Wednesday , October 24 2018
ہوم > کالم > آؤ ہم سب’’عبداللہ ‘‘ بنیں –تحریر/ حسن تیمور جکھڑ

آؤ ہم سب’’عبداللہ ‘‘ بنیں –تحریر/ حسن تیمور جکھڑ

یہ دنیااللہ تعالیٰ نے تخلیق کی۔ اس میں انسان اللہ تعالیٰ نے بسائے۔ انسان کو شناخت کےلیے قبیلوں میں اللہ تعالیٰ نے بانٹا۔ انسان کو سوچ اللہ تعالی نے دی۔ سوچ ترقی کی بنیاد بنی، مدد اللہ تعالی نے کی۔ ترقی ہوئی، توانسان نے جنگلوں کو شہر بنا ڈالا، وحشت اور جنوں کو تہذیب اور شعور سے مات دے دی۔ شہر ترقی کرتے کرتے پہلے ریاستیں بنیں، پھر ملک کہلائے۔ ہر ملک کسی ایک قوم یا کسی ایک زبان سے مخصوص ہوا۔ انھی ممالک میں ایک ملک ایسا بھی ہے جو مذہب کی بنیاد پر قائم ہوا۔ مذہب بھی وہ جو انسانیت کا درس دیتا ہے۔ جو فلاح کا پیغام دیتا ہے۔ وہ مذہب جو ریاست کو ماں قرار دیتا ہے۔ ماں جس کی آغوش سب کے لیے جائے پناہ ہے۔ اسلامی ریاست بھی ذمہ دار ہے اپنے بچوں (عوام) کی ہرطرح کی ضروریات پوری کرنے کےلیے۔ ان کی خوراک، تعلیم، صحت اور رہائش سمیت ان کی حفاظت اور پرامن ماحول تک، یہ سب ریاست کی ذمہ داریوں میں آتا ہے۔ مگر نہایت بدقسمتی کی بات ہے کہ اسلام کے نام پر بنے اس ملک میں شاید اسلام کو وہ اہمیت ہی نہ ملی۔ دوسرا مسلسل نااہل و بدعنوان حکمرانوں کے نرغےمیں رہنے کے بعد یہ ملک شاید اپنے پاؤں پر بھی کھڑا ہونے کے قابل نہیں ہو پایا کجا یہ اپنے بچوں کو سنبھالے۔

یہ تحریر لکھنے کی تحریک دوست اور سینئرصحافی جناب مناظرعلی صاحب کا ایک اخباری کالم پڑھنے کے بعد ہوئی، عنوان ہے، ’’ریاستی ومعاشرتی بےحسی، کمسن عبداللہ کی داستان‘‘۔ تحریر میں کمسن عبداللہ کی غربت سے جنگ اور تعلیم سے محبت کو بیان کیا گیا ہے۔ کس طرح وہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں شاہراہوں پر قلم فروخت کر کے علم کا حصول ممکن بنا رہا ہے۔ تحریر پڑھنے کے بعد ذہن میں سب سے پہلے جو خیال آیا، وہ ریاست کی ذمہ داری کے بجائے خود احتسابی کی جانب مائل کر گیا۔ مانا تعلیم، صحت، روزگار کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے، مگر ہماری بدقسمتی یا یوں بولیں ہماری جہالت نے ہمیں نااہل و بدعنوان حکمران دیے ہیں، اس لیے ریاست بھی بصورت مجموعی ایک کمزور ادارہ ہے۔ ہم حکمرانوں کو ضرور کوسیں، ان کو ضرور بدلیں مگر سب سے پہلے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکمران چور ہیں تو ہم بھی شریف نہیں۔ اگر وہ نااہل ہیں تو غافل ہم بھی کم نہیں۔ اگر وہ کوتاہ اندیش ہیں تو مفاد میں اندھے ہم بھی ہیں۔ اگر وہ غیرذمہ دارہیں تو اپنے فرائض سے بھاگتے ہم بھی ہیں۔

ریاست ترقی نہیں کر رہی تو اس میں قصوروار خالی حاکم ہی نہیں، بلکہ محکوم بھی ہیں۔ وہ حقوق نہیں دے رہے تو ہم کون سا فرائض ادا کر رہے ہیں۔ حکمرانوں کے چناؤ سے لے کر ہر چھوٹے بڑے معاملے میں ہم اپنے مفادات کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں نہ کہ ملک و قوم کےمفاد یا اللہ کے احکامات کےتحت۔ اپنی کوتاہیوں، غفلتوں، حرص و ہوس کے قصے لکھنے بیٹھوں تو شاید کئی صفحے بھرے جائیں مگر پھر بھی ذکر مکمل نہ ہو پائے۔ خیر یہاں موضوع مختصر ہے لہذا اصل بات کی جانب بڑھتا ہوں۔

اسلام میں حقوق اللہ سے بھی زیادہ حقوق العباد پر زور دیا گیا ہے، حقوق اللہ کی معافی کا چانس موجود ہے لیکن حقوق العباد میں کوتاہی کی تلافی ممکن نہیں۔ اسلام بہترین ضابطہ حیات ہے اور اس کو اپنا کر ایک بہترین معاشرے کا قیام ممکن ہے۔ یہی اسلام اپنے پیروکاروں کو درس دیتا ہے کہ وہ ہمسائیوں کا خیال رکھے، یتیم کی پرورش کرے، مجبور کی مدد کرے اور بھوکے کا پیٹ بھرے۔ مگرافسوس ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ملک کے باسی شاید یہ سبق بھول چکے ہیں۔ ایک قلیل تعداد اور چند مثالوں کے علاوہ مجموعی طور پر بےحسی کی سی کیفیت طاری ہے۔ نفسانفسی اور زیادہ سے زیادہ آسائشات کے حصول کے چکر نے انسان کو مشین بنا کر رکھ دیا، جذبات اور احساسات بےجا خواہشات کے بوجھ میں دب کر رہ گئی ہیں۔

عبداللہ کی قلم سے یاری کا تذکرہ پڑھ کر بےساختہ اپنی (بطورمعاشرہ ) علم دوستی کا خیال آیا۔ کیا کروڑوں اربوں کے اثاثے رکھنے والے حضرات ایک معصوم کی خواہش پوری نہیں کر سکتے؟ کیا اپنی بےتحاشا آمدن میں سے کچھ سکے نکال کر معصوم کو زیورتعلیم سےآراستہ نہیں کرسکتے۔ کیا ہمارے معاشرے میں موجود دولت مند افراد اپنے اردگرد موجود حصول علم کے متلاشیوں کی پیاس نہیں بجھا سکتے؟ اللہ کافرمان ہے ’’انسان کےلیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے‘‘ ننھے عبداللہ کی تعلیم سے لگن اس کی خواہش ہے اور اس سلسلے میں محنت مزدوری اس کی کوشش۔ عبداللہ تو اپنے معبود کا کہا مان کر کوشش کر رہا ہے، لیکن کیا اس پاک وطن کے دوسرے باسی بھی اپنے اللہ کا کہا مان رہے ہیں؟ باقی چیزوں کو چھوڑیں صرف حقوق العباد کے زمرے میں ہی کیا، ہم اپنے اللہ کے احکامات کو مانتے ہیں؟ اس ملک کے رہنے والے بےشک مسلمان ضرور ہیں مگر شاید اللہ کے بندے نہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ حکمرانوں کی جانب دیکھنے کے بجائے اپنے چھوٹے موٹے مسائل کو حل کرنے کےلیے ’’کمیونٹی سسٹم‘‘ فعال کیا جائے۔ یونین کونسلز کی سطح پر کمیونٹی سینٹر بنا کر اپنی تعلیم، صحت اور دیگر معاشرتی مسائل کے حل کے لیے لائحہ عمل بنایا جائے۔ کمیونٹی سکولنگ کو فروغ دینا ہوگا اور معاشرے میں موجود بےسہارا لوگوں کی کفالت کے لیے بھی مشترکہ فنڈز قائم کرنے ہوں گے۔ ایسا کرکے ہم اپنے زیادہ تر مسائل خود حل کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ آئیے ننھے بچے کے لیے ہم بھی میدان میں اتریں۔ اپنے اردگرد پھیلے ایسے سینکڑوں عبداللہ کو ان کی منزل تک پہنچانے میں مدد کریں۔ آؤ ہم سب’’عبداللہ‘‘ بنیں۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *