ہوم > کالم > ہم ایک ہیں،سب ایک ہیں۔۔۔تحریر/پروفیسرامتیازاحمدشاد

ہم ایک ہیں،سب ایک ہیں۔۔۔تحریر/پروفیسرامتیازاحمدشاد

دسمبر گزرتے ہی جمہور کا درد بیچنے والے لاجواب سیاسی ڈاکٹروں کا جم غفیر اُمنڈ آیا ہے ۔ ہر طرف پکڑو ٗ مارو ٗ جانے نہ پائے کی صدائیں بلند ہونے لگی ہیں ۔ جمہور کو آئندہ الیکشن میں آلو+قیمے والے نان ملنے کی نوید سنائی جارہی ہے ۔ گذشتہ عشروں سے جو جمہور کو کچھ نہ دے سکے ٗ وہ نئے نعروں اوروعدوں کے ساتھ پھر پنڈال سجانے نکل پڑے ہیں ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں اورقلم کاروں نے اپنے ہتھیار اٹھا لیے ہیں تاکہ ان عظیم راہنماؤں کو عوام کے ساتھ مزید پانچ سال کے لیے بہاروں کی نوید سنانے میں اپنی خدمات انجام دے سکیں۔90ء کی دہائی سے 2016ء تک ایک نسل جوان ہوچکی ہے ۔ اس نے ملکی منظر نامہ آنکھ کھولتے ہی اسی طرح دیکھا جو منظر2017ء کا طلوعِ آفتاب پیش کررہا ہے ۔ ہر روز یہ نعرے اس کے کانوں میں گونجتے رہے کہ فلاں چور ہے اوردوسرا چوروں کی نانی۔ہم آئیں گے تو لوٹی دولت ان سے چھین کر جمہور کے قدموں میں نچھاور کردیں گے ۔ اسی افراتفری میں نوجوان ہر آنے والے کل کو بہتری کی امید سمجھ کر 2016ء تک پہنچا اوردوسری طرف اشرافیہ اتنا مال بنا چکی تھی کہ آنے والے طوفان کا رخ موڑنے کے لیے ان کے پاس دولت کے اتنے بڑے بڑے پہاڑ موجود تھے کہ ندی نالوں اوردریاؤں کی کیا اوقات ٗ سمندر بھی ان سے ٹکرانے کے بعد اپنی موجیں سمیٹ کر بحیرہ عرب کی گمنام تہہ میں سمٹ گئے۔جو دولت ملک سے لوٹ کر باہر پہنچائی گئی اور بڑی بڑی ایمپائرز کھڑی کی گئیں ٗ اُس کو تو بھول جائیں اس کا واپس لانا دیوانے کا خواب ہے ۔ ہم تو وہ انصاف پسند قوم ہیں کہ 40ارب ملک کے اندر پکڑے گئے اورہم نے 2ارب لے کر باقی ماندہ رقم کو جائز قراردیتے ہوئے مجرم کو باعزت رہا کردیا۔اس پرچم کے سائے تلے ٗ ہم ایک ہیں سب ایک ہیں کی تصویر اس وقت واضح نظر آئی جب عوام کے منتخب نمائندوں کے کلب(پارلیمنٹ)میں سپیکر صاحب نے فرمایا کہ پانامہ پر یہاں بات نہیں ہوسکتی ٗ وزیر اعظم صاحب اس معاملے میں جو کہہ چکے ٗ وہی سچ ہے ٗ دوبارہ اس موضوع کو پارلیمنٹ میں زیرِ بحث نہ لایا جائے اوردوسری جانب وزیر اعظم کے وکیل نے عدالت کے استفسار پر یہ فرمایا کہ جو بات پارلیمنٹ میں وزیراعظم صاحب نے کی ہے ٗ اسے سنجیدہ نہ لیا جائے کیونکہ وہ سیاسی بات تھی ٗ عدالت میں جو ہم نے خط پیش کیا ہے ٗ اسے ہی ہماری گواہی مان لیا جائے۔اس متضاد مؤقف کے بعد اپوزیشن جماعتوں کا عمل اورکردار یہ واضح کرتا ہے کہ ہم ایک ہیں سب ایک ہیں ۔ تمام اداروں اورجماعتوں سے ملنے والی اس مایوسی کے بعد عمران خان سے ایک گزارش ہے کہ وہ تمام پارلیمانی اورغیر پارلیمانی جماعتوں سے مشترکہ اجلاس کی استدعا رکریں اورایک بل پیش کریں کہ 31دسمبر 2016ء تک جس نے جو لُوٹا ٗ یا جو اثاثے رکھتا ہے وہ سب جائز ہیں ٗ اب احتساب کا عمل یکم جنوری 2017ء سے شروع ہوگا ۔ اس بل کے دوفائدے ہوں گے : ایک تو یہ متفقہ طور پر پاس ہوجائے گا ٗ جس سے پارلیمنٹ کا وقار بلند ہوگا اوردوسرا یہ کہ اداروں کو امتحان میں سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ا یہ مجبور ومحکوم عوام جو امید کی سولی پر لٹکے ہیں مزید اذیت سے بچ جائیں گے ۔سیاسی طور پر اس کا فائدہ سب کو ملے گا۔ عمران خان کو لوگ اس بات کا کریڈٹ دیں گے کہ انہوں نے بڑی جدوجہد کے بعد کرپشن اورلوٹ کے بازار کو بندکروانے میں آخر کار کامیابی حاصل کرلی ہے اوراب2017ء کے بعد کوئی بھی شخص کرپشن نہیں کرپائے گااور وہ لوگ جن پر کرپشن وغیرہ کے الزامات تھے ٗ وہ عوام کو یہ بتائیں گے کہ ہم پر لگائے گئے تمام الزامات سیاسی تھے اورہمیں یہ کلین چٹ مل گئی ہے ٗبقول وزیر دفاع’’ عوام چند دنوں میں سب بھول جائیں گے‘‘۔اگر خان صاحب ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو بل بعنوان’’2016ء سے پہلے چھیڑونہیں اور2017ء کے بعد چھوڑو نہیں‘‘کثرتِ رائے سے پاس ہوگا(یقیناہوگا)تو پھر اس ملک کو عظیم تر بنانے میں عمران خان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا۔ہر طرف چہل پہل ہوگی ۔ سرمایہ دار سرمایہ نکالیں گے اوربیرونِ ملک سے سرمایہ خود بخود آئے گا ۔ ترقی ہوگی اورخوشحالی آئے گی۔لوگ باہر سے نوکریاں لینے وطن عزیز کا رخ کریں گے ۔ عمران خان نے پانامہ لیکس کا جو کیس پھر سے عوامی عدالت میں لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ٗ اُسے فوری طور پر واپس لیں اوروزیراعظم صاحب نے چشمہ تھری نیوکلیئر پلانٹ کے افتتاح کے موقع پر جو صلح کا پیغام دیا ہے ٗ اُس پر توجہ فرمائیں ۔ باقی رہی بات موروثی سیاست کی تو اس پر اتنا زور مت دیں ٗ یہ برصغیر میں بڑی مضبوط جڑیں رکھتی ہے ٗاس پیڑ کو اُکھاڑنے کے لیے عوام میں شعورکو اجاگر کرنا ہوگا۔ گاؤں کا چودھری مرگیا تو کمہار کے بیٹے نے باپ سے پوچھا کہ اب چودھری کون ہوگا؟باپ نے جواب دیا : ’’چودھری کا بیٹا‘‘۔ بیٹے نے کہا’’ اُس کا بیٹا مرگیا تو ؟‘‘باپ نے جواب دیا’’ تم اپناکام کرو ٗ پورا گاؤں بھی مر گیا تو کمہار کا بیٹا چودھری نہیں بنے گا‘‘۔چودھری انہی میں سے ہی کوئی ہوگا۔خان صاحب ابھی تو عشق کے امتحاں اوربھی ہیں ۔ جعلی ’’وصیت نامے‘‘اور’’قطری خطوط‘‘تو ٹریلر ہیں پوری پکچر ابھی باقی ہے۔خان صاحب !آپ اپنی ضد چھوڑیں اورحالات کے مطابق سیاست کریں ۔ آپ کو اس حقیقت کا ادراک کرلینا چاہئے کہ بلاول اورزرداری صاحب کا پارلیمنٹ میں آنے کا اعلان کس چیز کی نشاندہی کرتا ہے؟حالات واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ اگر کھلاڑی سڑکوں پر آجائیں گے تو جیالے پارلیمنٹ میں جاکر وہ وہ کام ڈال جائیں گے کہ آپ 2018ء کے الیکشن میں پھر سرپِیٹ رہے ہوں گے۔عوامی عدالت میں جائیں ٗ وہ آپ کا حق ہے مگر پارلیمان کا مؤرچہ مت چھوڑیں۔ پیپلز پارٹی اگر سڑکوں پر آتی ہے تو یقین کریں ٗ لوگ اُن کو گلیوں اورسڑکوں پر رسوا کریں گے ۔ ابھی تھوڑا انتظار کریں ٗ عدالتِ عالیہ کے فیصلے کا ٗپارلیمنٹ کو اوڑھنا بچھونا بنائیں ٗ وہاں تمام کارروائیوں پر نظر رکھیں ۔ پنجاب میں چند جلسوں کے بعد پیپلز پارٹی پِٹ کر واپس لوٹے گی توآ پ کی اہمیت اوربڑھے گی ۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ اگر تحریک انصاف بھی ایک ہی وقت میں جلسے جلوس شروع کردے گی تو اِ س سے مجاوروں کو تقویت ملے گی۔آپ نے جہاں اتنا وقت عوام کے حقوق کی جنگ لڑی وہاں جنوری کا مہینہ تبدیل حکمتِ عملی سے گزارلیں۔جب آپ محسوس کریں کہ اب انصاف اورقانون کے سب دروازے بند ہوگئے تو پھر عوامی عدالت لگائیں اورپارلیمان میں مورچہ بندی کے ساتھ ساتھ اپنی صف بندی بھی قائم رکھیں۔ہم براہِ راست آپ سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اُن کے پارلیمنٹ میں جانے سے پانامہ لیکس پر وزیر اعظم کا تضاد اورسپیکر صاحب کا دوہرا معیار کھل کر عوام کے سامنے آیا ہے۔ آپ اس کو کم کامیابی مت سمجھئے

یہ بھی دیکھیں

کشمیر اب ہماری ترجیح نہیں رہا – بلال شوکت آزاد

کشمیر اب ہماری ترجیح نہیں رہا لیکن کشمیریوں کی اول آخر ترجیح پاکستان ہی ہے۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *