Friday , August 17 2018
ہوم > کالم > ابھی روح جسم میں باقی ہے،مقصدحیات سمجھناہوگا۔۔تحریر/فاطمہ فیاض

ابھی روح جسم میں باقی ہے،مقصدحیات سمجھناہوگا۔۔تحریر/فاطمہ فیاض

حضرت آدم علیہ السلام دنیا کے پہلےانسان،قدرت کاحسین شاہکاراورروئے زمین کی رونقیں اُنہیں کے وجودسے جنم لیتی گئیں،اگرخدا آدم کونہ بناتاتودنیاپرشایدکچھ نہ ہوتا،یاکچھ ہوتاپھرکیاہوتا،کوئی اورمخلوق؟؟؟؟۔۔جنات اورفرشتے توتھے،فرشتے نظام کائنات کی خوبصورتی اورہروقت اس کی حمدبیان کرنے کاہی کام کرتے تھے اورکرتے ہیں،انہیں کوئی اورکام،کوئی لالچ،کوئی بزنس،کچھ بھی نہیں۔۔

یہی وجہ تھی کہ وہ آدم کی تخلیق پراللہ تعالیٰ کے حضورگویاہوئے کہ یا رب انہیں بناکرکیاکرناہے؟؟؟ ہم ہیں ناتیری حمدوثنابیان کرنے والے؟۔۔۔پھرمٹی سے یہ کیابنارہے ہو؟۔۔۔۔لیکن وہ رب فرشتوں کوبھی پیداکرنے والاہے۔۔اس کی حکمت ودانائی اورعلم کاتوکوئی مقابلہ نہیں،فرمایاجومیں جانتاہوں،وہ تم نہیں جانتے،یہ کلام تھامگرفرشتوں کواس کاعملی ثبوت بھی دیا،قرآن پاک میں بتایاگیاکہ اللہ تعالیٰ نے آدم کوکچھ نام سکھائے،پھرفرشتوں سے پوچھاگیا جوبتانےسے قاصررہے،پھروہی نام حضرت آدم علیہ السلام نے بتادیے توفرشتے حیران رہ گئے کہ یہ توہم سے بھی بہترہیں،پھرمزیدبرتری دینے کے لیے سب سے سجدہ بھی کرایاجس دوران شیطان کی شیطانیت سامنے آئی اوراسے مردود قراردیاگیا۔۔

خیریہ ایک طویل گفتگو ہے کہ بعدمیں شیطان نے خداکیخلاف اعلان جنگ بھی کیااورخدانے بھی فرمایاکہ جورحمن کے بندے ہوں گے وہ تیرے جال میں کبھی نہیں آئیں گے،یہی وجہ ہے کہ گناہ سرزدہونے کے بعدتوبہ خداکوبہت ہی پسند ہے،کیوں کہ خدا دیکھتاہے کہ ایک انسان شیطانی راستے پرجاکرپھر ایک دم احساس ہونے پراپنے رب کی طرف لوٹ اتاہے۔۔ یہ خداکی ہی قدرت ہےآج دنیا پرآدم کی اولاد بے شمارہے۔۔

دنیا کی خوبصورتی اوررونقیں ایک طرف اوردوسری طرف آج کاانسان صدیوں پہلے وجودمیں آنے والےانسان سے لاعلم ہے،کیسے بنا؟۔۔۔کیوں بنا؟۔۔۔۔۔سب اغراض ومقاصدسے بےخبر،دنیا پرعارضی قیام ہےمگراس دنیاکودائمی سمجھ کر اسے سمیٹنے کے پیچھے بھاگ رہاہے،ایک گاڑی،دوسری گاڑی،تیسری گاڑی،چھوٹی گاڑی،بڑی گاڑی،کوٹھی،بنگلہ،جائیداد،ہوائی سفر،رتبہ،مقام،لالچ،سب کچھ پالینے کی خواہش،سب کچھ سمیٹ لینے کی تمنا،مگر کرتے کرتے پھرمٹی سے بن کرمٹی میں مل جاتاہے،قصہ ختم۔۔

مگرزندوں کومردوں سے عبرت نہیں ملتی،کہاگیاکہ یہ انسان دنیاسے اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا،اس کاجی نہیں بھرتا،حتی کہ مٹی ہی اس کامنہ بھرے گی۔۔ آج انسان اپنی خوشیوں کو پانے کے لیے اپنی اصلیت بھی بھول گیا ہے،حالانکہ اگرانسان اپنی اصلیت کوفراموش نہ کرے توشاید وہ خوشیوں کوبھی پالے اوروہ انسانیت کےرتبےسے بھی نہ گرے لیکن یہاں ایساہے نہیں، کیونکہ عموما دیکھنے میں آیا ہے کہ انسان کسی چھوٹے سے چھوٹے مفاد کے لیے بھی اپنے ضمیر کی سودے بازی کرنے سے بازنہیں آتا،ہم مجموعی طورپراگرخوداحتسابی کریں توشایدہم سب ہی کسی نہ کسی سطح پراپنے فائدے کے لیے کچھ نہ کچھ غلط کرتے ہیں۔۔

ویسے توانسان کواشرف المخلوقات کہاگیاہے، انسان کوتمام مخلوقات پربرتری دی گئی ہے،افرادکو نہیں،کیوں کہ انسانیت کارتبہ سبھی افرادکوحاصل نہیں،ایک فرداگرصبح سے شام تک اپنی مفادات کی ہی گیم کرتاہے،چاہے وہ کسی طرح سے ہی کیوں نہ ہو،چوری ڈکیتی ہو،دھوکہ دہی ہو،ملاوٹ ہو،جھوٹ ہو،کرپشن ہویاپھرگناہ کی کوئی اورقسم،توپھرشایدایسے فردکوانسان نہیں کہاجائے گا،وہ فردتوہوسکتاہے مگرانسان نہیں،اس لیے ایسافردخودکوانسان گمان بھی نہ کرےکیوں کہ وہ انسانیت کی خصوصیات کاحامل نہیں۔۔۔۔

 چھوٹے چھوٹے اعمال زندگی کوخوبصورت بنادیتے ہیں اوربظاہر معمولی بھلائیاں بھی فردکوانسان بنادیتی ہیں،صرف اپنی سوچ کوسیٹ کرنے کی ضرورت ہے،ایک شخص کوکہتے سناکہ نیکی بھی امیرکرسکتاہے،غریب کیسے کرسکتاہے؟؟۔۔استفسارکیاکہ کیسے؟ کہنے لگے کہ بھائی دیکھونا غریب کوتواپنی دال روٹی سے ہی فرصت نہیں ہوتی وہ کیاکسی کابھلاسوچے گااورکرے گا؟مگرامیروں کے پاس تونہ پیسے کی کمی ہوتی ہےاورنہ ہی عزت کی کمی،وہ جو چاہےکرےاوروہ اپنی سوچ کونیک کام میں بھی لگاسکتاہے،لہذاغریب کے لیے سیدھی راہ پرچلنامشکل ہے،اس کی غربت ہی اس سے کئی جرم کرالیتی ہے،مگرمجھے ان کی اس رائے سے اختلاف ہے،اس لیے نیکی بڑی یاچھوٹی نہیں ہوتی،بلکہ نیت پرمنحصرہے کہ وہ عمل کس نیت سے کیاگیا،بات اعمال کی ہوئی تومجھے یادآیاکہ ابھی کل ہی کی بات ہے میراگزرایک چوک سے ہواجہاں تین چھوٹے بچے کتابیں بیچ رہے تھے،دل میں خیال آیاکہ کیوں؟؟۔۔۔کھیل کود کے دن ہیں مگریہ ننھے فرشتے ٹریفک کی اس بھیڑمیں کہاں ذلیل وخوارہورہے ہیں؟؟۔۔۔دل ہی دل میں سبھی سوچیں بدل رہی ہیں کہ ظاہرہے یہ لوگ شوق سے تونہیں ایساکررہے،یقینامجبوریاں ہی انہیں اس کام پرلگارہی ہیں،حالانکہ ان بچوں کےوالدین،عزیزواقارب،اہل محلہ اورمعاشرے کے سبھی افرادکے علم میں ہوگاجوبھی ان کی مجبوری ہے مگرپھربھی یہ اس عمر میں ایساکررہے ہیں؟؟۔۔۔۔اس لیے کہ احساس کی کمی ہے،ہمارے اندر،مجموعی طورپرمعاشرتی بے حسی کی تصویرہے یہ ۔۔۔۔

ہمیں انسان بننے کی ضرورت ہے لیکن ہم اس معاشرے کے افرادہیں،بحیثیت فردہم خودکے لیے توسب کچھ کرسکتے ہیں،اپنی عیش وعشرت اوراپنی خوشی کے لیے مگردوسروں کے لیےنہیں۔۔ہمیں اپنی سوچ کوبدلنے کی ضرورت ہے،ہمیں مقصدحیات سمجھنے کی ضرورت ہے،یہ دنیا،یہ کائنات سب بے مقصدنہیں ہوسکتا،نہ ہی یہ کسی حادثے یاخودبخودمعرض وجودمیں آسکتاہے،اس نظام کائنات کے پیچھے،آدم کی تخلیق کے پیچھے یقیناایک مقصد ہے،اورہمیں قرآن سے بڑھ کوئی ہدایت نہیں دے سکتا،قرآن ہمیں بتاتاہے،سب کچھ،سب سوالوں کےجواب کلام الہی میں ہیں،مگرہمیں دنیاکے چکر،اس کی محبت کوفراموش کرکے یہ سوچناہوگاکہ خدانے ہمیں کسی مقصد کے تحت بنایاہےلہذا اسے جانیں،اسے پہچانیں اوراسے پوراکرنے کی کوشش کریں ورنہ بہت پچھتاناپڑےگا اورایسے وقت پچھتاناپڑے گاجب سوائے پچھتاوے کے کچھ اورکرنے کاوقت نہیں ہوگا،روزاول سے لے کرتخلیق آدم اورپھرروزآخرتک کے سب مراحل پرغورکی ضرورت ہے،یہ وقت ہے،کیوں کہ ابھی روح ہمارے جسم کاحصہ ہےاورجب جسم سے روح پروازکرجائے گی توپھربہت دیرہوجائے گی۔۔۔۔

 

یہ بھی دیکھیں

اگر یاسمین راشد رکن قومی اسمبلی منتخب ہو جاتیں تو کیا ہوتا ۔۔۔۔۔ڈاکٹر اجمل نیازی نے ایسی بات کہہ دی جسکی آپ بھی تائید کریں گے

لاہور(ویب ڈیسک)سندھ اسمبلی کے لئے آغا سراج درانی سپیکر منتخب ہو گئے۔ ڈپٹی سپیکر شہلا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *