ہوم > کالم > جاگنے کا وقت- جاوید چوہدری

جاگنے کا وقت- جاوید چوہدری

یہ جمعرات کا دن تھا اور فروری کی 23 تاریخ تھی‘ دن سوا گیارہ بجے اچانک لاہور ڈیفنس کے زیڈ بلاک میں خوفناک دھماکا ہوا‘ پورا علاقہ ہل گیا‘ پلازوں کے شیشے ٹوٹ گئے‘ عمارتوں میں کریکس آ گئے‘ لاشیں اچھل کر سڑک پر آ گریں‘ چھتیں بیٹھ گئیں‘ 17 گاڑیاں اور 20 موٹر سائیکلیں تباہ ہو گئیں اور پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ دھماکا زیڈ بلاک کے کمرشل ایریا میں ہوا تھا‘ یہ ایریا ریستورانوں‘ کافی شاپس اور چائے خانوں کی وجہ سے مشہور ہے‘ علاقے میں ملکی اور غیر ملکی برانڈز کی درجنوں کافی شاپس اور ریستوران ہیں‘ علاقے میں ایک چار منزلہ پلازہ تعمیرہو رہا تھا‘ یہ پلازہ معظم پراچہ نے کرایہ پر لے لیا‘ وہ یہاں فاسٹ فوڈ کی چین بنا رہے تھے‘ ریستوران تقریباً مکمل تھا‘ گراؤنڈ فلور آپریشنل ہو چکا تھا‘ فرسٹ فلور پر کام جاری تھا‘ ریستوران کی سافٹ لانچنگ بھی ہو چکی تھی۔
یہ لوگ ریستوران کا باقاعدہ آغاز دو دن بعد کرنا چاہتے تھے‘ معظم پراچہ‘ ان کے بھائی مظفر پراچہ اور کمپنی کے منیجر جاوید اقبال ریستوران کا معائنہ کر رہے تھے‘ مظفر پراچہ کو کام تھا تو وہ گیارہ بج کر پانچ منٹ پر سائیٹ سے چلے گئے‘ معظم پراچہ اور جاوید اقبال پیچھے رہ گئے‘ وہ سیڑھیوں سے اتر رہے تھے‘ اچانک خوفناک دھماکا ہوا اور وہ دونوں موقع پر جاں بحق ہو گئے‘ دھماکے نے علاقے میں سراسیمگی پھیلا دی‘ مارکیٹیں اور پلازے بند ہو گئے‘ اسکولوں میں چھٹی کر دی گئی۔
لوگ گھروں کی طرف دوڑ پڑے اور سڑکوں پر قیامت کے مناظر دکھائی دینے لگے‘ اس دوران کسی نے گلبرگ میں بھی بم دھماکے کی افواہ اڑا دی‘ یہ افواہ ٹیلی ویژن چینلز کی بریکنگ نیوز بنی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے پورا لاہور چوک ہو گیا‘ بچے اسکولوں میں رونے لگے‘ والدین اسکولوں اور کالجوں کی طرف دوڑ پڑے‘ لوگ دفتر اور دکانیں چھوڑ کر گھروں کی طرف بھاگنے لگے اور مائیں دیوانہ وار باہر نکل کھڑی ہوئیں یوں محسوس ہوتا تھا لاہور پر حملہ ہو گیا ہے اور لاہور کا ہر شہری جان بچانے کے لیے سرپٹ دوڑ رہا ہے۔
یہ کنفیوژن اس وقت مزید بڑھ گیا جب سی ٹی ڈی دھماکے کی نوعیت کا بروقت تعین نہ کر سکی‘ پہلے بتایا گیا عمارت کا جنریٹر پھٹ گیا تھا‘ پھر بتایا گیا عمارت کے بیس منٹ میں بارود تھا‘ پھر بتایا گیا دھماکا ٹائم ڈیوائس سے کیا گیا اور پھر بتایا گیا یہ دھماکا خودکش بھی نہیں تھا اور اس میں بارود بھی استعمال نہیں ہوا‘ یہ کنفیوژن صورتحال کو خراب کرتی چلی گئی یہاں تک کہ لاہور قیامت صغریٰ کا منظر پیش کرنے لگا‘ یہ سلسلہ چند گھنٹے چلتا رہا ‘آخر میں پتہ چلا گلبرگ کے دھماکے کی خبر افواہ تھی اور اس افواہ کا مقصد صرف اور صرف ’’پینک‘‘ پھیلانا تھا۔
یہ مقصد پوری طرح پورا ہو گیا اور اس مقصد میں اہم ترین کردار میڈیا نے ادا کیا‘یہ بھی پتہ چلا ڈیفنس کا دھماکا گیس سلنڈر پھٹنے سے ہوا تھا اور اس کی واحد وجہ ریستوران کے مالکان اور ملازمین کی نالائقی تھی‘ گیس کا محکمہ ریستورانوں کو جلد کنیکشن نہیں دیتا‘ محکمہ مالکان کو اس وقت تک جوتے گھسانے پر مجبور کرتا رہتا ہے جب تک یہ رشوت دینے یا پھر شاہد خاقان عباسی سے ٹیلی فون کرانے پر مجبور نہیں ہو جاتے چنانچہ ملک کے زیادہ تر ریستوران شروع میں گیس سیلنڈرز پر انحصار کرتے ہیں۔
معظم پراچہ بھی اس عمل سے گزر رہے تھے‘ وہ گیس کنیکشن کی کوشش کرتے رہے‘ کامیاب نہیں ہوئے تو انھوں نے سلنڈر خرید لیے‘ سلنڈر پلازے کی بیسمنٹ میں رکھ دیے گئے‘ عملہ تہہ خانے میں کھانا بناتا تھا‘ کوئی ایک سلنڈر لیک کر گیا‘ بیسمنٹ میں گیس بھرنے لگی‘ لوگوں کو بو آئی‘ شکایت کی‘ ملازمین نے سلنڈر اٹھائے اور فرسٹ فلور پر رکھ دیے‘ بیسمنٹ میں ایک آدھ سلنڈر رہ گیا‘ ملازمین یہ نہیں جانتے تھے‘ ایل پی جی عام ہوا سے بھاری بھی ہوتی ہے اور موٹی بھی۔ یہ لیک ہونے کے بعد فرش کے قریب جمع ہو جاتی ہے‘ یہ ہوا میں آسانی سے جذب نہیں ہوتی۔
پلازے کے بیسمنٹ میں گیس بھر چکی تھی‘ ملازمین نے 23 فروری کے دن سوا گیارہ بجے دیا سلائی جلائی‘ بیسمنٹ میں موجود گیس نے آگ پکڑی‘ یہ آگ سلنڈر تک پہنچی‘ وہ سلنڈر پھٹا‘ آگ فرسٹ فلور پر موجود سلنڈروں تک آئی اور وہ تمام سلنڈر بم بن گئے‘ خوفناک دھماکا ہوا‘ پلازے میں موجود لوگوں کی لاشیں اڑ کر سڑک پر آ گریں‘ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگ گئی‘ پلازے کی دو چھتیں بیٹھ گئیں‘ آس پاس موجود تمام عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور کریکس بھی پڑ گئے‘ دھماکے میں 8 لوگ جاں بحق اور 37زخمی ہو گئے۔
یہ دھماکا ہمارے نظام کی چند بڑی خامیوں کی نشاندہی کر گیا‘ ہمیں ان خامیوں کا اندازہ بھی ہونا چاہیے اور ہمیں ان کے تدارک کے لیے نظام بھی بنانا چاہیے‘ ہمیںیہ جان لینا چاہیے بجلی‘ گیس اور پٹرول یہ تینوں جدید دور کی خطرناک ترین سہولتیں ہیں‘ دنیا میں ہر سال شارٹ سرکٹ‘ گیس کی لیکیج اور پٹرول کی وجہ سے لاکھوں لوگ مرتے ہیں‘ یہ تینوں سہولتیں اموات کا بہت بڑا ذریعہ ہیں چنانچہ جدید دنیا نے ان تینوں کے لیے مضبوط قوانین بنا رکھے ہیں۔
یورپ میں خاص گریڈ سے سے کم بجلی کی تار بنائی جا سکتی ہے اور نہ ہی درآمد کی جا سکتی ہے‘ آپ اگر فیوز بھی بدلنا چاہتے ہیں تو آپ الیکٹریشن بلائیں گے اور الیکٹریشن باقاعدہ ’’کوالی فائیڈ‘‘ ہو گا‘ یورپ امریکا اور مشرق بعید میں کوئی شخص بجلی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتا‘ آپ نے اگر اپنے گھر‘ دفتر یا دکان میں یہ غلطی کر دی اور آپ کی مخبری ہو گئی تو آپ کی جان بخشی نہیں ہو سکے گی جب کہ ہمارے ملک میں لوگ بجلی کی مین لائین سے کنڈے بھی لگا لیتے ہیں اور یہ گیارہ ہزار کے وی اے کی لائین پر جھولے بھی لے لیتے ہیں۔
ہم سب خدائی الیکٹریشن بھی ہیں‘ ہم اپنے گھروں کی وائرنگ بھی کر لیتے ہیں اور ٹی وی‘ واشنگ مشین اور فریج بھی کھول لیتے ہیں لہٰذا ہمارے ملک میں بجلی کے حادثے عام ہیں‘ ہم میں سے شاید ہی کوئی شخص یہ حقیقت بھی جانتا ہو گیس سلنڈر مکمل بم ہوتے ہیں‘ یہ جب پھٹتے ہیں تو یہ میزائل جتنی تباہی پھیلاتے ہیں‘ ہم یہ بھی نہیں جانتے ایل پی جی اور ایل این جی چند منٹوں میں پورے کمرے کی آکسیجن کھا جاتی ہیں‘ آکسیجن کی کمی انسانی اعصاب کو معطل کر دیتی ہے‘ یہ بے حس و حرکت ہو جاتے ہیں اور یوں یہ چند منٹوں میں موت کے دہانے تک پہنچ جاتے ہیں۔
پاکستان میں سلنڈر پھٹنے سے اموات کی شرح پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے لیکن ہم آج تک ملک میں سلنڈروں کی لیکیج اور سیفٹی والو کا معیار طے نہیں کر سکے‘ ہمارے ملک میں ہر چار میں سے دوسرا سلنڈر لیک ہوتا ہے اور یہ لیکیج اکثر اوقات خوفناک حادثے کا باعث بنتی ہے‘ ہمارے ملک میں ایک سلنڈر سے دوسرے سلنڈر میں گیس بھرنے کا رواج بھی عام ہے‘ یہ کام ملک کے ہر شہر میں دکانوں پر ہوتا ہے‘ یہ لوگ بڑے سلنڈر پر ریگولیٹر لگاتے ہیں اور پائپ کا دوسرا سرا خالی سلنڈر میں فٹ کر دیتے ہیں اور اکثر اوقات سلنڈر بھرنے والے سائنس دان سلنڈر کے ساتھ ہی اڑ جاتے ہیں‘ ملک میں کسی ایل پی جی کمپنی نے آج تک گاہکوں کی ٹریننگ کا بندوبست نہیں کیا۔
کسی فوڈ چین اور کسی ریستوران نے بھی آج تک اپنے ملازمین کو گیس اور سلنڈر کے استعمال کی ٹریننگ نہیں دی چنانچہ خانسامے سلنڈرز کے اوپر بیٹھ کر سگریٹ پی رہے ہوتے ہیں یا پھر یہ کھڑکی دروازہ کھول کر یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں گیس اڑ گئی ہے‘ ہمیں اب ماچس جلا لینی چاہیے اور یہ غلط فہمی اکثر اوقات ان کی جان لے لیتی ہے اور ہم میں سے اکثر لوگ یہ بھی نہیں جانتے پٹرول دوزخ کا دروازہ ہے‘ یہ کھل جائے تو انسان دوزخ میں جا گرتے ہیں۔
ہمیں چاہیے ہم لاہور کے واقعے کو بنیاد بنائیں اور پٹرول‘ گیس اور بجلی کے ’’ایس اوپیز‘‘ بنا ئیں‘ ہم ان پر مکمل عمل بھی کرائیں‘ ہم بجلی کے کام کے لیے الیکٹریشن کو لازم قرار دے دیں اور الیکٹریشن کے لیے ڈپلومہ ضروری ہو‘ ملک کا جو شہری بجلی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے‘ حکومت اسے بھاری جرمانہ اور سزا دے‘ ملزم سے دوسروں کا نقصان بھی پورا کیا جائے‘ ملک بھر کی تمام ایل پی جی کمپنیوں کے لیے لازم قرار دے دیا جائے یہ صارفین کی ٹریننگ کا بندوبست کریں گی۔
یہ ٹریننگ خواہ دس پندرہ منٹ کی کیوں نہ ہو لیکن یہ کمپنیاں اس کے بغیر کسی کو سلنڈر نہ دیں‘ ریستورانوں‘ کافی شاپس اور گھروں کے لیے بھی گیس کی ٹریننگ لازمی قرار دے دی جائے‘ مالکان ٹریننگ کا بندوبست بھی کریں اور ریستوران میں سلنڈروں کے لیے الگ جگہ بھی مختص کریں‘ یہ جگہ محفوظ بھی ہونی چاہیے اور مرکزی عمارت سے دور بھی‘ مالکان جب تک جگہ اور ٹریننگ کا بندوبست نہ کر لیں انھیں اس وقت تک ریستوران کھولنے کی اجازت نہ دی جائے۔
سلنڈروں کا معیار بھی ازسر نو طے کیا جائے اور اس معیار پر بھی ہر صورت عمل کرایا جائے‘ پٹرول کے کھلے استعمال اور خریدوفروخت پر بھی پابندی ہونی چاہیے‘ جنریٹرز کے لیے بھی نئی ایس او پیز بنائی جائیں اور آخری تجویز ہم حالت جنگ میں ہیں‘ ہمیں ہنگامی صورتحال میں اسکولوں‘ کالجوں‘ ریستورانوں‘ دفتروں اور گھروں سے نکلنے کے لیے بھی ایس او پیز بنانی چاہئیں۔
ہم اگر افراتفری میں باہرنکلنا شروع کر دیں گے تو ہمارے مسائل میں اضافہ ہو جائے گا‘ ہم چھوٹے چھوٹے بم دھماکوں پر بھی پورا پورا شہر بند کرا بیٹھیں گے‘ ہم لوگ بجلی اور گیس سے بھی مرتے چلے جائیں گے اور یوں یہ ملک زخم پر نمک بنتا چلا جائے گا‘ میرا خیال ہے ہمارے جاگنے کا وقت ہو چکا ہے‘ ہمیںاب اٹھ کرمسائل کا سامنا کرنا چاہیے‘ ہم اگر اب بھی نہ جا گے تو ہم کبھی نہیں جاگ سکیں گے ۔

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

ایک تبصرہ

  1. اعلیٰ تحریر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *