب مسلم ممالک کو یہ سبق سیکھ لیناچاہئے کہ مزید تذلیل سے بچنے کے لیے اپنا کوئی لائحہ عمل تیار رکیں اوراسلامی ممالک کو متحد کرکے اپنی آواز میں طاقت پیدا کریں وگرنہ ٹرمپ کے چار سال اسلامی دنیا کو تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کریں گے کہ پھر غوروفکر کا لمحہ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔آپ بھی اپنا کوئی 100سو دنوں کا ایجنڈہ پیش کریں اوراپنے ملکوں میں سے کفیل سسٹم پر کوئی نظرثانی کریں تاکہ مسلمِ امہ امریکہ ویورپ کی بجائے آپ کی طرف متوجہ ہو۔مؤدبانہ گزارش ہے کہ بحیرہ قلزم سے لے کر شطر العرب تک پھیلی ہوئی تیل کی دولت سے مالامال ریاستوں کو آگے بڑھ کر مسلم دنیا کی پسماندہ آبادی کا ہاتھ تھامنا چاہئے تاکہ کوئی الیکشن مسلمانوں کی تذلیل کرنے میں نہ لڑا جاسکے اورمسلمان گلی کوچوں میں رسوا نہ ہوں۔یہ جمہوری تماشہ جس ملک میں بھی لگتا ہے ٗ اس کا شکار ہمیشہ سے لگوں کی عزتیں ہی رہیں ۔ پاکستان ہو یا امریکہ مخالفین کو زیر کرنے کے چکر میں اخلاقیات کی تمام حدیں پارکردی جاتی ہیں ٗ جس کی وجہ سے شریف لوگ اس سسٹم سے دور رہتے ہیں۔گزشتہ دنوں لاہور میں ایک چھوٹی سی یونین کے الیکشن کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ تین گھنٹے کی اس نشست میں ایسا ماحول دیکھا کہ مجھے ٹرمپ اورہیلری کے جمہوری کلچر سے گھِن آنے لگی۔عوامی رکشہ یونین کے امیدواروں کو میں نے اس قدر مہذب پایا کہ کہ مخالف امیدوار دوسرے کو اپنی پلیٹ میں کھانا پیش کررہا تھا۔ہمارے معاشرے میں کنڈکٹرز ٗ ڈرائیورز کو بدزبان اوربدتہذیب تصور کیا جاتا ہے مگر میرے لیے یہ بات کسی معجزے سے کم نہ تھہ کہ درس قرآن کا اہتمام کیا گیا تھا اورتمام امیدواروان ایک دوسرے کو خندہ پیشانی سے مخاطب کررہے تھے ۔چیئرمین کے امیدوار حافظ مظہر جیلانی اورمجید غوری اپنے تمام ووٹرز کو کو کھانے کے دوران خود پانی پلا رہے تھے۔ اگر یہ جمہوری کلچر ہے تو پھر یقیناقومی اوربین الاقوامی سطح پر اس کلچر کو اپنانا چاہئے تاکہ بین الاقوامی اوربین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ ملے اورانسانیت کی فلاح ہومگر بدقسمتی سے جو جمہوری کلچر امریکہ کے صدارتی انتخابات کے دوران دیکھا گیا ٗ یہ ہماری پوری دنیا کا مزاج اوررویّہ بدل دے گا اوردنیا میں سوائے جنگ ٗ نفرت اوربدامنی کے اورکچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔دنیا کو بھی غور کرنا ہوگا کہ جیت ہارکے چکر میں ہم لوگوں کا انداز بیان اوراندازِ فکر کس طرف لے جارہے ہیں ۔ جمہوریت میں تو دوسروں کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے ٗ نہ کہ انہیں ملک سے نکالا جاتا ہے ۔ آخری میں فقط اتنا کہوں گا کہ جمہوریت کو جمہور کی اخلاقی ٗ معاشی اورشہری تربیت کے لیے استعمال کیا جائے نہ کہ نفرت اوربدزبانی کا بازار گرم کیا جائے۔

یہ بھی دیکھیں

میرا جسم، میری مرضی – خدیجہ افضل مبشرہ

سن 2011 میں فرانس سے شروع ہونے والی تنگ نظری کی وباء نے کل اسکینڈینیویا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *