ہوم > کالم > باتوں کی جنگ لاتوں سے۔۔آو خود پر ماتم کریں۔۔تحریر/محمدمناظرعلی

باتوں کی جنگ لاتوں سے۔۔آو خود پر ماتم کریں۔۔تحریر/محمدمناظرعلی

ویسے تو ہماری حالت مجموعی طورپرکمہار کے اُس سرکش گدھے سے کچھ کم نہیں جو ڈنڈے کے ڈر سے ہی سیدھی راہ پرچلتاہے،جب تک اُس کی دونوں طرف دو چار”سوٹے” نہ لگ جائیں اُسے ہوش نہیں آتی۔

 دفتر سے نکلے تو مال روڈکا راستہ اختیارکیاکیونکہ لاہور کی دیگر سڑکوں کی نسبت ہلکی بارش کے دوران یہاں سفر آسانی سے کٹ جاتا ہے، یہاں پانی جمع ہو بھی تودیگرسڑکوں کی نسبت کچھ کم ہی ہوتا ہے۔ ہائیکورٹ کی عمارت کے بالکل سامنے لوگوں کی ایک بڑی تعداد سڑک پر چل رہی تھی حالانکہ عدالت کی دیوار کیساتھ ایسا فٹ پاتھ ہے جو تجاوزات سے پاک ہے،لوگ اگر اسے استعمال کریں تو انہیں ذرا بھی زحمت نہ ہو مگر لوگ نجانے کیوں اپنا راستہ چھوڑ کر سڑک پر چل رہے تھے؟۔۔۔۔دو ،چارافراد تو گاڑی کے نیچے آتے آتے بچ گئے،بھلا ہو بریک بنانے والے کا، ورنہ آپ یہ کالم نہ پڑھ پاتے اور میں کسی حوالات میں شاید بند ہوتا،خدا ہدایت دے ان بھٹکے راہگیروں کو جو اپنی عقل کو بروئے کار نہیں لاتے،تبھی تو کہتے ہیں “جیسی عوام، ویسے حکمران” اور سچ بھی یہی ہے، نہ ہم خود ٹھیک ہونے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور نہ ہی قریب قریب یہ توقع ہے کہ کوئی ڈھنگ کے حکمران ہمیں مل پائیں گے۔

 خبروں کی “منڈی “میں کام کرتے کرتے تو بعض دفعہ یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ خبر کیا آگ لگا دے گی مگر گھر پہنچ کر آنکھیں کھلتی ہیں کہ بات جنگل کی آگ ثابت ہوئی ہے۔۔بس اِدھر سے خبر آئی اور اُدھر پراسس ہو کر ٹی وی پر چل گئی۔۔خبرکی بات چلی تو کراچی کے ایک سینئر صحافی کی یاد آگئی جو کہا کرتے تھے کہ” خبر چھپ کر ٹھیک ہو جائے گی” حالانکہ وہ اُسی خبر پر یہ کمنٹ دیتے تھے جو چلنے کے قابل ہوتی تھی۔۔۔۔۔خیر بات کہیں اور نکل گئی۔۔ہم بات عوام سے حکمرانوں کی طرف لے کر جا رہے تھے کہ جیسی عوام ویسے حکمران۔۔۔۔

 رم جھم میں دھیرے دھیرے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا کہ سڑک کنارے ایک جلیبی بنانے والے پٹھان کے پاس رک گیا کیونکہ یہ میری کمزوری بھی ہے اور پٹھان کی یہ دکان میری یادوں کی امین بھی ۔۔۔۔روزنامہ خبریں میں کام کے دوران فارغ ہو کر یہی سے جلیبی کھا کر میں اپنے گاؤں کے بشیر بھانڈ کی جلیبی کی یاد تازہ کیا کرتا تھا۔۔ٹھنڈے موسم میں اگر گرما گرم جلیبی مل جائے تو پھر مجھے اپنے ڈاکٹر اسرار الحق طور کی وہ بات بھول جاتی ہے جو انہوں نے آپریشن تھیٹر سے نکلتے ہوئے مجھے کہی تھی کہ بازاری تلی ہوئی چیز سے پرہیز رکھنی ہے۔۔دل کے ہاتھوں مجبور تھا، سو کھا لی، پھر یہی کھڑے کھڑے ایک حیرت بھی ہوئی کہ چار پانچ گاہکوں کے بعد آنے والے بے ترتیب اجسام کے مالک پولیس والے ہم سے بھی جلیبی پہلے لے گئے۔۔۔یہاں اپنی باری کا کون انتظار کرتا ہے؟؟ یہاں جس کا بس چلے اپنا کیا دوسرے کا بھی حصہ لے دوڑتا ہے جیسا کہ اقتدارکی کرسی  پر بھی چھینا جھپٹی ہوتی رہتی ہے۔۔ہماری اسمبلیوں میں بھی اقتدار کے بھوکوں نے آجکل خوب میلہ  لگا رکھا ہے۔۔اب تو ایوان حقیقی معنوں میں مچھلی منڈی بن چکے ہیں بس ایک آدھی ریڑھی کی ضرورت ہے یہاں۔۔۔جمعرات کو پاکستان کی دو صوبائی اور ایک قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی نے عالمی دنیا میں شرمسار کردیا۔۔۔کے پی کے اورپنجاب اسمبلی میں خاصی گرما رہی اوربات ہنگامہ آرائی تک بھی پہنچی مگر قومی اسمبلی میں تو حد ہی ہوگئی۔۔ پٹھان کی دکان سے جلیبی کا ایک بل کھایا اور ابھی منہ میں مٹھاس باقی ہی تھی کہ گھر پہنچ گیا،ٹی وی سکرین پر مختلف اینکرز کی عدالتیں لگی تھیں، ہر کوئی اپنا اپنا منجن بیچ رہا تھا،سیاسی جماعتوں کے ترجمان اپنی اپنی پارٹیوں کے موقف دیتے تھک نہیں رہے تھے، شیخ رشید تو میڈیا کی فیورٹ ڈش ہیں کیونکہ ان کا قد تو بے شک چھوٹا ہے مگر باتیں وہ کافی لمبی لمبی چھوڑتے ہیں یہی وجہ کہ شیخ صاحب ٹاپ ہیڈ لائنز میں ہی رہتے ہیں۔۔ہمارے دوست اینکر سیدعلی حیدر نے ان سے تابوت والی بات چھیڑی تو شیخ صاحب غصہ ہی کھا گئے شاید ابھی انہوں نے کھانا نہیں کھایا تھا جو انہیں لال حویلی میں سنا ہے خود ہی بنانا پڑتا ہے۔۔مجھے یوں لگا جیسے وہ شرمسار ہیں جو انہوں نے تابوت والا بیان دیا ہے، اُن کی شعلہ بیانیوں سے بھڑکنے والی آگ کی تپش اسمبلی کے فلور پر بھی محسوس کی گئی بلکہ وہاں بھی تقریبا آگ ہی لگی رہی۔۔ بعض سیاستدان ویسے جملہ نکالتے ہوئے اپنے منہ کا سائز بھی چیک نہیں کرتے کہ کہیں اُن کی بانچھیں ہی نہ پھٹ جائیں، بھلا معزز عدلیہ کے بارے میں  یہ بات کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ وہاں سے تابوت نکلیں گے،ایک ادارہ معزز ہے تو اپنی زبان اس سے تو دور ہی رکھیں۔۔۔تابوت کا لفظ بھی ان دنوں کافی استعمال ہو رہا ہے یہ میزائل داغا تو شیخ رشید نے تھا مگر اب فیصل آبادی رانے نے بھی اسے خوب استعمال کیا ہے۔۔رانا صاحب نے تو لڑاکی ساس کی طرح ایسے کرارا جواب دیا کہ شیخ رشید اور عمران خان کو بار بار پانی پینا پڑا ہو گا۔۔۔انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ سے ان کا تابوت نکلا تو پھر ایک تابوت لال حویلی سے نکلے گا اور دوسرا بنی گالا سے۔۔۔ ہر کسی کے لیے ویسے ضابطہ اخلاق ہیں تو پھر سیاسی جماعتوں کےلیے  بھی کوئی قاعدہ کلیہ ہونا چاہیے اور خلاف ورزی پر سزا بھی تاکہ غیر مہذب لوگوں کی چھٹی ہو جائے۔۔اور یہ ضروری بھی ہو چکا ہے کیونکہ قومی اسمبلی میں جمعرات کے روز طوفان بدتمیزی مچایا گیا،میڈیا کے ذریعے ساری دنیا میں مناظر دیکھے گئے جو ویسے تو پوری قوم کے لیے باعث شرم ہے مگر اس بدتمیزی میں شریک ہونے والوں کے لیے چلو میں پانی لےکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کا مقام ہے۔۔۔۔ویسے ٹی وی پر کچھ لوگ” فرما” رہے تھے کہ ایسا کئی ممالک میں ہوتا رہا ہے یہ کوئی پہلا اور انوکھا واقعہ نہیں۔۔۔مگر یہ کیسی اسمبلی ہے جہاں قانون سازی یا عوام کے مفاد کی بات ہونے کی بجائے دنگل بن جائے۔۔ دھکم پیل،گالم گلوچ،مکوں اور گھونسوں کی برسات دیکھ کر بالکل نہیں لگ رہا تھا کہ یہ کوئی مہذب قوم کے نمائندے ہیں۔۔۔ویسے ہم افسوس کریں کس پر؟؟؟؟ اُن پر یا پھر خود پھر؟؟ میرا خیال ہے اُنہیں اُن کے حال پر چھوڑ دیں، آو خود پر ہی ماتم کرتے ہیں۔۔۔کیونکہ ہم  ہی وہ مجرم ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دے کراسمبلی میں پہنچایاہے۔۔

یہ بھی دیکھیں

وئیر یو وانٹ ٹو گو۔۔؟؟؟۔۔تحریر:۔مناظرعلی

حجاب میں وہ خوبصورت لگتی ہے تواس میں اس کابھلاکیاقصورہے؟اسے معلوم ہے کہ عورت اپنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *