Friday , August 17 2018
ہوم > کالم > کچھ تلخ سوال…….تحریر/ عائشہ غازی

کچھ تلخ سوال…….تحریر/ عائشہ غازی

پاک افغان سرحد غیر معینہ مدت کے لیے بند (آئی ایس پی آر)
یہ ”نوبت“ کیسے آئی؟ کھوکھلی جذباتیت سے نکل کر دیکھنا ہوگا.

ایک وقت تھا جب افغانستان پاکستان کی محفوظ ترین سرحد تھی اور قائد اعظم نے کہا تھا کہ یہاں ہمیں فوج کی ضرورت ہی نہیں، ایک دن کے نوٹس پر فوجیں یہاں سے مشرقی سرحد کی طرف بھیج دی گئیں. پھر ایک وقت تھا، پاکستان افغانستان پر حملہ کرنے والوں کے خلاف اس کے ساتھ مل کر لڑا بھی تھا اور افغانوں کو پناہ بھی دی تھی، اس کا احسان ضرور جتائیں، مگر پھر ذرا آگے چلیں.

پھر وہ وقت آیا کہ پاکستان افغانستان پر حملہ کرنے والوں کا ”فرنٹ لائن“ اتحادی ہے. اس جنگ میں جو لاکھوں بےگناہ شہری ہلاک ہوئے، اس میں فرنٹ لائن اتحادی کو بھی کوئی گناہ ثواب جاتا ہوگا؟ یاد رہے یہ وہ جنگ ہے جس کی منطق اور ہولناکیوں کے خلاف لندن جیسے شہر میں احتجاج ہو تو ہزاروں کا مجمع ہوتا ہے.

پھر ایک وقت ہے کہ پاکستان اپنے ملک سے (افغان) مہاجرین کو زبردستی نکالنے میں سب سے آگے ہے. شاید اس کے بعد ٹرمپ کے دور میں امریکہ اس دوڑ میں ہمارے برابر ہو. مجھے نہیں معلوم کہ افغان احسان فراموش ہیں یا نہیں، سب سے پہلے مجھے یہ دیکھنا ہے کہ اس ساری کہانی میں ہم کیا ہیں؟

مشرف کون تھا؟ وہ کون تھے جنھوں نے بلیک واٹر کو ویزے جاری کیے اور انہیں معلوم تھا کہ اسلام آباد سے پشاور تک کتنے گھر بلیک واٹر نے کرائے پر لے رکھے ہیں، وہ کون سا معاہدہ تھا جس کے تحت پاکستان اس جنگ میں شریک ہوا اور امریکہ کو ڈرون حملوں کی اجازت ملی؟ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تھے تو وہ ٹھکانے بنے کیسے؟ کراچی سے فاٹا تک پاکستان مخالف گروہوں کے پاس اسلحے کی کھیپ کس طرح پہنچتی ہے؟ وزیرستان کے جو لوگ پاکستان اور انڈیا کی جنگ میں پاکستان کے شانہ بشانہ لڑے، وہی چند دہائیوں کے بعد پاکستان کے دشمن کیسے قرار پائے؟ کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کی وجہ سے آج آزاد کشمیر آزاد ہے؟ جب بھی طالبان سے مذاکرات شروع ہوئے تو ان مذاکرات کو بےنتیجہ ختم کرنے والے عوامل کیا تھے؟ فاٹا میں بم برسوانے کی جلدی کسے اور کیوں تھی؟

سوال یہ بھی ہے کہ اگر ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ (جو ہم نے تب شروع کی تھی جب پاکستان میں کوئی دہشت گردی نہیں تھی) کی پالیسی درست ہے تو ایک دہائی میں یہ نتیجہ خیز کیوں ثابت نہیں ہوئی؟ اور اگر غلط تھی تو پالیسی تبدیل کیوں نہیں کی گئی؟

کیا پاکستان میں ہونے والی کسی دہشت گردی میں اور کوئی ہمسایہ ملک ملوث نہیں؟ کیا ٹی ٹی پی سے لے کر ایم کیو ایم تک کو کسی اور ہمسایہ ملک سے کمک نہیں ملتی؟ پھر صرف افغانستان کو دشمن ڈکلیئر کرنے پر اتنا زور کیوں ہے، اور کلبھوشن یادیو کے پکڑے جانے کے بعد بھارت کے ساتھ یارانے کی خواہش دم کیوں نہیں توڑتی؟ عالمی سطح پر انڈیا سے تعلقات دوستانہ بنانے پر زور کیوں ہے. اس ساری صورتحال میں ہم اپنی قومی اور اسلامی شناخت لے کر کہاں کھڑے ہیں؟

ان سوالوں کے جواب دیے جانے پاکستان کے صرف حال ہی نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ضروری ہیں، مگر یہاں جوابدہ کون ہے، اور سوال پوچھنے والا کون؟ حد یہ ہے کہ ہر دھماکہ پہلے لمحے سے ہی خود کش قرار دے دیا جاتا ہے تاکہ تحقیقات وہیں سمٹ جائیں، سوال نہ پوچھا جائے، بس جس کو جس سے تکلیف ہے، اسے گالی دے کر چین سکون سے اگلے حادثے کا انتظار کرے، عوام سستی اور اندھی جذباتیت کا شکار، حکمران اپنے دشمنوں کے غلام، قوم کے افراد بےحسی اور خودغرضی کی دلدل میں گم اور بے ہوشی ایسی ہے کہ سر پر کھڑی قومی موت تک کا احساس نہیں.

اس کا حل کیا ہے؟ حل اپنی اصل اسلامی شناخت کی طرف پلٹ کر اس کی مطابقت میں اپنی قومی اور انفرادی پالیسی ترتیب دینا ہے ورنہ دشمن ایسا ہے کہ ایک حملے سے دوسرے حملے تک ہمارے مطمئن ہو کر فتح کی خوشی منانے کا انتظار اور پھر وار کرتا رہےگا، آنے والا وقت پاکستان کے لیے کڑا امتحان لے کر آ رہا ہے، جسے اہل بصیرت دیکھ سکتے ہیں، مگر فیصلے ان کے ہاتھ میں نہیں. جمہوریت میں فیصلے عوام کے ہاتھ میں ہوا کرتے ہیں.

یہ بھی دیکھیں

اگر یاسمین راشد رکن قومی اسمبلی منتخب ہو جاتیں تو کیا ہوتا ۔۔۔۔۔ڈاکٹر اجمل نیازی نے ایسی بات کہہ دی جسکی آپ بھی تائید کریں گے

لاہور(ویب ڈیسک)سندھ اسمبلی کے لئے آغا سراج درانی سپیکر منتخب ہو گئے۔ ڈپٹی سپیکر شہلا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *