Sunday , October 21 2018
ہوم > کالم > حسین شادلئی۔ تینوں رون گے دلاں دے جانی- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

حسین شادلئی۔ تینوں رون گے دلاں دے جانی- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

ایک اک کر کے ستاروں کی طرح ٹوٹ گئے
ہائے کیا لوگ مرے حلقہ احباب میں تھے
برادرم حسین شاد بھی چلا گیا۔ وہ جہاں ہوتا دوستوں کو شاد کر دیتا۔ ہم وحدت کالونی میں تھے۔ جب دلدار زندہ تھا تو ہر روز صبح کے وقت ملتے۔ دلدار صبح کی سیر کرتا تھا۔ اس کی سیر اتنی تھی کہ حسین شاد کے گھر تک جاتا پھر وہ دونوں میرے پاس آ جاتے۔ دلدار میری بیوی رفعت سے کہتا۔ بھابھی ادرک والی چائے پلائو اور جیب سے ادرک نکال کر دیتا۔ صرف ایک دن رفعت نے کہا تھا کہ دلدار بھائی ادرک نہیں ہے۔
دلدار چلا گیا اور اب حسین شاد بھی وہیں چلا گیا۔ غریب آدمی تھا۔ ساری عمر ملازمت کی کلرکی کی۔ مگر وہ بلا کا خودار تھا۔ اس نے اپنی خوداری دوستوں پر مسلط نہ کی۔ کئی لوگ غیرت مند ہوتے ہیں یہ اچھی بات ہے مگر وہ ساری عمر اپنی غیرت کا ڈھونڈورا پیٹتے رہتے ہیں۔
شاد حسین مسکین آدمی تھا مگر مسکینی اس کا ذاتی معاملہ تھا۔ وحدت کالونی میں بہت سی بہتری دلدار کی وجہ سے آتی رہی۔ وہ بہت اہل اور آرٹسٹ آدمی تھا۔ اس کی وجہ سے ہنسی پورے وجود میں وجہ کرتی تھی مگر وہ ’’بڑے بڑے‘‘ لوگوںکے درمیان حسین شاد کو بہت عزت دیتا تھا۔ حسین شاد عزت اور عظمت کے قابل تھا۔ مدثر اقبال بٹ ہمارا بہت قریبی دوست ہے۔ میرے دل کے وہ بہت قریب ہے۔ وہ جن کو واقعی اپنا دوست سمجھتا ہے۔ ان کی اتنی عزت کرتا ہے کہ وہ بوکھلا جاتے ہیں اور پھر فوراً سنبھل بھی جاتے ہیں حسین شاد کی رحلت کی خبر بیٹی شگفتہ نے دی اور یہ بھی کہا کہ سب سے پہلے آپ کو فون کررہی ہوں اور ایسا ہی ابو آپ کیلئے سمجھتے تھے میں پہنچا تو مدثر اقبال بٹ مجھ سے پہلے وہاں موجود تھا ہم رات دیر گئے تک غمزدہ بیٹھے رہے اور حسین شاد کی باتیں کرتے رہے۔ جب دوسرے دن جنازہ نکلا تو مدثر کے کندھوں پر حسین شاد تھا۔ اس نے کسی کو جنازے کے قریب نہ آنے دیا۔ مدثر کمال کا درست ہے اور بہت خیال رکھتا ہے۔ پنجابی کیلئے ڈٹ کے کھڑا ہے مگر اردو اور اردو شاعروں ادیبوں کے خلاف نہیں۔ اسے خبر ہے کہ پنجابی وہی اچھا لکھتے ہیں جو اردو میں بھی اپنا نام مقام رکھتے ہیں۔ مگر اس نے کبھی پنجابی کے علاوہ بات نہیں کی۔ بڑی بڑی تقریبات میں اس نے ہمیشہ پنجابی میں تقریر کی۔ وہ دھڑلے کا آدمی ہے اور دھڑے کا آدمی ہے۔ دوسرے دن حسین شاد کے قل شریف تھے۔ تو وہ مجھے ساتھ لے گئے۔
مولوی صاحب دعا کر رہے تھے کہ شاد صاحب کے خاندان میں ان کے سب رشتہ داروں، دوستوں پر اے اللہ رحم فرما اور ان کی محبتیں ان کے ساتھ ساتھ زندہ رکھ۔ میں نے مدثر اقبال بٹ سے کہا کہ اس فہرست میں ہم دونوں بھی شامل ہیں۔ حسین شاد کا ایک ہی بیٹا ہے وقار حسین شاد اپنے عظیم والد کی ساری رفاقتوں کو پوری ذمہ داری سے نبھانے کی کوشش کرتا ہوا بہت اچھا لگتا ہے۔ قل شریف میں شریک لوگوں میں ممتاز ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید نمایاں نظر آ رہے تھے۔ مجھے ایک بات کا دکھ ہے کہ ہماری ادبی برادری سے بہت کم لوگ حسین شاد کو الوداع کرنے کی کسی روایت میں شریک نہیں ہوئے۔ ان کے علاوہ عام لوگوں کا ایک ہجوم تھا جو حیرت سے ہمیں دیکھ رہا تھا۔
ریڈیو پاکستان سے پروگرام ’’سوہنی دھرتی‘‘ پر بھی حسین شاد کی آواز گونجتی تھی اور لوگ بہت محبت سے اس کی باتیں سنتے تھے۔ وہ لوگوں میں بہت مقبول تھے۔ وہ مشہور کہانی کا ر تو تھے۔ شاعر ڈرامہ نگار براڈ کاسٹر کمپئر کالم نویس بھی تھے۔ ’’وادی رُت‘‘ کے نام سے کالم بھی لکھتے رہے۔ ان کی کتابوں کے نام ’’شہر دے نغمے‘‘ تیریاں گلاں فیر کراں گئے‘‘۔ اپنے گہرے دوست دلدار کیلئے ’’دلیر دلدار‘‘ منہاس جگنو چن تے تارے اپنی ہڈبیتی ’’سامنے بیٹھ کے رونا‘‘ اس کے علاوہ نامور پنجابی ایڈیٹر مدثر اقبال بٹ کے روزنامہ ’’بھلیکھا‘‘ اور ماہنامہ ’’ناگ منی‘‘ میں باقاعدگی سے لکھتے۔ اب بھی ایک تفصیلی تحریر اور تصاویر ’’بھلیکھا‘‘ میں شائع ہوئی ہیں۔ پی ٹی وی پر ایک مستقل پروگرام ’’اکو الف ترے درکار‘‘ لانگ پلے ہیر رانجھا اور پھیری والا بہت مشہور ہوئے۔ ریڈیو پاکستان دے معروف پروگرام تلقین شاہ کیلئے ماسٹر جی کا کردار کئی برسوں تک کرتے رہے۔ انہیں زندگی میں کئی ایوارڈز بھی ملے مگر انہوں نے کبھی ذاتی طور پر اپنی پبلسٹی کی طرف کوئی دھیان نہ دیا میرے خیال میں پنجابی کا ایک عظیم لکھاری اور آرٹسٹ رخصت ہو گیا
تینوں رون گے دلاں دے جانی
تے ماپے تینوں گھٹ رون گے

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *