Tuesday , October 23 2018
ہوم > کالم > مریضوں کی بددعائیں نہ لیں۔۔۔۔۔تحریر/ جاوید چوہدری

مریضوں کی بددعائیں نہ لیں۔۔۔۔۔تحریر/ جاوید چوہدری

میرے دوست نے چند سال قبل چھوٹی سی فیکٹری لگائی‘ وہ پڑھا لکھا اور قانونی انسان تھا‘ اس نے تمام ضابطے اور قانونی تقاضے پورے کیے‘ ملازمین کو بھی حقوق اور ساری سہولتیں دیں‘ وہ ٹیکس بھی پورا دیتا تھا‘ وہ خام مال بھی اچھی کوالٹی کا استعمال کرتا تھا اور مشینری بھی اسٹیٹ آف دی آرٹ تھی لیکن ضابطے کی ان تمام پابندیوں اور قانون پرستی کے باوجود کسی نہ کسی محکمے کا کوئی نہ کوئی انسپکٹر روز اس کی فیکٹری پہنچ جاتا تھا اوراسے روزانہ کوئی نہ کوئی نوٹس تھما دیاجاتا تھا۔
میرے دوست کی فیکٹری سے آدھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک دوسری فیکٹری تھی‘ وہ فیکٹری بنیاد سے چھت تک غیر قانونی تھی‘ زمین قبضے کی تھی‘ بجلی اور گیس چوری کی استعمال ہوتی تھی‘ مالکان کے پاس لائسنس کی جگہ سٹے آرڈر تھا‘ ملازمین کانٹریکٹ پر تھے‘ مشینری پرانی تھی‘ صفائی کا نظام خراب تھا اور فیکٹری میں سرِعام جعلی پراڈکٹس تیار ہوتی تھیں لیکن کسی محکمے کا کوئی افسر اس فیکٹری کا رخ نہیں کرتا تھا۔
میرے دوست نے ایک دن دس محکموں کے چالیس انسپکٹروں کو کھانے پر بلایا‘ کھانا کھلایا اور آخر میں ان سے ایک سوال پوچھا’’ جناب میں تمام قانونی تقاضے پورے کرتا ہوں لیکن آپ روز میرے دفتر آ جاتے ہیں جب کہ رانا صاحب کی فیکٹری میں روزانہ قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں مگر آپ اس طرف منہ نہیں کرتے‘ کیوں؟‘‘ انسپکٹر ہنس پڑے‘ میرے دوست نے جواب کے لیے اصرار کیا تو ایک سینئر انسپکٹر ہنستے ہنستے بولا ’’جناب وہ فیکٹری رجسٹرڈ نہیں ہے‘ ہم وہاں چھاپہ نہیں مار سکتے‘‘ دوست نے پوچھا ’’کیا آپ نان رجسٹرڈ فیکٹریوں پر چھاپے نہیں مارتے‘‘ انسپکٹر نے جواب دیا ’’بھائی جان ہمارے پاس صرف رجسٹرڈ کمپنیوں‘ ملوں اور فیکٹریوں کی انسپکشن کا اختیار ہے۔
ہم نان رجسٹرڈ فیکٹریوں میں داخل نہیں ہو سکتے‘‘ میرے دوست کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا‘ وہ دیر تک انسپکٹروں کو دیکھتا رہا اور پھر پوچھا ’’ لوگ ملک میں رجسٹریشن کے بغیر فیکٹریاں کیسے لگا لیتے ہیں‘‘ انسپکٹر نے جواب دیا ’’پیسہ‘ اثرورسوخ اور وکیل‘ یہ لوگ کھلا پیسہ کھلاتے ہیں‘ یہ سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کو پارٹنر بنا لیتے ہیں اور یہ تگڑا وکیل کر کے سٹے آرڈر لے لیتے ہیں اور یوں کوئی ان کا بال تک بیکا نہیں کر سکتا‘‘ میرا دوست ڈپریشن میں چلا گیا‘ وہ سال بھر ڈپریشن میں رہا‘ سال بعد اس کی قانونی فیکٹری بند ہو گئی جب کہ رانا صاحب کی غیر قانونی مل آج بھی چل رہی ہے۔
پنجاب میں ادویات بنانے اور بیچنے والوں کی کہانی اس داستان سے ملتی جلتی ہے‘ملک میں فارماسوٹیکل انڈسٹری‘ کیمسٹ حضرات اور میڈیکل اسٹورز کے مالکان قانونی کاروبار کرتے ہیں‘ یہ قواعد اور ضوابط کے تحت فیکٹریاں لگاتے ہیں‘یہ جدید ترین مشینری خریدتے ہیں‘ یہ ادویات کی منظوری کے تھکا دینے والے عمل سے گزرتے ہیں‘یہ معیاری خام مال کا بندوبست کرتے ہیں‘یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ملازمین رکھتے ہیں‘یہ ادویات کی فروخت کا پورا نیٹ ورک بناتے ہیں اور یہ پورا ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں۔
ہمارے ملک کے کیمسٹ حضرات بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور ملک کے90فیصد میڈیکل اسٹورز بھی قانونی ہیں لیکن یہ لوگ قانون کی پابندی کے باوجود ریاست کے تودے تلے دفن ہوتے چلے جا رہے ہیں جب کہ ان کے مقابلے میں ملک میں ادویات کی ایک بہت بڑی غیرقانونی انڈسٹری موجود ہے‘ آپ کو پاکستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لاکھوں ان پڑھ حکیم‘ نام نہاد ہومیو پیتھک‘ کالے علم کے ماہر‘ تعویز کے ذریعے کینسر اور ٹی بی کا علاج کرنے والے اور جن داخل اور نکالنے والے عامل ملتے ہیں‘ یہ علاج معالجے کی غیر انسانی انڈسٹری قانونی انڈسٹری سے دس گنا بڑی ہے۔
ملک میں ادویات سازی کی ایک ہزار قانونی کمپنیاں ہیں جب کہ ہمیں ہر ضلع میں دو ہزار عامل‘ ہومیو پیتھک اور حاذق حکیم مل جاتے ہیں‘ ملک میں جعلی ادویات بنانے والی دس پندرہ ہزار فیکٹریاں بھی کام کر رہی ہیں لیکن حکومت ان فیکٹریوں‘ان مطبوں‘ ڈنڈے سے جن نکالنے اور تعویذ سے کینسر کا علاج کرنے والے ان عاملوں کو پکڑنے کے بجائے‘ ان پر توجہ دینے کے بجائے قانونی انڈسٹری کے گلے کا پھندا سخت کرتی چلی جا رہی ہے‘ حکومت نے غیر قانونی انڈسٹری کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے مگریہ ٹیکس دینے اور قانون کا احترام کرنے والوں کا ناطقہ بند کرتی جا رہی ہے‘ کیوں اور کیسے؟
پنجاب حکومت نے 8 فروری 2017ء کو صوبائی اسمبلی سے ڈرگ ایکٹ میں ترامیم منظور کرائیں‘ یہ ایکٹ وفاق نے 1976ء میں پاس کیا تھا‘8 اپریل 2010ء کو اٹھارہویں ترمیم ہوئی اور صحت کے تمام محکمے صوبوں کے پاس چلے گئے‘ ملک میں اس کے بعد خوفناک کنفیوژن پیدا ہو گیا‘ آپ صورتحال ملاحظہ کیجیے‘ وفاق کا ادارہ ڈریپ (ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی)ادویات کی منظوری دیتا ہے جب کہ ادویات صوبوں میں بنائی اور فروخت کی جاتی ہیں۔
صوبے نئی نئی قانون سازی کر رہے ہیں اور انڈسٹری کنفیوژن میں کبھی وفاق کی طرف دیکھتی ہے اور کبھی صوبوں کی طرف‘ پنجاب حکومت نے بھی 8 فروری کو صوبائی اسمبلی سے ڈرگ ایکٹ میں ترامیم پاس کرا لیں‘ یہ ترامیم انڈسٹری‘ کیمسٹ حضرات اور میڈیکل اسٹورز کے مالکان کو سوٹ نہیں کر رہیں چنانچہ یہ لوگ شٹرڈاؤن ہڑتال پر چلے گئے ہیں‘ آج سے ملک کی 100 بڑی ادویات ساز کمپنیوں نے اپنی پروڈکشن بھی بند کر دی ‘اس صورتحال سے لاکھوں مریض شدید پریشانی کا شکار ہیں‘ رہی سہی کسر سوموار کے خودکش حملے نے پوری کر دی۔
خودکش حملہ آور فارما سوٹیکل انڈسٹری کے احتجاجی کیمپ میں آیا اور 14لوگوں کو ساتھ لے گیا‘ 70 لوگ زخمی ہیں‘ شہداء میں پولیس کے دو سینئر افسرڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن(ر) احمد مبین‘ قائم مقام ڈی آئی جی آپریشن زاہد گوندل اور چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں‘ ہمارا خیال تھا یہ بم دھماکا حکومت اور انڈسٹری کے درمیان معاملات سیٹل کرا دے گا لیکن 14 لاشیں اٹھانے اور 70 زخمیوں کی تیمار داری کے باوجود ضد اور انا کی دیوار اسی طرح قائم ہے اور یہ دونوں فریق پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ حالات روز بروز خراب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
میں نے حکومت اور انڈسٹری دونوں کا موقف غور سے سنا‘ میں نے نیا ایکٹ بھی دیکھا‘ مجھے دونوں بیک وقت ٹھیک اور غلط لگ رہے ہیں‘ حکومت فارما انڈسٹری کو ریگولیٹ کرنا چاہتی ہے‘ یہ جعلی‘ غیر معیاری اور نقلی ادویات کا قلع قمع بھی کرنا چاہتی ہے‘ پاکستان میں مالکان بی اور ڈی فارمیسی کی ڈگری ادھار لے کر میڈیکل اسٹورز بنا لیتے ہیں‘ ادویات 25 ڈگری سینٹی گریڈ کے بعد خراب ہو جاتی ہیں ہمارے زیادہ تر میڈیکل اسٹورز میں ادویات کو ٹھنڈا رکھنے کا نظام بھی نہیں ہوتا‘ ہمارے ملک میں ادویات کی کوالٹی جانچنے کا بھی کوئی سسٹم موجود نہیں۔
پاکستان میں دھڑا دھڑ جعلی‘ غیر معیاری اور نقلی ادویات بھی بنتی ہیں‘ آپ نسخے کے بغیر کسی بھی میڈیکل اسٹور سے کوئی بھی دوا خرید سکتے ہیں اور ملک میں ہر سال خام ادویات کی وجہ سے سیکڑوں لوگ بھی مر جاتے ہیں‘ یہ ساری باتیں درست ہیں اور حکومت کو ان خامیوں کے تدارک کے لیے سسٹم بنانا چاہیے تھا اور حکومت نے یہ بنایا لیکن دوسری طرف انڈسٹری کا موقف بھی غلط نہیں‘ ملک میں 40 ہزار فارمیسیاں ہیں جب کہ فارماسسٹس صرف 9 ہزار ہیں‘ نئے قانون کے مطابق ہر فارمیسی پرایک فارما سسٹ لازم قرار دے دیا گیا ہے۔
ملک میں 31 ہزار فارما سسٹس کی کمی ہے‘ ہمارے میڈیکل اسٹورز یہ 31 ہزار فارماسسٹس کہاں سے لائیں گے؟ حکومت نے ڈرگ انسپکٹروں کو مجسٹریٹ کے اختیارات بھی دے دیے ہیں اور حکومت کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت ڈرگ انسپکٹر کا عہدہ بھی دے سکتی ہے‘ یہ انسپکٹر کسی بھی وقت کسی بھی شخص کو گرفتار کر سکتے ہیں‘ جرمانے اور سزائیں بھی بھاری ہیں‘ نقلی اور جعلی ادویات کی تعریف بھی واضح نہیں‘ حکومت گولی ٹوٹنے‘ کوٹنگ خراب ہونے اور پیکنگ پھٹنے پر بھی اسٹور کے مالک اور فیکٹری اونر کو گرفتار کر سکتی ہے۔
حکومت مشینری کی خرابی اور عملے کی غفلت کی سزا بھی مالکان کو دے گی‘ شکایت یا اطلاع کے بعد اسٹور اور فیکٹری پہلے بند ہو گی‘ پراڈکٹ پر پابندی پہلے لگے گی اور تفتیش بعد میں ہو گی‘ کاروبار میں ساکھ سب کچھ ہوتی ہے‘ حکومت شکایت پر اسٹور‘ فیکٹری اور پراڈکٹ بند کر دے گی‘ یہ شکایت اگر بعد ازاں غلط ثابت ہوئی تو بھی مالکان تباہ ہو جائیں گے۔
مالکان کا خیال ہے حکومت میں ایشو سے نمٹنے کی صلاحیت بھی موجود نہیں‘ صلاحیت کے بغیر اختیارات کنفیوژن اور کرپشن میں اضافہ کرتے ہیں‘ یہ بل کرپشن کے نئے دروازے کھول دے گا‘ قید اور جرمانے بھی زیادہ ہیں‘ میڈیکل اسٹور کا مالک سات کروڑ روپے تک جرمانہ کیسے ادا کرے گا اور آپ جب کاٹیں گے پہلے اور گنیں گے بعد میں تو کیا اس سے انڈسٹری کا بھٹہ نہیں بیٹھ جائے گا؟ وغیرہ وغیرہ۔
مجھے دونوں فریقین اپنی اپنی جگہ ٹھیک محسوس ہوتے ہیں‘ حکومت کا موقف بھی درست ہے اور مالکان کا نقطہ نظر بھی غلط نہیں‘ یہ مسئلہ آسانی سے حل ہو سکتا ہے بس دونوں کو درمیان سے انا کی دیوار گرانی ہو گی‘ دونوں کو میز پر بیٹھ کر مسئلہ حل کرنا ہو گا‘ دیوار گرنے کا عمل بہرحال حکومت کی طرف سے شروع ہونا چاہیے۔
حکومت نے اگر دیر کر دی تو یہ مسئلہ مزید بگڑ جائے گا اور سیکڑوں مریض اس بگاڑ کا نشانہ بن جائیں گے‘میری حکومت اور فارما انڈسٹری سے درخواست ہے آپ مریضوں کی بددعائیں نہ لیں‘ اللہ تعالیٰ بیماروں کے بہت قریب ہوتا ہے‘ آپ اس قربت سے بچیں‘ مسئلہ میز پر حل کریں ورنہ آپ لوگوں کو سرجیکل ٹیبل تک پہنچتے دیر نہیں لگے گی‘ آپ دونوں اللہ کے انتقام کا نشانہ بن جائیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *