Sunday , August 19 2018
ہوم > کالم > ایک بے وزن شاعر سے ملاقات- عطا ء الحق قاسمی

ایک بے وزن شاعر سے ملاقات- عطا ء الحق قاسمی

تشنہ صاحب ! آپ یہ بتائیں کہ آپ نے اپنا تخلص تشنہ کیوں رکھا ؟
یہ آپ نے بڑا اچھا سوال پوچھا۔جی بات دراصل یہ ہے کہ میرے گائوں سے اسکول کافی دور تھا اور یہ سارا رستہ مجھے پیدل طے کرنا پڑتا تھا۔ اسکول پہنچتے پہنچتے پیاس سے برا حال ہو جاتا تھا اور چونکہ اسکول میں پانی کا کوئی مناسب بندوبست نہ تھا لہٰذا میں نے اپنا تخلص تشنہ رکھ لیا۔بہت خوب، مگر آپ نے یہ نہیں بتایا کہ تشنہ تخلص رکھنے سے پہلے آپ شعر کہتے تھے یا تخلص رکھنے کے بعد آپ نے شاعری شروع کی؟اصل میں تخلص رکھنے کے بعد میں نے سوچا کہ اب شاعری بھی شروع کر دینی چاہئے کیونکہ آدمی نے تخلص رکھا ہو مگر وہ شاعری نہ کرے تو اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ وہ ماچس جیب میں رکھتا ہو، لیکن سگریٹ نہ پیتا ہو۔
باقی سوال ہم بعد میں کریں گےپہلے آپ بتائیں کہ آپ اپنے نیفے میں چاقو تو نہیں رکھتے؟
صاحب آپ بہت دلچسپ آدمی ہیں اگر کوئی اپنے نیفے میں چاقو رکھتا بھی ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوچار قتل بھی ضرور کرے۔بس ٹھیک ہے ہماری تسلی ہو گئی۔ اب آپ یہ بتائیں کہ تخلص کے علاوہ کون سے محرکات تھے جنہوں نے آپ کو شاعری کی طرف راغب کیا؟
یہ دراصل میرا ادبی ماحول تھا جو مجھے ورثے میں ملا۔ میرے والد محترم بڑے پائے کے شاعر تھے۔بنیادی طور پر قوالی ان کا پیشہ نہیں تھا صرف اپنے کلام کو زیادہ موثر انداز میں پیش کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔چنانچہ انہیں بہت دور دور سے بلایا جاتا تھا خصوصاً عرسوں وغیرہ کے موقع پر ان کی مانگ بہت بڑھ جاتی تھی۔ میں ان دوروں میں ان کے ساتھ ہوتا اور اسٹیج پر والد صاحب کے برابر میں بیٹھے ہوئے ان کے احباب کے ساتھ مل کر تالی بجایا کرتا تھا میرے ادبی کیریئر کا آغاز یہیں سے ہوا۔
ماشااللہ، کیا آپ ہمیں یہ بتانا پسند کریں گے کہ اتنے زبردست ادبی آغاز اور پھر ادب میں ایک ا علیٰ مقام حاصل کرنے کے باوجود آپ کو مشاعرے میں کیوں نہیں بلایا جاتا ؟
صاحب بڑی سیدھی سی بات ہے کہ میں گوشہ نشین سا آدمی ہوں اگر کوئی محبت سے کسی شادی بیاہ کی تقریب میں بلائے تو وہاں سہرا پڑھ دیتا ہوں۔ ایک وقت تھا جب آواز بھی اچھی تھی، اس وقت ذرا چار پیسے زیادہ مل جاتے تھے۔مگر خدا کا شکر ہے کہ اب بھی لوگ قدر کرتے ہیں۔ ممتاز عالم جنتری والے مجھ سے میرا کلام فرمائش کرکے لے جاتے ہیں اور بڑے اہتمام سے جنتری میں شائع کرتے ہیں۔باقی رہا مشاعروں کا مسئلہ تو مجھے متعدد بار ان مشاعروں میں شرکت کا دعوت نامہ اخبار کے کالم اطلاعات و اعلانات کے ذریعے وصول ہوا۔مگر صاحب مشاعرہ میں آج کل جس طرح کی اوٹ پٹانگ چیزیں پڑھی جاتی ہیں وہاںثقہ شاعروں کو کون پوچھتا ہے۔چنانچہ ان مشاعروں میں اسٹیج سیکرٹری کو کتنی ہی چٹیں موصول ہوئیں کہ خوش قسمتی سے اس وقت ممتاز شاعر تشنہ صاحب ہال میں موجود ہیں انہیں بھی زحمت کلام دی جائے مگر اسٹیج سیکرٹری ان چٹوں کو اپنے زانو تلے دبا کر بیٹھ گئے۔ان کا خیال تھا کہ شاید یہ چٹیں ہینڈ رائٹنگ بدل بدل کر میں خود لکھ رہا ہوں۔ اب آپ فرمائیں میں اس قسم کی محفلوں میں کلام کیونکر سنا سکتا ہوں جن کے اسٹیج سیکرٹری سخن فہم ہونے سے زیادہ ہینڈرائٹنگ ایکسپرٹ ہونے کے دعویدار ہوں؟
یہ تو واقعی افسوسناک صورتحال ہے، مگر تشنہ صاحب ایک مشاعرے کی روداد میں نے پڑھی تھی جس میں کچھ ہلڑبازی بھی ہوئی تھی،اس میں آپ کا ذکر بھی آیا تھا، وہ کیا قصہ تھا؟
وہ جناب معاملہ یوں ہے کہ مجھے اس مشاعرے کا دعوت نامہ بھی اطلاعات و اعلانات والے کالم ہی کے ذریعے ہی موصول ہوا تھا۔میں نے سوچا مشاعرے کے نوجوان منتظمین کی دل شکنی نہیں ہونی چاہئے سو میں وہاں چلا گیا۔چنانچہ مشاعرہ شروع ہونے سے پہلے ہی منتظمین سے ملا، تعارف کرایا اور کہا کہ آپ نے یاد فرمایا تھا۔ حاضر ہوگیا ہوں۔ بڑے سعادت مند نوجوان تھے، انہوں نے بڑی تکریم کی اور کہا کہ آپ کا کرم آپ تشریف لائے۔ برائے مہربانی سامعین کی صفوں میں تشریف رکھیں۔ دراصل وہ جانتے تھے کہ میں خودنمائی سے کوسوں دور ہوں۔ شاعروں کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھنا مجھے کبھی اچھا نہیں لگا، مگر صاحب ہوا یوں کہ آدھا مشاعرہ گزر گیا مگر انہوں نے میرا نام نہیں پکارا لیکن جب انہیں تین چار چٹیں اس مضمون کی موصول ہوئیں کہ خوش قسمتی سے اس وقت ممتاز شاعر ممتاز تشنہ صاحب بھی ہال میں موجود ہیں، انہیں زحمت کلام دی جائے تو وہ بہت پشیمان ہوئے اور مجھے اسٹیج پر بلایا میں نے جب وہاں اپنی مشہور غزل کا یہ مطلع پڑھا
دل نادان تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
تو ہال میں سے اتنی داد وصول ہوئی کہ لگا جیسے ہنگامہ ہو گیا ہے۔ایک مداح تو اسٹیج پر چڑھ آیا اور اس نے مجھے گلے لگانے کے لئے اپنے بازو میرے بازوئوں اور اپنی ٹانگیں میری ٹانگوں میں اسی طرح پیوست کیں کہ میں تو توازن برقرار نہ رکھ سکا اور اسٹیج سے نیچے جاگرا۔لوگ اظہار عقیدت کے طور پر سیٹیاں بجا رہے تھے اور کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔وہاں لوگوں نے برملا کہاکہ میں تمام شاعروں پر غالب ہوں۔
یہ تھا واقعہ جسے اخبار کے ڈائری نویس نے ہلڑبازی کا نام دیا اور میرے مشاعرے پر غالب آنے کے برملا اعتراف کو اس ڈائری نویس نے غالب سے جا ملایا۔
تشنہ صاحب سنا ہے محبت کے بغیر شاعری نہیں ہوتی، آپ بھی کبھی اس تجربے سے گزرے ہیں ؟
صاحب یہ آپ نے کیا سوال کر دیا۔جوانی یاد آ گئی ہے۔ اس موضوع پر تو میرا یہ شعر بھی بہت مشہور ہے۔
داور حشر میں میرا نامہ اعمال نہ دیکھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
میں اس گستاخی کی معافی چاہتا ہوں، مگر کیا یہ شعر ڈاکٹر تاثیر کا نہیں ؟ بندہ پرور آپ کیسی باتیں کرتے ہیں اس شعر کا ذکر اس کی تاثیر کے حوالے سے ہوتا ہے۔آپ نے اسے ڈاکٹر تاثیر کے کھاتے میں ڈال دیا۔بہت افسوس کی بات ہے !
اب ایک آخری سوال ! آپ نے اپنے لیٹر پیڈ پر ’’ممتاز شاعر ممتاز تشنہ‘‘ لکھوایا ہے۔ یہ جو آپ کے نام میں دو دفعہ لفظ ممتاز آیا ہے تو کیا یہ اسی طرح ہے جس طرح امجد اسلام امجد کے نام میں دو دفعہ امجد آتا ہے ؟
صاحب آپ بھی بڑے بذلہ سنج ہیں ’’ ممتاز شاعر‘‘ تو مجھے لوگ لکھتے ہیں۔’’تشنہ ‘‘ میرا تخلص ہے۔والدین نے میرا نام کچھ اور رکھا تھا مگر میں نے اپنے لئے ممتاز کو پسند کیا اور یوں لوگ مجھے ممتاز شاعر ممتاز تشنہ کہتے ہیں۔
آپ نے ابھی کہا ہے کہ آپ نے اپنے لئے ممتاز کو پسند کیا، کیا ممتاز بھی آپ کو پسند کرتی ہے ؟ نیز یہ کہ فلمی دنیا سے بھی آپ کا کوئی تعلق ہے ؟ جی ممتاز صاحبہ سے تو میں دلی ارادت رکھتا ہوں اور فلمی دنیا سے تو بس تھوڑا بہت تعلق ہے۔پچھلے دنوں آپ نے فلم ’’جوانی ‘‘ میں قوالی کا ایک منظر دیکھا ہو گا اس منظر میں یہ خادم بھی موجود تھا، اخباروں نے میرے کام کی بہت تعریف کی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

میرا جسم، میری مرضی – خدیجہ افضل مبشرہ

سن 2011 میں فرانس سے شروع ہونے والی تنگ نظری کی وباء نے کل اسکینڈینیویا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *