Friday , August 17 2018
ہوم > کالم > جاب انٹرویو کیسے دیا جائے؟ سید معظم معین

جاب انٹرویو کیسے دیا جائے؟ سید معظم معین

اب ہم یہ دیکھیں گے کہ جب آپ کو انٹرویو کی کال آ جائے اور آپ اس کے لیے تیار ہو رہے ہوں تو تب کیا کیا جائے۔

سب سے پہلی چیز اللہ تعالی پر یقین اور اپنے آپ پر اعتماد self confidence ہے۔ جب آپ انٹرویو کے لیے جا رہے ہوں تو یاد رکھیں کہ رزق کی کنجیاں اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہیں، اور جو نوالہ آپ کے لیے اللہ تعالی نے لکھ رکھا ہے، وہ دنیا کی کوئی طاقت آپ سے نہیں چھین سکتی، اور جو آپ کی قسمت میں نہیں ہے، وہ دنیا کی ساری قوتیں مل کر بھی آپ کو نہیں دے سکتیں۔ اللہ تعالی کی ذات پر کامل یقین آپ کو اعتماد کی دولت سے مالا مال کر دے گا۔

اس کے بعد دیگر چیزوں کی طرف آئیں۔ آپ کا لباس انتہائی نفیس اور صاف ستھرا ہونا چاہیے۔ جوتے بھی صاف اور پالش شدہ ہوں۔ بال وغیرہ سلیقے سے تراشے ہوئے اور آراستہ ہوں۔ کوئی اچھا سا پرفیوم مناسب مقدار میں لگا کر جائیں۔ انٹرویو کے مقام پر وقت سے پہلے پہنچیں مگر خیال رکھیں کہ وقت سے انتہائی پہلے پہنچنا بھی مناسب نہیں۔ اس حوالے سے ٹریفک کا مارجن رکھ کر گھر سے چلیں۔ آپ کے تمام کاغذات اور ان کی فوٹو کاپیاں آپ کے ہمراہ ہوں، جو سی وی آپ نے کمپنی میں دے رکھی ہے، اس کی ایک کاپی ضرور آپ کے پاس ہونی چاہیے۔ اپنی سی وی پر آخری بار نظر ضرور ڈال لیں، اور اس میں کوئی ایسی بات نہ لکھیں جس پر جرح ہو تو آپ جواب نہ دے سکیں۔

انٹرویو سے پہلے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ آپ جس کمپنی میں انٹرویو دینے جا رہے ہیں، اس کے متعلق ضروری معلومات حاصل کر لیں، اس مقصد کے لیے ان کی آفیشل ویب سائٹ فیس بک یا LinkedIn پیج سے مدد لی جا سکتی ہے۔ کوئی دوست جو اس کمپنی میں پہلے سے کام کر رہا ہو یا کر چکا ہو، اس سے مشورہ بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

انٹرویو کی جگہ پر وقت سے پہلے پہنچنے سے آپ اپنے حواس کو بحال کر سکیں گے، اور اعضا کو نارمل کر سکیں گے۔ انتظار کے دوران بےتابی اور بمروتی کا اظہار نہ کریں۔ دیگر امیدواران اور دفتر کے عملے سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھیں کہ خوش اخلاقی اور چاپلوسی میں فرق ہوتا ہے، اپنی عزت نفس کا خیال بھی رکھیں۔

انٹرویو کے دوران اعتماد کا مظاہرہ کریں۔ سوال کرنے والے کی آنکھوں میں دیکھ کر اعتماد سے بات کریں۔ ذہن میں رکھیں کہ صفائی کی طرح انٹرویو کرنے والے اعتماد کے بھی علیحدہ نمبر دیتے ہیں۔ انٹرویو کے پینل میں سے جو صاحب سوال کریں ان کی طرف دیکھ کر جواب دیں۔

اکثر انٹرویو اس سوال سے شروع ہوتا ہے کہ اپنا تعارف کروائیں۔ introduce yourself

اس سوال سے ان کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آپ انہیں اپنی سوانح حیات بتانا شروع کر دیں بلکہ اس سوال سے وہ آپ کا اعتماد، ترقی کرنے کا جذبہ اور کمیونی کیشن سکل دیکھنا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ یہاں آپ اپنی تعلیم دلچسپیوں اور قابلیتوں کا مختصر خلاصہ بتائیں۔ مثلاً آپ انجینئر ہیں، فلاں یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی ہے، اگر کوئی سپیشلائزیشن ہے تو وہ بتائیں۔ جس فیلڈ میں دلچسپی ہے، اس کے متعلق بتائیں، اور اپنی دیگر اہم سکلز کے متعلق خصوصا ذکر کریں، مگر یاد رکھیں یہ سب مختصر ہونا چاہیے۔ اگر کسی چیز کے بارے میں وہ تفصیل پوچھنا چاہیں گے تو وہ پوچھ لیں گے، تب آپ تفصیلا ذکر کر سکتے ہیں۔

ایک اور دلچسپ سوال جس کا جواب اکثر مشکل لگتا ہے، وہ یہ ہے کہ اپنی خوبیاں strength اور خامیاں weaknesses بتائیں. اس سوال سے بھی مہارت سے نمٹا جا سکتا ہے۔ مثلاً آپ اپنی خوبیاں تو کئی گنوا سکتے ہیں جیسے کسی خاص کمپیوٹر سکل میں مہارت یا کمیونیکیشن سکل میں اچھا ہونا، دوستانہ مزاج رکھنا وغیرہ لیکن کوئی ایسی خامی جو آپ کی تمام خوبیوں پر پانی پھیر دے، وہ ظاہر کرنا ہرگز ضروری نہیں۔ مثلاً اگر آپ یہ کہہ دیں کہ میں غصے کا بہت تیز ہوں اور اگر غصے آ جائے تو ہر چیز تہس نہس کر دیتا ہوں، یہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے انٹرویو میں بتایا جا سکے۔ بلکہ اس سوال کے جواب میں کمال یہ ہے کہ آپ اپنی خامی بھی ایسی بتائیں جو دراصل ایک خوبی ہی ہو۔ مثلاً اگر آپ کہیں کہ میں ہر کام کو پرفیکٹ کرنا چاہتا ہوں، یہ میری کمزوری ہے جس کے باعث بعض اوقات میں آرام بھی نہیں کر پاتا، یا گھر والوں کو بھی وقت نہیں دے پاتا، جس پر وہ اکثر شاکی رہتے ہیں۔ لیکن خیال رکھیں کہ جھوٹ کسی صورت میں جائز نہیں۔ اگر آپ ایسا جواب دینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے پھر ضروری ہے کہ اپنے اندر وہ ”کمزوریاں“ پیدا بھی کریں۔

اس سوال سے پوچھنے والے آپ کی تجزیاتی صلاحیتوں analytical skills کو جاننا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ کس قدر اپنے آپ کو جانتے ہیں لہذا اس سوال کی خاص تیاری کر کے جائیں۔

انٹرویو کے آخر میں اکثر انٹرویو کرنے والے آپ کو سوال کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ کہ اگر آپ کچھ پوچھنا چاہیں۔ یہاں آپ ان سے کمپنی یا اس پوزیشن کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں، جیسے آپ کی سی وی دیکھنے کے باوجود وہ آپ سے آپ کے بارے میں معلومات دریافت کرتے ہیں ویسے ہی آپ بھی جاب ڈسکرپشن پڑھنے کے باوجود جاب کے متعلق سوالات کر سکتے ہیں۔ ان سے ملازمین کی کارکردگی جانچنے کا طریقہ کار یا اس پوسٹ سے متعلق ان کی توقعات دریافت کر سکتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

اگر یاسمین راشد رکن قومی اسمبلی منتخب ہو جاتیں تو کیا ہوتا ۔۔۔۔۔ڈاکٹر اجمل نیازی نے ایسی بات کہہ دی جسکی آپ بھی تائید کریں گے

لاہور(ویب ڈیسک)سندھ اسمبلی کے لئے آغا سراج درانی سپیکر منتخب ہو گئے۔ ڈپٹی سپیکر شہلا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *