Wednesday , December 12 2018
ہوم > کالم > پانامہ لیکس اورمتحدہ اپوزیشن۔۔۔تحریر/پروفیسرامتیازاحمدشاد

پانامہ لیکس اورمتحدہ اپوزیشن۔۔۔تحریر/پروفیسرامتیازاحمدشاد

پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر معرض وجو دمیں آیا تھا مگر اسلام اوراس کے احکامات پر تو کئی تجربہ نہیں ہوا البتہ اوربہت سے تجربات ہوئے ہیں۔ کبھی آمریت تو کبھی جمہوریت ٗ کبھی احتساب تو کبھی این آراو ٗ کبھی قومی اداروں کو لوٹتے تو کبھی سوئس بینکوں کے کھاتے۔ہر بار نئے تجربات اورنئے کھلاڑی آزمائے گئے مگر نتیجہ صفر۔کبھی میمو سیکنڈل نے تہلکہ مچایا تو کبھی رینٹل پاورنے ملکی چولہیں ہلا کر رکھ دیں۔نجانے کیا کیا کہا اورسنا گیامگر افسوس کہ ملک اورقوم دونوں رسوا ہوئے ۔ فائدہ فقط ان کرداروں کو ہوا جو اس تمام کھیل میں متحرک نظر آئے۔آج پھر ہوا چلی ہے کہ چورپکڑے گئے ۔ تمام ثبوت ہاتھ آگئے وغیرہ وغیرہ۔پانامہ لیکس کی لپیٹ میں صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے بڑے بڑے ممالک اوروہاں کے معروف نام آئے ہیں۔ہر فرد اپنی حیثیت کے مطابق جواب دے رہا ہے ۔ کوئی مستعفی ہورہا ہے تو کوئی قوم کو اطمینان دلا رہا ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان کے اندر ہمیشہ کی طرح وہی پرانا ڈائیلاگ دہرایا جارہا ہے کہ ہمارے خلاف بین الاقوامی سازش ہورہی ہے ۔ملک کو ترقی کی شاہراہ سے ہٹایاجارہا ہے ۔ ملک کے وزیر اعظم اوراس کے خاندان کا نام آف شور کمپنیوں بنانے میں آچکا ہے۔تمام افراد قبول بھی کرچکے ہیں کہ یہ کمپنیاں ہماری ہیں ۔ اس کے باوجود یہ تکرار بھی جاری ہے کہ ہمارے خلاف اگر کوئی ثبوت ہے تو لاؤ۔ہمارے ہاں پانامہ لیکس کی اہمیت شاید اس لیے بڑھ گئی ہے کہ اس میں جناب وزیر اعظم صاحب اوران کے خاندان کا نام آرہا ہے اوراسی وجہ سے اپوزیشن پارٹیاں اس کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن کا قیام چاہتی ہیں جس کی باگ ڈور ملک کے قابل اعتماد ادارے کے چیف جسٹس کے ہاتھ ہونی چاہئے۔اسی سلسلے میں تحریک انصاف اورجماعت اسلامی نے 24اپریل کے دن کو کرپشن فری پاکستان اوریوم حساب کے نعروں کے ساتھ سیاسی سنڈے کے طور پر منایا۔اپنا حصہ بقدر جثہ جناب مصطفی کمال نے بھی سیاسی سنڈے میں ڈالا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تینوں پارٹیاں اپنے ساتھ اکٹھی ہوتی ہیں یا پھر ماضی کی طرح منتشر اپوزیشن کا کردار ادا کرکے حکومت کو اورمضبوط کرتی ہیں۔ اس وقت جماعت اسلامی کرپشن فری پاکستان کا نعرہ لے کر سراج الحق صاحب کی قیادت میں انتہائی متحرک نظر آتی ہے جس کی ایک جھلک سیاسی سنڈے کو دیکھنے کو ملی۔گو کہ عمران خان صاحب نے بھی سیاسی سنڈے پارتی کے یوم تاسیس کے طور پر منایا مگر کرپشن کے خلاف باقاعدہ مہم چلانے کے لیے لاہور کا انتخاب کیا۔ یہ ایک ایسا وقت ہے جس میں ملک کو دہشت گردی اورلوٹ مار سے بچانے کے لیے عسکری قیادت بھی اپنا کردار ادا کررہی ہے ۔ اگر اس وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کو درست سمت میں نہ ڈالاگیا تو پھر( میرے منہ میں خاک) وطن عزیز کے دشمنوں کے ناپاک عزائم پورے ہوں گے اورہم پھر سقوط ڈھاکہ کی طرح ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔لیکن یہ بات طے ہے کہ لفظوں کی جنگ سے یہ میدان نہیں ماراجائے گا۔اس کے لیے جناب سراج الحق اورمحترم عمران خان صاحب کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا اورقانونی ماہرین کی آراء کو مقدم جاننا ہوگا ورنہ دھرنے تو پہلے بھی ہوچکے نتیجہ کیا نکلا؟اپوزیشن کو ساتھ ملا کر چلنا ہوگا۔اگرپیپلز پارٹی کو جو کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر رکھتی ہے ساتھ نہ ملایا گیا اورمتحد ہوکر پوری توانائی سے حکومت کے خلاف نہ کھڑاہواگیا تو آپ یہ لاکھ اختلافات کا درس دیتے رہیں ٗ دھرنے کرتے رہیں ٗ یہ سب چائے کی پیالی میں اٹھنے والے طوفان سے زیادہ کچھ نہ ہوگا۔کرپشن کے اس ناسور کے خاتمے کے لیے یقیناًپوری قوم آپ کے ساتھ ہے مگر یہ تلخ حقیقت بھی اپنا وجود رکھتی ہے کہ عددی لحاظ سے پارلیمنٹ میں آپ کی تعداد وہ نہیں ہے جو کسی تبدیلی کا پیغام دے سکے۔اس کے لیے پیپلز پارٹی کو ساتھ ملانان انتہائی ناگزیر ہے ۔آگر سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اس میدان میں آپ کے ساتھ نہیں کھڑی ہوگی تو پھر آپ آپس میں ایک ورکنگ ریلیشن کمیٹی تشکیل دیں جس کا کام ملک میں موجود صاحب فکر افراد کو یکجا کرکے آپ کے متحدہ پلیٹ فارم پر لانا ہو تاکہ ملک کے تمام طبقہ فکر کی نمائندگی ہوسکے جو عوام کو اس حقیقت سے آگاہ کرے کہ ملک میں کرپشن کاخاتمہ کتنا ناگزیر ہے ۔تب جاکر آپ کی تحریک فیصلہ کن تحریک ثابت ہوگی۔جب کسان ٗ مزدور ٗ طلبہ اورصاحب فکر لوگ آپ کی ہاں میں ہاں ملائیں گے تو یقینامیاں صاحب کو اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرنا پڑے گا۔اقوام عالم میں اگر پاکستان کا پرچم بلند رکھنا ہے تو ہمارے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ اوپر سے صاف شفاف احتساب کا عمل شروع کرنا ہوگا۔کسی کو مقدس گائے کا درجہ نہ دیا جائے ۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جوسرمایہ پاکستان میں بھیجتی ہے ۔ اگر احتساب کے عمل کو تسلی بخش نہ بنایا گیا تو یقیناًپوری قوم کی طرح انہیں بھی مایوسی ہوگی اوران کا مضطرب ہوجانا اس بات کی دلیل ہوگا کہ ہم دنیا میں تنہا ہوجائیں گے۔ہر سیاسی جماعت میں اچھے اوربرے افراد موجود ہیں ٗ یقیناًاچھے افراد کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ اس وقت ان جیسے افراد کو اپنی اپنی پارٹی سے بالا تر ہوکر ملک کے لیے فکر کرنی چاہئے۔ملک کو ان کی آواز کی ضرورت ہے ۔ یقیناًوہ اس وقت لوٹ مار کرنے والوں کی مدد نہیں کررہے مگر ان کی خاموشی یقیناًلوٹ مار کرنے والوں کو حوصلہ دے رہی ہے۔یہ بات غور طلب ہے کہ میاں صاحب کا دفاع کرنے والوں کے پاس دلائل کی شدید کمی ہے ٗ جو بھی بات کرتا ہے ٗ اسے یہ کہہ کر چپ کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ تم بھی تو چور ہو اورافراد دفاع کرنے کرنے سے گریز بھی نہیں کررہے ہیں ۔ اسی لیے تو میاں صاحب کو خود میدان میں اترنا پڑاہے۔اس وقت وہ تخت یا تختہ کی پوزیشن میں ہیں ۔ لہٰذا اپوزیشن کا اتحاد اوریکسوئی کے ساتھ پانامہ لیکس کے معاملے کو اٹھانا وطن عزیز میں ایک نئی تاریخ رقم کرسکتا ہے۔شاید 2016ء میں ہی احتساب کا سال ثابت ہوجائے جس احتساب کو بعض لوگ دیوانے کا خواب سمجھتے ہیں۔ یہ صرف اپوزیشن ہی نہیں بلکہ ملک کے تمام اداروں کا بھی امتحان ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مرغیاں اورکٹوں کاحکومتی منصوبہ۔۔نون لیگ بھی شریک گناہ ہے۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

مرغی پہلے آئی یا انڈا، یہ ایک جانا پہچانا مخمصہ ہے اور بارہا مباحث میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *