ہوم > کالم > بھیک نہیں،ریڑھی چاہیے۔۔۔تحریر/محمدمناظرعلی

بھیک نہیں،ریڑھی چاہیے۔۔۔تحریر/محمدمناظرعلی

فلیٹیزہوٹل کے سامنے کھڑے ادھیڑعمرشخص کوآج پھردیکھا،اسے اس سے قبل گورنرہاؤس کے باہرشاہراہ ایوان صنعت وتجارت کی طرف آتے ہوئے اُلٹی طرف سڑک کنارے بھی کئی باردیکھ چکاہوں،یہ شخص ایک تحریروالاچاٹ اٹھائے کھڑاہوتاہےجس پراس نے اپنامسئلہ درج کررکھاہے،کاغذکایہ ٹکڑااس کے منہ کے بالکل آگے ہوتاہے تاکہ چہرہ واضح نہ ہومگرہرآنے جانے والے پراس کی نظرہوتی ہے،مجھے اسے  کئی باردیکھ کرتجسس ہوتارہاکہ میں اسے بلاکرمسئلے کی مزیدوضاحت پوچھوں گا لیکن جب بھی ارادہ کیا،سگنل کھل گیا،ٹریفک چل پڑی اورمیرے ارادے کوتکمیل نہ پہنچ پائی،اب ایک بارپھراسے دیکھاتواس کے پاس کھڑاہوگیا۔۔۔

میں نے اس سے سوال کیاکہ آپ اس طرح اندھیرے میں کیوں کھڑے ہوتے ہیں؟؟ کبھی دن کے وقت نظرنہیں آئے اورمنہ بھی چھپاکررکھتے ہیں،کہنے لگاغریب ضرورہوں،مجبوربھی ہوں مگر پیشہ وربھکاری ہوں اورنہ ہی عزت نفس پرکوئی سمجھوتہ کرسکتاہوں،اس لیے مجبورااندھیرے میں کھڑاہوکریہ تحریر تھام لیتاہوں،کسی کی نظرپڑے جائے توکوئی مددکردیتاہوں اورزیادہ ترلوگ توادھردیکھتے بھی نہیں،میرے پوچھنے پراُس بزرگ نے بتایاکہ میں ایک ریڑھی بان تھاجس کاگزربسر اس کی اسی اکلوتی ریڑھی سے ہوتاتھا،ایک دن تجاوزات کیخلاف آپریشن ہوااورمیری روزی کاواحدسہاراریڑھی بھی انتظامیہ کے اہلکاراٹھاکرلے گئے،ریڑھی کاپیچھاکرتا کرتامتعلقہ دفترپہنچا،منتیں سماجتیں کیں کہ میں غریب ہوں،ان پڑھ ہوں،تجاوزات کس بلاکانام ہے مجھے کیامعلوم؟؟۔۔۔آپ جہاں کہیں گے ریڑھی لگالوں گا،کہیں گے توکسی گلی محلے میں لگالوں گا،بس مجھ سے میری روٹی نہ چھینی جائے۔۔۔

المیہ یہ ہے کہ کچھ افسران اوراہلکاربھی سبھی کوایک ہی نظرسے دیکھتے ہیں،میری سنی ان سنی کردی گئی،بار بارجاتارہامگراب توکباڑمیں پڑی میری ریڑھی کابھی ستیاناس ہوچکاہےاورکباڑکے ڈھیرمیں پڑی پڑی گل سڑرہی ہے،پھربھی میری ریڑھی کی یہ بوسیدہ لاش میرے حوالے نہیں کی جارہی ہے،رشوت مانگی جاتی ہے ورنہ کوئی چارہ نہیں،بھیک مانگ رہاہوں تاکہ پیسے جمع کرکے ریڑھی لے سکوں لیکن اتنے پیسے ہی جمع ہوتے ہیں جس سے مشکل کیساتھ کوئی کھانے پینے کی چیزلے پاتاہوں،آباؤاجداد کی طرف سے کوئی زمینیں ہیں،نہ کوئی اورسرمایہ،نوکری ہے نہ کاروبار،ہڈیوں میں بھی اتنادم نہیں کہ ٹوکری اٹھاسکوں ورنہ ریڑھی چلاکربھی تومزدوری ہی کرتاتھا،اگرکچھ سکت ہوتی توٹوکری اٹھالیتالیکن اب سڑک کنارے کھڑے ہونے کے سواکوئی چارہ نہیں،کیاکروں بابو،کیاکروں میں؟؟؟۔۔۔تم بھی میری کہانی لکھ کراپنی ریٹنگ بڑھاؤگے،میرابھلاکون کرے گا؟؟میرامسئلہ حل کون کرے گا؟؟۔۔۔مجھے بھیک نہیں چاہیے،مجھے میری ریڑھی چاہیے،مجھے روزگارچاہیے،میں عزت سے کام کرناچاہتاہوں مگرکوئی میری باتوں کایقین کرنے کوتیارنہیں یہاں تک کہ کوئی میری باتیں سنتاتک نہیں،یہ تم پتہ نہیں کیوں فٹ پاتھ پرکھڑے ہوکراپنا وقت بربادکررہے ہو؟؟۔۔۔کون ہو؟۔۔سادہ وردی میں پولیس والے تونہیں؟؟؟۔۔۔مجھے پکڑناچاہتے ہو؟؟۔۔۔میں توکہتاہوں پکڑہی لومجھے،کم سے کم حوالات میں دال روٹی تودوگے نا؟؟ لیکن میرے بیوی بچوں کاکیاہوگا؟؟؟۔۔۔وہ بھی بھیک مانگنانہ شروع کردیں؟؟؟۔۔۔نہ صاحب نہ۔۔۔۔مجھے مت پکڑنا ورنہ میرے گھروالے رُل جائیں گے،مجھے میری ریڑھی چاہیے،روزگارچاہیے،بھیک نہیں چاہیے۔۔۔۔

یہ سنتے ہوئےمیرے آنسونکل رہے تھے اورلکھتے ہوئے بھی آبدیدہ۔۔۔۔۔کاش ہم جان پائیں،کاش ہم سمجھ پائیں،اپنی معاشرتی ذمہ داریاں اداکرنے کی ضرورت ہے،اپنے عہدے کاغلط استعمال روکنے کی ضرورت ہے،ہم غریب کوروٹی دے نہیں سکتے تواس سے چھیننے کابھی کوئی حق نہیں۔تجاوزات کیخلاف آپریشن ہونے چاہیں مگرریڑھیوں اورپٹوں سے اپنے گھرچلانے والوں کابھی کچھ سوچناچاہیے۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

اتنا مہنگا کمر بند ، پاگل ہے کیا ؟ وسعت اللہ خان

گذشتہ برس مئی کی بات ہے۔کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں ایک فلیٹ کے …

15 تبصرے

  1. اس میں قصور وار کون ہے ؟؟ بطور معاشرہ ہم

  2. بہت خوب،اعلیٰ تحریر ہے،باقی لکھنے والوں کوبھی اس طرح کرناچاہیے تاکہ لوگوں کی بھلائی ہو۔۔

  3. اچھی منظرکشی ہے مناظرصاحب۔

  4. مناظربھائی اچھا کالم ہے،ہرروزلکھاکریں۔

  5. حکومت ایسے لوگوں کاکیوں نہیں کچھ کرتی؟؟؟۔۔حیرت ہے وزیراعظم کے شہرمیں لوگ یوں سڑکوں پرذلیل ورسوا ہورہے ہیں؟؟

  6. گورنمنٹ کوکوئی ایساقانون بناناچاہیے جس سے غریب آدمی کوغلطی پرسزاضرورملے مگراس کی معاشی پریشانی نہ بڑھے۔۔

  7. پنجاب حکومت کی ماڈل ریڑھیاں کہاں لگتی ہیں؟؟؟؟۔۔۔۔وہ سب باتیں ہی تھیں؟؟

  8. کامل علی

    اپناخیال توہرکوئی رکھتاہے،مگردوسروں کے مسائل اجاگرکرناکسی کسی کاہی کام ہے۔۔۔۔قابل تحسین تحریرہے مناظرصاحب۔۔

  9. Very nice Sir Manazer Ali

  10. جمشیداقبال چوہدری

    agr me is ki help krna chahon to kis trh ho sakti hy….koi mobile number shere krden plzzzzzzz

    • جمشید صاحب بہت شکریہ ،اس نمبر پر رابطہ کر لیں اگر اس کی ہیلپ کرنا چاہتے ہیں۔
      03016672677۔

  11. ظہیرعباس

    انداز تحریرخوب ہے،اللہ تعالیٰ مزید ترقی دے۔۔امین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *