Sunday , October 21 2018
ہوم > کالم > ڈیفنس بلاسٹ۔۔۔۔۔۔تحریر/حسن تیمور جھکڑ

ڈیفنس بلاسٹ۔۔۔۔۔۔تحریر/حسن تیمور جھکڑ

رد الفساد کاآغاز ہی فساد سے ہوا ہے۔۔پنجاب میں دہشتگردوں اوراُن کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن کا اعلان تو آرمی نے کیا ہے مگر اسے شروع شرپسندوں نے کردیا ہے ۔۔۔ مال روڈ دھماکے کی گونج تھمی نہ تھی کہ لاہور کے سخت سکیورٹی والے پوش علاقے ڈیفنس میں ملکی و غیرملکی برانڈز کی آوٹ لٹس کی حامل مارکیٹ میں دھماکہ کردیاگیا۔۔

حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کی دھجیاں بکھرنے کے بعد جب ہاتھ کھڑے کیے تو حسب معمول ملک کے واحد مضبوط (وسائل کے لحاظ سے) ادارے کو ہی میدان عمل میں اترنا پڑا ۔۔۔آپریشن رد الفساد ان فسادیوں کے خلاف شروع کیا گیاہے جن کی روزی روٹی جنگ و جدل سے چلتی ہے ۔۔ یہ لوگ دنیا بھرمیں کسی بھی جگہ لڑنے کو تیار رہتے ہیں ۔۔ کہیں یہ زبان کی بنیاد پہ لڑنے کا ڈرامہ کرتے ہیں تو کہیں قوم کی بنیاد پہ۔۔۔ کہیں ان کی آڑ مذہب بنتا ہے تو کہیں یہ سیاست کا نام لیتے ہیں ۔۔مگر اصل میں یہ لوگ پیسے کے لیے لڑنے والے لوگ ہیں اور جنگ و جدل ان کا دھندہ ہے (افغان اور روس سے آزاد ہونے والی ریاستوں کے کچھ حصے)۔ ان فسادیوں کو دنیا میں تقریبا ہرجگہ ہی خاطر خواہ کامیابی مل رہی ہے اور یہ آسانی سے اپنا دھندہ سرانجام دیتے آئے ہیں ۔۔ مگر پاک دھرتی پہ یہ دھندہ ان کے لیے خاصا گندا رہا ہے کہ ان کا مقابلہ اپنے گھر کے شیروں سے رہا ہے۔۔ ہوم گراونڈ پہ اچھا ٹریک ریکارڈ رکھنے فورس نے ان دہشتگردوں کی اپنی ضرب عضب سے کمر توڑ کر رکھ دی۔ دنیا کی نمبر ون فوج کےاس کارنامے نے ہر اس شخص کو اس کا دشمن بنادیا ہے جو مملکت خدا داد کابیری ہے ۔۔ سو اس لیے ان کرائے کے قاتلوں کا اصل ہدف بھی پاک فوج ہی ٹھہری ۔۔۔ اب جب یہ ٹوٹی کمر والے دہشتگرد اس ملک سے خاتمے کے قریب ہیں تو آخری کوشش کے طور پہ انہوں نے آپریشن غازی کا اعلان کیا ہے۔۔ اس آپریشن میں اپنے غیرملکی آقاوں کے ساتھ ساتھ انہی مقامی شیطانوں کا تعاون بھی حاصل ہے جس کی ڈائریکٹ کڑیاں اقتدار کےچھوٹے ایوانوں کے راستے بڑے ایوان تک جاتی ہیں۔ اور پاک فوج تو ان کی بھی دشمن ہے سو ان دونوں نے اس فورس کو سبق سکھانے کے لیے باقاعدہ طور پہ اسی کونشانہ بنانے کاعمل شروع کررکھا ہے ۔۔ بلوچستان,سندھ اور کےپی کے کے بعد اب پنجاب میں بھی فوج کونشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔۔

ذرائع کے مطابق لاہور کے پوش علاقے میں ہونے والے دھماکے میں فورسز کو ہی نشانہ بنایا گیا تھاتاہم ہلاکتوں کے حوالے سے تصدیق نہ ہوسکی ۔۔۔ دھماکے کے بعد میڈیا پر پہلے اسے جنریٹر دھماکہ اور بعد میں کسی کیمیکل کی کارستانی قرار دینے کی بھی کوشش کی گئی ۔۔تاہم جلد ہی مادر پدر آزار میڈیا نے 8، 10 سویلین لاشیں ڈھونڈ نکالیں۔۔ اگر اس واقعہ کابغور جائزہ لیں تو یہ سوچ کر خاصی حیرانگی ہوتی ہے کہ اس علاقے تک اتنا بارودی مواد (25 کلو) پہنچا کیسے وہ بھی باآسانی ۔۔ یہاں اس دیرینہ شبے کو تقویت ملتی ہے کہ شرپسندوں کو اندرونی حمایت حاصل ہے ۔۔ اور جب گھر کا بھیدی بلکہ کتی ہی چوروں سے ملی ہوئی ہو تو پھر

“ڈیفنس بلاسٹ”۔۔۔۔” تو ہونا ہی ہے ۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *