Sunday , August 19 2018
ہوم > کالم > آئی جی صاحب کا شوقِ تقریر –تحریر/ حا مد میر

آئی جی صاحب کا شوقِ تقریر –تحریر/ حا مد میر

یہ اس زمانے کی بات ہے جب آج کے کچھ غدار سینہ تان کر وطن عزیز کے حکمران بنے بیٹھے تھے اور آج کل ان غداروں کی سرکوبی کرنے والے کئی فرض شناس اور محب وطن عناصر مفرور تھے۔ انھی میں سے ایک محب وطن مفرور ٹریک سوٹ اور جوگرز پہن کر اسلام آباد کے شالیمار گراؤنڈ میں آتا اور سرگوشیوں میں اپنی زندگی کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا کرتا۔ یہ مفرور محب وطن جب بھی ملتا گمبھیر لہجے میں اپنے کسی نہ کسی ساتھی کے قتل کی اطلاع دیتا اور درخواست کرتا کہ خدارا ہمارے لیے کچھ کیجیے ورنہ ہم سب مارے جائیں گے۔ آپ زیادہ پریشان نہ ہوں کیونکہ میں جس مفرور شخص کو ملا کرتا تھا، یہ کوئی چور یا ڈاکو نہیں بلکہ آج کل کراچی میں ایس ایس پی کے عہدے پر تعینات پولیس افسرراؤ انوار صاحب تھے۔ راؤ انوار سے میری پہلی ملاقات 1995ء میں اس وقت کے وزیرداخلہ نصیر اللہ بابر نے کراچی میں کرائی تھی۔ راؤ انوار کراچی پولیس کے ان افسران میں نمایاں تھے جنہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں کراچی میں ایک بڑا آپریشن کیا لیکن بینظیر حکومت کو اس آپریشن کی کامیابی کا کریڈٹ دینے کے بجائے 1996ء میں ان کی اپنی ہی پارٹی کے صدر فاروق لغاری کے ذریعہ برطرف کرا دیا گیا اور برطرفی کی وجوہات میں کراچی میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کو بھی شامل کیا گیا۔ راؤ انوار پر ایسی ہی کچھ ماورائے عدالت ہلاکتوں کا الزام تھا اور متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت ان سے انتقام لینے کے درپے تھی۔

1999ء میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت قائم ہونے کے بعد ایم کیو ایم غدار سے محب وطن بن چکی تھی اور حکومت میں بھی شامل ہوگئی تھی۔ ایم کیو ایم کے حکومت میں شامل ہونے کے بعد کراچی میں ایسے کئی پولیس افسران کو قتل کیا جا نے لگا جنہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں آپریشن میں حصہ لیا تھا۔ یہ پولیس افسر جانیں بچاتے پھر رہے تھے اور حکومت نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ انہی دنوں شعیب سڈل بلوچستان کے آئی جی بنے تو راؤ انوار کو کوئٹہ لے گئے لیکن راؤ انوار نے اپنی فیملی کو اسلام آباد میں چھپا رکھا تھا۔ راؤ انوار نے کئی مرتبہ مجھے ایسی دستاویزات دیں جن سے ایم کیو ایم کے کچھ رہنماؤں کے بھارت کے ساتھ تعلقات کا پتہ چلتا تھا۔ راؤ انوار چاہتے تھے کہ میں یہ دستاویزات کسی نہ کسی طرح اس وقت کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف تک پہنچا دوں۔ اس ناچیز نے کئی مرتبہ راؤ انوار کو جنوری 1999ء میں مشرف صاحب کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا قصہ سنایا جس میں مشرف نے الطاف حسین کو غدار قرار دیا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی مصلحتوں کے باعث الطاف حسین کو گلے لگالیا۔ رائو انوار میری بات سن کر خاموش ہوجاتے۔

پھر ایک دن الطاف حسین نے نئی دہلی میں تقریر کرتے ہوئے تقسیم ہند کو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا بلنڈر قرار دے دیا۔ میں نے تقریر کا یہ حصہ جیو نیوز پر کیپٹل ٹاک میں نشر کیا اور کچھ سیاستدانوں کو اظہار خیال کی دعوت دی جن میں عمران خان اور وسیم اختر بھی شامل تھے۔ اس کے بعد جو میرے ساتھ ہوا وہ پھر کبھی سہی لیکن راؤ انوار بہت خوش ہوئے۔ ان کا خیال تھا کہ اب مشرف حکومت ایم کیو ایم سے جان چھڑالے گی لیکن ایسا نہ ہوا۔ پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، اے این پی، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں نے بہت شور ڈالا لیکن الطاف حسین اور مشرف کی محبتوں میں کوئی فرق نہ آیا۔ آخر کار اسی مشرف کے ساتھ پیپلز پارٹی نے این آر او کرلیا۔ اس این آر او کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں قتل کردیا گیا لیکن ایم کیو ایم کو بہت فائدہ ہوا۔ ایم کیو ایم کے ہزاروں گرفتار کارکن رہا کردیے گئے۔

ماضی کے یہ واقعات مجھے سندھ کے آئی جی جناب اے ڈی خواجہ کا یہ بیان پڑھ کر یاد آئے جس میں موصوف نے کہا کہ 1996ء میں امن قائم کرنے والے پولیس افسران کو چن چن کر مارا گیا اور انہیں مارنے والے حکومتی ایوانوں میں بیٹھے رہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے یہ بھی کہا کہ سوسائٹی خاموش رہی اور بہت سے قاتلوں نے این آر او کا فائدہ بھی اٹھایا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اے ڈی خواجہ نے بہت سے سیاستدانوں کی طرح آدھا سچ بولا اور اس سوسائٹی کو کوس ڈالا جو آج بھی پولیس کے ناکوں پر لٹتی ہے اور لٹنے سے بچنے کی کوشش میں گولیاں بھی کھاتی ہے۔ اے ڈی خواجہ صاحب مشرف دور میں نجانے کہاں تھے۔ مناسب سمجھیں تو ذرا راؤ انوار کو اپنے پاس بلالیں اور اگر راؤ انوار بلانے پر نہیں آتے تو انہیں فون کرکے پوچھ لیں کہ جب ایک فوجی حکمران راؤ انوار جیسے پولیس افسران کو تحفظ دینے میں ناکام تھا تو اس بے اختیار سوسائٹی کے وہ کون لوگ تھے جو کراچی پولیس کے مفرور افسران کی مدد کیا کرتے تھے؟ اے ڈی خواجہ صاحب کو یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ جس این آر او کا محترمہ بینظیر بھٹو کے بجائے ایم کیو ایم نے فائدہ اٹھایا، اس این آر او کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے مسترد کر دیا تھا۔ راؤ انوار سے یہ بھی پوچھ لیا جائے کہ جب وہ آج کے غداروں کے سیاسی عروج میں کچھ اہم اور بااختیار لوگوں کو الطاف حسین کے کچھ ساتھیوں کے بارے میں دستاویزی ثبوت دیا کرتے تھے تو انہیں کیا کچھ سننا پڑتا تھا؟ میڈیا میں جو لوگ ا لطاف حسین کے بارے میں سچ بولتے تھے، ان کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی جاتیں۔ ان تقاریر پر پاکستان کی عدالتوں نے2015ء میں پابندی لگا دی تھی۔ میڈیا پر الطاف حسین کی تقاریر بند ہوگئیں اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کارروائیاں شروع ہوگئیں تو کچھ غداروں پر سے ملک دشمنی کے داغ دھبے صاف کرنے کے لیے ایک لانڈری بنائی گئی جو اس لانڈری سے گزر جائے وہ محب وطن، جو نہ گزرے وہ غدار۔ الطاف حسین کے تو ریڈ وارنٹ بھی جاری ہوگئے، ان کے خلاف ضرور کارروائی کریں لیکن جس شخص کی سرپرستی میں الطاف حسین کراچی پولیس کے افسران کی زندگی کے فیصلے کرتے تھے، کیا اس کے بارے میں اے ڈی خواجہ کچھ کہنا پسند فرمائیں گے یا صرف اس ملک کی بے اختیار سوسائٹی پر تنقید کر کے کراچی کے تاجروں سے داد وصول کرتے رہیں گے۔ اول تو کسی فوجی افسر، پولیس افسر، جج یا بیوروکریٹ کو سیاسی تقریر سے گریز کرنا چاہیے لیکن اگر تقریر بہت ضروری ہے تو پھر تھوڑا سچ بھی بول دیں اور یہ بھی بتادیں کہ جب آپ کو آئی جی کے عہدے سے ہٹایا جاتا ہے تو اس ملک کی بے اختیار سوسائٹی بھی بولتی ہے، میڈیا بھی بولتا ہے اور سیاسی جماعتیں بھی بولتی ہیں۔ پھر اس ملک کی عدالتیں آپ کی مدد کو آتی ہیں، آپ آئی جی کے عہدے پر برقرار رہتے ہیں لیکن تقریر کے شوق کو پورا کرتے ہوئے آپ اس سوسائٹی پر طعنہ زنی ضروری سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ سوسائٹی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، سوسائٹی مجرم قرار پاتی ہے اور آپ ان سب کے با رے میں خاموش رہتے ہیں، جو کراچی پولیس کے افسران کے قاتلوں کو کبھی غدار اور کبھی محب وطن بناتے ہیں اور ان سے کوئی جوابدہی نہیں کرسکتا۔

یہ بھی دیکھیں

میرا جسم، میری مرضی – خدیجہ افضل مبشرہ

سن 2011 میں فرانس سے شروع ہونے والی تنگ نظری کی وباء نے کل اسکینڈینیویا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *