ہوم > کالم > امانتِ عقل و علم- ھارون الرشید

امانتِ عقل و علم- ھارون الرشید

وہ امانت کیا تھی ؟ جو آسمانوں اور پہاڑوں کو پیش کی گئی جس کا بوجھ اٹھانے سے انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ امانتِ عقل و علم۔ آدمی خواہ حق پر ہو ‘ حکمت سے دستبردار ہو کر فقط خواہش اور جذبات کا ہو جائے تو ناکامی ہی مقدر ہوتی ہے۔
سرگودھا کی سکہّ بند قدیم پنجابی کا ایک لفظ ہے ”بھورنا‘‘ کسی خستہ چیز‘ خاص طور پر مٹی کے ڈھیلے کو انگلیوں سے رگڑا جائے تو اسے بھورنا کہا جاتا ہے۔ وضع داری سے قائم رہنے والے مراسم کا الفت سے ذکر ہو تو قرار دیا جاتا ہے کہ فلاں نے ذرا سا بھی بھورا نہیں۔
1995ء میں اسلام آباد کے جس عینک ساز تنویر صاحب سے پہلی بار عینک بنوائی‘ وہ ایک شائستہ آدمی ہیں۔ رشتہ و تعلق کی اہمیت سے آشنا۔ چند ماہ پہلے تک عینک گم کرنے کا عادی تھا۔ دو تین بنواتا اور ایک ایک کر کے کھو دیتا۔ کبھی جہاز میں‘ کبھی کسی ملاقاتی کے ہاں اور کبھی کبھی تو گھر میں بھی۔ قلم‘ موبائل فون‘ حتیٰ کہ تسبیح تک کا یہی معاملہ عمر بھر رہا۔ سات آٹھ برس سے موبائل گم نہیں ہوتا۔ قلم بھی خال ہی۔ عینک کھو جانے سے کوفت الگ ہوتی ہے اور مشکلات سوا۔ خاص طور پر دوسرے شہر میں۔ لاہور میں ایک بار ایسا ہوا۔ چھٹی کا دن‘ ناخواندہ آدمی‘ بڑی مصیبت رہی۔ کوئٹہ کے خان صاحب بہت ہی خوش اخلاق تھے‘ مگر وقت کم اور آلات ان کے پرانے تھے۔
تین ماہ ہوتے ہیں‘ آخری عینک کھو گئی تو تنویر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ کیسی شاندار دوکان ہے۔ پنج ستارہ ہوٹل کی طرح چمکتے درودیوار اور فرش‘ مستعد عملہ۔ تنویر خود کھلاڑی ہیں اور بشاش آدمی۔ معائنہ کیا تو بتایا کہ آنکھوں میں موتیا اتر آیا ہے‘ چند دن میں آپریشن کرنا ہو گا۔ تسلی دی کہ چند منٹ کی بات ہے‘ درد بالکل نہ ہو گا‘ بس دو تین دن کے لئے ٹی وی‘ تحریر اور مطالعہ ترک کرنا ہو گا۔ دکان کے ساتھ ہی کلینک ہے۔ ان کی اہلیہ محترمہ معالج ہیں۔ آنکھوں کے ایک مشہور سرجن سے معاہدہ ہے۔
دن طے پا گیا‘ صرف وقت کا تعین کرنا تھا۔ معلوم نہیں کیوں دل مطمئن نہ ہوا۔ ارادہ کیا کہ کسی ممتاز معالج سے معائنہ کرا لیا جائے۔
زمانہ گزرا‘ کبھی کسی سرکاری ہسپتال کا منہ نہیں دیکھا۔ بچے پرائیویٹ علاج گاہوں کا رخ کرتے ہیں اور یہ ناچیز فوجی ہسپتال کا۔ پتے میں درد ہوا تو کوئی ڈاکٹر تشخیص نہ کر سکا۔ وہ معدے کا علاج کرتے رہے اور شب بھر درد سے تڑپتا رہا۔ اگلی صبح گیارہ بجے سی ایم ایچ راولپنڈی کا رخ کیا۔ ایک مشہور معالج کا سامنا ہوا۔ اسلام آباد میں علامہ طاہر القادری کا دھرنا جاری تھا۔ دیکھتے ہی بولے : اس بارے میں آپ کا خیال کیا ہے۔ عرض کیا : درد سے مرا جا رہا ہوں‘ آپ کو سیاست کی سوجھی ہے۔ ہنسے اور کہا کہ درد تو ابھی تمام ہوا جاتا ہے۔ عرض کیا :علامہ صاحب پیہم ہنگامہ آرا نہیں رہ سکتے۔ ہماری سیاست کا وہ کوئی مستقل کردار نہیں۔ کبھی کبھار تماشا رچا سکتے ہیں۔ انہوں نے قہقہہ لگایا اور بولے : میں بتائوں آپ کو؟…وہ بھارتی فلم کا آئٹم سانگ ہیں کہانی سے جس کا کوئی تعلق نہیںہوتا۔ بعدازاں جنرل کیانی کو یہ واقعہ سنایا تو انہوں نے کہا : اتنے طباع شاید جنرل صاحب نہیں‘ کسی اور سے سنا ہو گا؛ اگرچہ ان جنرل سے کیانی صاحب کی گپ شپ رہا کرتی مگر غالباً وہ انہیں سمجھے نہیں۔ عرض کیا کہ وہ اتنے ہی خوش کلام ہیں۔ علاج انہوں نے بڑی دردمندی اور محبت سے کیا۔ آپریشن تک نوبت نہ پہنچی۔جنرل کیانی کو بتایا تو انہوں نے کہا : ہمارے ہسپتال بہت اچھے ہیں۔ ان کی بات گرہ میں باندھ لی۔ کیانی مبالغہ آرائی سے گریزاں رہتے ہیں۔
دھرنا جاری تھا۔ شاہ محمود اور برادر محترم جاوید ہاشمی کا کپتان سے اصرار تھا کہ ایک وفد ان کے ہاں بھیجیں‘ علامتی حمایت کے لیے۔ میں نے اسے فون کیا : بالکل نہ بھیجنا۔ کہا پارٹی کا اجلاس جاری ہے اور اصرار بڑھتا جا رہا ہے۔ عرض کیا : اجلاس لمبا کر دو‘ تھک جائیں تو بات ٹل جائے گی۔
لگ بھگ ڈیڑھ سال کے بعد‘ درد پھر اسی قہرمانی سے اُٹھا‘ اسی طرح شب کو۔ اسی طرح علامہ صاحب دھرنا دیئے بیٹھے تھے اور خان صاحب بھی۔ وہی ڈاکٹر وہی ہسپتال۔
اب یہ ایک دھماکہ خیز صورتِ حال تھی۔ جولائی کے اختتام یا اگست کے اوائل میں کپتان سے میں ملنے گیا اور کہا کہ اس بکھیڑے میں مت پڑنا۔ زمانہ وہ ہے کہ کرکٹ کا میچ بھی لوگ ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ لونڈے لپاڑے شور و غوغا کریں گے۔ پانچ لاکھ کیا‘ ایک لاکھ بھی جمع نہ ہوں گے۔ اس کے مداحوں اور کارکنوں کی طرف سے‘ اکثر مجھ سے فرمائش کی جاتی ہے کہ اسے مشورہ دو۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس آدمی سے بات کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایک تو وہ خود بڑی بزرگ ہستی ہو گیا ہے۔ دوسرے سقراطوں کی ایک پوری فوج اس کے گرد جمع ہے۔ کوئی دن تھے کہ سن ضرور لیا کرتا تھا اور گاہے مان بھی لیتا۔ کانوں کا کچا ہے اور سیاسی فراست سے نابلد۔ تب اس کا انحصار کم تجربہ کار لوگوں پہ تھا۔ ڈھنگ کی بات شاذ ہی ان کے ادراک میں آتی۔ مثلاً ایک غیر رسمی سے اجلاس میں‘ میں نے قائل کر لیا کہ جماعت کا نام تحریک انصاف کی بجائے‘ پاکستان انصاف پارٹی ہونا چاہیے۔ سبھی مان گئے ‘ کچھ داد بھی دی۔ یار عزیز طارق پیرزادہ اس پر بہت شاد تھے‘ حالانکہ پارٹی کا وہ حصہ نہیں۔ طے شدہ بات پہ عمل درآمد نہ ہوا تو خان سے استفسار کیا۔ فرمایا: کراچی والے نہیں مانتے۔ کراچی والے کیا علم الاسماء کے ماہر ہیں یا Marketing کے ایکسپرٹ؟ سوال کا جواب نہ ملا اور ایک بہترین تجویز کوڑے دان میں ڈال دی گئی۔ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ آئندہ الیکشن میں تحریک انصاف معجزہ کر دکھائے گی۔ انہیں اندازہ ہی نہیں کہ خان صاحب اور ان کے حواری‘ خود شکنی کی کس غیر معمولی صلاحیت کے حامل ہیں۔ پانچ سات ٹکٹ تو اللہ کے فضل سے‘ شاہ محمود ہی ضائع کر دیں گے۔ عدم تحفظ کا شکار‘ وہ اپنے پرانے ساتھیوں کو زیر بار احسان کرنے پر تلے رہتے ہیں۔ دو چار کچھ دوسرے لیڈر ۔شاہ محمود تو خیربیچتے نہیں‘ کچھ اور بھی ہیں جو خریدوفروخت کرتے ہیں۔الیکشن2013میں‘ کراچی میں‘ ایم پی اے کا ایک امیدوار مبلغ ساٹھ ہزارروپے وصول کر کے ایم کیو ایم کے حق میں دستبردار ہو گیا تھا۔ شریف خاندان سے لوگ عاجز آ چکے۔ حامیوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ کاروباری طبقات ‘ منتخب ہونے کے اہل امیدوار‘ بعض عرب ممالک‘ چین‘ ترکیہ اور مغربی دنیا‘ انہیں گوارا کرے گی۔ اس کی وجوہات ہیں مفادات اپنی جگہ اور ان کی اہمیت ہے۔ عمران خاں اور اس کی پارٹی کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ عمل کے نہیں وہ الفاظ کے لوگ ہیں۔ پرویز خٹک کچھ مختلف ہیں خود کو بچا لے گئے۔ آئندہ بھی وہ جیت سکتے ہیں۔ بلوچستان میں پارٹی کا وجود ہی نہیں۔ جب بھی معرکہ ہوا سندھ اور پنجاب میں جوتیوں میں دال بٹے گی۔
مرض مزمن ہے‘ بہت پیچیدہ مگر علاج ممکن ہے۔ شفا مگر اس کے نصیب میں ہوتی ہے‘ جو پرہیز اور دوا دارو پر آمادہ ہو۔ خیریہ تو الگ موضوع اور الگ کہانی ہے۔ اعلان کردہ تعداد سے دس فیصد مظاہرین لے کر عمران خاں اسلام آباد پہنچے۔ اس کے باجود حکومت خوف زدہ تھی ۔ ٹانگیں اس کی کانپ رہی تھیں۔ کپتان کو یقین تھا کہ چند دن میں حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ علامہ صاحب کو بھی۔ میں اسی ہسپتال میں تھا۔ ایک ایسے ذریعے سے جس کی رسائی اور قول پر پوری طرح انحصار کیا جا سکتا تھا‘ صرف ایک سوال کیا: کیا چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف مداخلت کریں گے؟ قطعی اور واضح الفاظ میں اس سوال کا جواب ملا۔ ہرگز نہیں اور بالکل نہیں۔

وہ امانت کیا تھی ؟ جو آسمانوں اور پہاڑوں کو پیش کی گئی جس کا بوجھ اٹھانے سے انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ امانتِ عقل و علم۔ آدمی خواہ حق پر ہو ‘ حکمت سے دستبردار ہو کر فقط خواہش اور جذبات کا ہو جائے تو ناکامی ہی مقدر ہوتی ہے۔
وہ امانت کیا تھی ؟ جو آسمانوں اور پہاڑوں کو پیش کی گئی جس کا بوجھ اٹھانے سے انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ امانتِ عقل و علم۔ آدمی خواہ حق پر ہو ‘ حکمت سے دستبردار ہو کر فقط خواہش اور جذبات کا ہو جائے تو ناکامی ہی مقدر ہوتی ہے۔
سرگودھا کی سکہّ بند قدیم پنجابی کا ایک لفظ ہے ”بھورنا‘‘ کسی خستہ چیز‘ خاص طور پر مٹی کے ڈھیلے کو انگلیوں سے رگڑا جائے تو اسے بھورنا کہا جاتا ہے۔ وضع داری سے قائم رہنے والے مراسم کا الفت سے ذکر ہو تو قرار دیا جاتا ہے کہ فلاں نے ذرا سا بھی بھورا نہیں۔
1995ء میں اسلام آباد کے جس عینک ساز تنویر صاحب سے پہلی بار عینک بنوائی‘ وہ ایک شائستہ آدمی ہیں۔ رشتہ و تعلق کی اہمیت سے آشنا۔ چند ماہ پہلے تک عینک گم کرنے کا عادی تھا۔ دو تین بنواتا اور ایک ایک کر کے کھو دیتا۔ کبھی جہاز میں‘ کبھی کسی ملاقاتی کے ہاں اور کبھی کبھی تو گھر میں بھی۔ قلم‘ موبائل فون‘ حتیٰ کہ تسبیح تک کا یہی معاملہ عمر بھر رہا۔ سات آٹھ برس سے موبائل گم نہیں ہوتا۔ قلم بھی خال ہی۔ عینک کھو جانے سے کوفت الگ ہوتی ہے اور مشکلات سوا۔ خاص طور پر دوسرے شہر میں۔ لاہور میں ایک بار ایسا ہوا۔ چھٹی کا دن‘ ناخواندہ آدمی‘ بڑی مصیبت رہی۔ کوئٹہ کے خان صاحب بہت ہی خوش اخلاق تھے‘ مگر وقت کم اور آلات ان کے پرانے تھے۔
تین ماہ ہوتے ہیں‘ آخری عینک کھو گئی تو تنویر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ کیسی شاندار دوکان ہے۔ پنج ستارہ ہوٹل کی طرح چمکتے درودیوار اور فرش‘ مستعد عملہ۔ تنویر خود کھلاڑی ہیں اور بشاش آدمی۔ معائنہ کیا تو بتایا کہ آنکھوں میں موتیا اتر آیا ہے‘ چند دن میں آپریشن کرنا ہو گا۔ تسلی دی کہ چند منٹ کی بات ہے‘ درد بالکل نہ ہو گا‘ بس دو تین دن کے لئے ٹی وی‘ تحریر اور مطالعہ ترک کرنا ہو گا۔ دکان کے ساتھ ہی کلینک ہے۔ ان کی اہلیہ محترمہ معالج ہیں۔ آنکھوں کے ایک مشہور سرجن سے معاہدہ ہے۔
دن طے پا گیا‘ صرف وقت کا تعین کرنا تھا۔ معلوم نہیں کیوں دل مطمئن نہ ہوا۔ ارادہ کیا کہ کسی ممتاز معالج سے معائنہ کرا لیا جائے۔
زمانہ گزرا‘ کبھی کسی سرکاری ہسپتال کا منہ نہیں دیکھا۔ بچے پرائیویٹ علاج گاہوں کا رخ کرتے ہیں اور یہ ناچیز فوجی ہسپتال کا۔ پتے میں درد ہوا تو کوئی ڈاکٹر تشخیص نہ کر سکا۔ وہ معدے کا علاج کرتے رہے اور شب بھر درد سے تڑپتا رہا۔ اگلی صبح گیارہ بجے سی ایم ایچ راولپنڈی کا رخ کیا۔ ایک مشہور معالج کا سامنا ہوا۔ اسلام آباد میں علامہ طاہر القادری کا دھرنا جاری تھا۔ دیکھتے ہی بولے : اس بارے میں آپ کا خیال کیا ہے۔ عرض کیا : درد سے مرا جا رہا ہوں‘ آپ کو سیاست کی سوجھی ہے۔ ہنسے اور کہا کہ درد تو ابھی تمام ہوا جاتا ہے۔ عرض کیا :علامہ صاحب پیہم ہنگامہ آرا نہیں رہ سکتے۔ ہماری سیاست کا وہ کوئی مستقل کردار نہیں۔ کبھی کبھار تماشا رچا سکتے ہیں۔ انہوں نے قہقہہ لگایا اور بولے : میں بتائوں آپ کو؟…وہ بھارتی فلم کا آئٹم سانگ ہیں کہانی سے جس کا کوئی تعلق نہیںہوتا۔ بعدازاں جنرل کیانی کو یہ واقعہ سنایا تو انہوں نے کہا : اتنے طباع شاید جنرل صاحب نہیں‘ کسی اور سے سنا ہو گا؛ اگرچہ ان جنرل سے کیانی صاحب کی گپ شپ رہا کرتی مگر غالباً وہ انہیں سمجھے نہیں۔ عرض کیا کہ وہ اتنے ہی خوش کلام ہیں۔ علاج انہوں نے بڑی دردمندی اور محبت سے کیا۔ آپریشن تک نوبت نہ پہنچی۔جنرل کیانی کو بتایا تو انہوں نے کہا : ہمارے ہسپتال بہت اچھے ہیں۔ ان کی بات گرہ میں باندھ لی۔ کیانی مبالغہ آرائی سے گریزاں رہتے ہیں۔
دھرنا جاری تھا۔ شاہ محمود اور برادر محترم جاوید ہاشمی کا کپتان سے اصرار تھا کہ ایک وفد ان کے ہاں بھیجیں‘ علامتی حمایت کے لیے۔ میں نے اسے فون کیا : بالکل نہ بھیجنا۔ کہا پارٹی کا اجلاس جاری ہے اور اصرار بڑھتا جا رہا ہے۔ عرض کیا : اجلاس لمبا کر دو‘ تھک جائیں تو بات ٹل جائے گی۔
لگ بھگ ڈیڑھ سال کے بعد‘ درد پھر اسی قہرمانی سے اُٹھا‘ اسی طرح شب کو۔ اسی طرح علامہ صاحب دھرنا دیئے بیٹھے تھے اور خان صاحب بھی۔ وہی ڈاکٹر وہی ہسپتال۔
اب یہ ایک دھماکہ خیز صورتِ حال تھی۔ جولائی کے اختتام یا اگست کے اوائل میں کپتان سے میں ملنے گیا اور کہا کہ اس بکھیڑے میں مت پڑنا۔ زمانہ وہ ہے کہ کرکٹ کا میچ بھی لوگ ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ لونڈے لپاڑے شور و غوغا کریں گے۔ پانچ لاکھ کیا‘ ایک لاکھ بھی جمع نہ ہوں گے۔ اس کے مداحوں اور کارکنوں کی طرف سے‘ اکثر مجھ سے فرمائش کی جاتی ہے کہ اسے مشورہ دو۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس آدمی سے بات کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایک تو وہ خود بڑی بزرگ ہستی ہو گیا ہے۔ دوسرے سقراطوں کی ایک پوری فوج اس کے گرد جمع ہے۔ کوئی دن تھے کہ سن ضرور لیا کرتا تھا اور گاہے مان بھی لیتا۔ کانوں کا کچا ہے اور سیاسی فراست سے نابلد۔ تب اس کا انحصار کم تجربہ کار لوگوں پہ تھا۔ ڈھنگ کی بات شاذ ہی ان کے ادراک میں آتی۔ مثلاً ایک غیر رسمی سے اجلاس میں‘ میں نے قائل کر لیا کہ جماعت کا نام تحریک انصاف کی بجائے‘ پاکستان انصاف پارٹی ہونا چاہیے۔ سبھی مان گئے ‘ کچھ داد بھی دی۔ یار عزیز طارق پیرزادہ اس پر بہت شاد تھے‘ حالانکہ پارٹی کا وہ حصہ نہیں۔ طے شدہ بات پہ عمل درآمد نہ ہوا تو خان سے استفسار کیا۔ فرمایا: کراچی والے نہیں مانتے۔ کراچی والے کیا علم الاسماء کے ماہر ہیں یا کے ایکسپرٹ؟ سوال کا جواب نہ ملا اور ایک بہترین تجویز کوڑے دان میں ڈال دی گئی۔ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ آئندہ الیکشن میں تحریک انصاف معجزہ کر دکھائے گی۔ انہیں اندازہ ہی نہیں کہ خان صاحب اور ان کے حواری‘ خود شکنی کی کس غیر معمولی صلاحیت کے حامل ہیں۔ پانچ سات ٹکٹ تو اللہ کے فضل سے‘ شاہ محمود ہی ضائع کر دیں گے۔ عدم تحفظ کا شکار‘ وہ اپنے پرانے ساتھیوں کو زیر بار احسان کرنے پر تلے رہتے ہیں۔ دو چار کچھ دوسرے لیڈر ۔شاہ محمود تو خیربیچتے نہیں‘ کچھ اور بھی ہیں جو خریدوفروخت کرتے ہیں۔الیکشن2013میں‘ کراچی میں‘ ایم پی اے کا ایک امیدوار مبلغ ساٹھ ہزارروپے وصول کر کے ایم کیو ایم کے حق میں دستبردار ہو گیا تھا۔ شریف خاندان سے لوگ عاجز آ چکے۔ حامیوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ کاروباری طبقات ‘ منتخب ہونے کے اہل امیدوار‘ بعض عرب ممالک‘ چین‘ ترکیہ اور مغربی دنیا‘ انہیں گوارا کرے گی۔ اس کی وجوہات ہیں مفادات اپنی جگہ اور ان کی اہمیت ہے۔ عمران خاں اور اس کی پارٹی کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ عمل کے نہیں وہ الفاظ کے لوگ ہیں۔ پرویز خٹک کچھ مختلف ہیں خود کو بچا لے گئے۔ آئندہ بھی وہ جیت سکتے ہیں۔ بلوچستان میں پارٹی کا وجود ہی نہیں۔ جب بھی معرکہ ہوا سندھ اور پنجاب میں جوتیوں میں دال بٹے گی۔
مرض مزمن ہے‘ بہت پیچیدہ مگر علاج ممکن ہے۔ شفا مگر اس کے نصیب میں ہوتی ہے‘ جو پرہیز اور دوا دارو پر آمادہ ہو۔ خیریہ تو الگ موضوع اور الگ کہانی ہے۔ اعلان کردہ تعداد سے دس فیصد مظاہرین لے کر عمران خاں اسلام آباد پہنچے۔ اس کے باجود حکومت خوف زدہ تھی ۔ ٹانگیں اس کی کانپ رہی تھیں۔ کپتان کو یقین تھا کہ چند دن میں حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ علامہ صاحب کو بھی۔ میں اسی ہسپتال میں تھا۔ ایک ایسے ذریعے سے جس کی رسائی اور قول پر پوری طرح انحصار کیا جا سکتا تھا‘ صرف ایک سوال کیا: کیا چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف مداخلت کریں گے؟ قطعی اور واضح الفاظ میں اس سوال کا جواب ملا۔ ہرگز نہیں اور بالکل نہیں۔
وہ امانت کیا تھی ؟ جو آسمانوں اور پہاڑوں کو پیش کی گئی جس کا بوجھ اٹھانے سے انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ امانتِ عقل و علم۔ آدمی خواہ حق پر ہو ‘ حکمت سے دستبردار ہو کر فقط خواہش اور جذبات کا ہو جائے تو ناکامی ہی مقدر ہوتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *