Friday , October 19 2018
ہوم > کالم > شہر وفا یا شہر خموشاں۔۔۔۔۔۔۔تحریر/منیرچوہدری

شہر وفا یا شہر خموشاں۔۔۔۔۔۔۔تحریر/منیرچوہدری

میرے مخاطب خادم اعلی ہیں نہ پنجاب کی حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کے” معزز عوامی رہنما ” کیونکہ ایک ہی سکے کے دونوں رخ کی طرح سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں ۔۔۔۔میری دہائی تو بہاولنگر کے ان خوابیدہ ضمیروں سے ہے جنہیں دعوی وفائی ہے ۔۔جو کہتے ہیں کہ یہ شہر وفا ہے ۔۔شہر وفا میں گورستان جیسا سکوت؟؟؟؟چہ معنی دارد ؟؟؟؟غضب خدا کا دس دن ہو گئے اسی شہر وفا کی ایک مظلوم ،یتیم اور ذہین ترین طالبہ کو “اہل دانش کے گڑھ دانش سکول ” میں تیسری منزل سے گرا دیا گیا ۔۔۔۔بچی مفلوج ہو گئی ،ٹانگیں ،ٹوٹ گئیں ،ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی لیکن ستم بالائے ستم کوئی مقدمہ درج نہ ہوا ،کسی ملزم کو گرفتار نہ کیا گیا ،کسی ذمہ دار کا تعین نہ کیا گیا ۔۔۔۔۔اور اہل وفا ہیں کہ انکوائری کا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔وہ انکوائری جو دانش کے درندوں نے خود ہی مدعی ،خود ہی ملزم ،خود ہی قاضی کے اصول پر کر کے سب کو پارسائی کے سرٹیفیکیٹ بخش دئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔
شہر وفا کے باسیو،یہاں کے منتخب اور غیر منتخب نمائندو اور گوشت پوست کے چلتے پھرتے وہ سب انسانو””” جن کی قوت حمیت اور غیرت سلب ہو چکی ہے ،،،سب کو مبارک ہو ،،،سب کو مبارک ہو کہ آپ پر کرم ہو چکا ۔۔۔۔آپ پر نوازش ہو چکی ،،،آپ کے کاسہ گدائی کو لبریز کر دیا گیا ،،،ظلم کی جو دلخراش داستان آپ کے خوابیدہ ضمیر کو انگڑائی تک لینے پر مجبور نہ کر سکی ،اس پر”” حکمران وقت کا عدل جہانگیری حرکت میں آ گیا “””کمال شان بے نیازی اور بندہ پروری کے جذبے سے سرشار خادم اعلی کا وزیر تعلیم اور دانش کے سرپرست اعلی رانا مشہود کو سروسز اسپتال کی راہ نظر آ گئی ۔۔۔عصمت کی نیلامی کی ردا اوڑھے بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑتی طالبہ سدرہ شہاب کو عالی مرتبت نے انصاف کی فراہمی کی نوید سنائی ۔۔۔بے بسی اور مظلومیت کی تصویر یتیم بھائی کو پچاس ہزار روپے دان کیے اور میڈیا کی زد سے بچنے کے لیے مفلوج بچی کو رات گئے گھرکی اسپتال شفٹ کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اہل وفا آپ کو اپنے زخموں پر نمک پاشی مبارک ہو ۔۔۔۔۔۔۔میری دعا ہے کہ یہ زخم کبھی بھرنے نہ پائے ۔۔کوئی مشہود آتا رہے اور اس پر نمک چھڑکتا رہے شاید کہ کبھی اہل وفا کی کوئی آہ نہ سہی کراہ ہی سننے کو ملے ۔۔۔شاید ،،شاید ۔۔۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *