Friday , September 21 2018
ہوم > کالم > جمہوریت کا بپتسمہ – اوریا مقبول جان

جمہوریت کا بپتسمہ – اوریا مقبول جان

وہ جنھیں اس بات پر فخر ہے کہ جمہوری نظام‘ انسانی تاریخ میں ترقی، حریت، آزادی اور آمریت سے نجات کی علامت ہے، ان کے لیے یہ تماشہ نیا نہیں کہ امریکا کے عوام کی اکثریت سے جمہوری طور پر منتخب ہونے والا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کس قدر واضح اور بدترین تعصب کے ساتھ امریکا میں موجود مسلمان اور ہسپانوی اقلیت کو کچلنے کے لیے اقدامات کا آغاز کرچکا ہے۔

وہ سیکولر، لبرل اور آزادی و حقوق انسانی کے علمبردار جو پچاس سال دیوار برلن کا ماتم کرتے رہے، نظمیں اور افسانے لکھتے رہے، ان کے تعصب کا یہ عالم ہے کہ اس سے کئی گنا بڑی دیوار جب اسرائیل نے تعمیر کی تو سب کو سانپ سونگھ گیا۔کسی کو نہ انسان یاد آئے اور نہ ہی زمین پر بستے منقسم خاندان۔ زبانیں گنگ اور قلم خاموش۔ لیکن اب تو اس سے بھی بڑی دیوار دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی ہے۔

امریکا اور میکسیکو کے درمیان۔ جنگ عظیم اول کے بعد دنیا کے نقشے کو قومی سیکولر ریاستوں میں تقسیم کرنے والوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ جمہوری، قومی اور سیکولر تحفہ مبارک ہو۔ لیکن کیا کسی جمہوری سیکولر قوم پرست حکمران کا انسانوں کو حقیر جاننے، رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر انھیں کچلنے کا یہ پہلا موقع ہے؟ جرمنی کا عظیم سیکولر، جمہوری سربراہ ہٹلر تو سب کو یاد ہی ہوگا کہ ابھی کل کی بات ہے۔ ایک اکثریت سے منتخب ہونے والا جرمن سربراہ حکومت جو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا قاتل تصور کیا جاتا ہے۔ جب کہ اس قتل عام میں شریک تمام ممالک بھی اکثریت کی آمریت پر قائم یعنی جمہوری ملک تھے۔

1920ء میں لیگ آف نیشنز میں منظور ہونے والے پاسپورٹ کے ڈیزائن اور ویزا ریگولیشن، دو ایسے ہتھیار ایجاد کیے گئے جن کے ذریعے پوری انسانیت کو زمین پر بنائے گئے قومی ریاستوں کے پنجروں میں بانٹ دیا گیا۔آج انھی دو ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے سات اسلامی ممالک کے افراد کی امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جن سات کے سات اسلامی ممالک پر پابندی عائد کی گئی ہے، ان پر کسی نہ کسی طور پر امریکا سات سمندر پار سے ظلم و بربریت مسلط کرتا رہا ہے۔ عراق، لیبیا، شام اور صومالیہ میں لاکھوں لوگوں کو قتل کرنے، شہر کے شہر کھنڈر بنانے اور لاکھوں لوگوں کو ہجرت پر مجبور کرنے کا ذمے دار ہے۔ سوڈان میں ایک زمانے میں اس کے جہاز مسلسل بمباری کرتے رہے ہیں اور یمن میں آج بھی ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے جب کہ ایران میں ساواک اور سی آئی اے شاہ ایران کے زمانے میں لاکھوں ایرانیوں کو غائب اور قتل کرنے میں ملوث رہی ہیں۔ گزشتہ ایک سو سال سے دنیا بھر پر ظلم و تشدد جاری رکھنے کے باوجود خود کو انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کے لبادے میں امریکی اور مغربی سیکولر جمہوری حکمران چھپائے رکھتے تھے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے منافقت کا یہ لبادہ اتار پھینکاہے۔ اس نے کہا ’’میں تشدد کا قائل ہوں، کیونکہ آگ کا مقابلہ آگ سے کیا جاتا ہے۔‘‘ اقوام متحدہ بننے اور جنگ عظیم دوم کے بعد یہ پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ امریکی صدر نے اعلانیہ طور پر کہا ہے کہ ریڈ کراس کو جنگی قیدیوں تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔

اگرچہ عملی طور پر ایسا ہی تھا، ایسے تمام قیدی جو گوانتاناموبے جیسے دنیا بھر میں پھیلے امریکا کے پچاس کے قریب قید خانوں میں تھے‘ ان تک ریڈکراس نہیں جاسکتی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کردیا کہ اب جنگی قیدیوں کو انسانیت کے نام پر بھی مدد فراہم نہیں کی جاسکتی ہے اور ساتھ ہی بدنام زمانہ گوانتاناموبے کے قید خانے کو دوبارہ کھولنے کا آغاز کردیا۔ یہ تو آغاز ہے، ابھی ان لوگوں کے خلاف اقدامات کا اعلان ہونا باقی ہے جو امریکی زمین پر بحیثیت شہری آباد ہیں، یہ ہیں مسلمان، سیاہ فام اور لاطینی امریکا کے ہسپانوی باشندے، ان میں سیاہ فام تو وہ ہیں جن کے آباؤ اجداد جبراً غلام بنا کر لائے گئے اور ہسپانوی اور دنیا بھر سے آنے والے مسلمان وہ ہیں جو بخوشی امریکا آئے اور خود اس غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا۔

یوں امریکا میں بسنے والوں کی غلامی کی تاریخ دو حصوں میں تقسیم ہے، جبراً غلامی اور بخوشی غلامی۔ جبری غلامی کا آغاز اس دن سے ہی ہوگیا تھا جب 12 اکتوبر 1492ء کو امریکا کے ساحلوں پر کولمبس لنگر انداز ہوا تھا۔ اس وقت اس خطے پر ریڈ انڈین آباد تھے۔ 3 نومبر 1493ء کو جب دوسرے سفر کے بعد وہ واپس اسپین پہنچا تو اس کے جہازوں میں ریڈ انڈین قبائل کے سات سو افراد تھے جنھیں وہ امریکا سے اغوا کرکے لایا تھا۔ وہاں کی مقامی آبادی کو قتل و غارت کے بعد بالکل معدوم اس لیے کیا گیا کہ کل کسی وقت وہ اکٹھا ہوکر زمین کے وارث نہ کہلانے لگیں۔ یہ بہت ہی خونچکاں داستان ہے۔پورے یورپ سے وہ لوگ جنھیں قانون نافذ کرنے والے ادارے ڈھونڈ رہے تھے‘ امریکا میں جا کر آباد ہونے لگے۔ ان لوگوں نے وہاں کی مقامی آبادی کو قتل کیا، بے گھر کیا اور انھیں بے آباد علاقوں میں دھکیل دیا۔اب بیچارے افریقہ اور خصوصاً افریقہ کے مسلمان سیاہ فام باشندوں کی شامت آگئی۔

22 جنوری 1510ء کو پچاس افریقی غلاموں کا پہلا دستہ اسپین سے امریکا کے ساحلوں پر اترا۔ اس کے بعد افریقہ میں یورپی بدمعاش اور انسانی اسمگلر ہاتھیوں کو پکڑنے والے بڑے بڑے جال لگا کر اور چھپے ہوئے گڑھے کھود کر غلاموں کو پکڑتے اور پھر انھیں سالوں بدترین اذیت خانوں میں رکھ کر امریکا بھیجتے۔ ہیوتھامس اپنی مشہور کتاب غلاموں کی تجارت (Slave Trade) میں لکھتا ہے ’’یورپ کے رہنے والوں نے افریقہ سے چار کروڑ افریقیوں کو غلام بنا کر زنجیروں میں جکڑ کر امریکا روانہ کیا، جس میں راستوں کی صعوبتوں، بیماری اور بھوک سے تین کروڑ مرگئے اور صرف ایک کروڑ وہاں پہنچ سکے۔

یہ غلام جن جہازوں پر مہینوں کا سفر کرتے تھے ان کی حالت ملاحظہ ہو۔ 1824ء میں ڈیانا جہاز میں 26 مسافروں کی گنجائش تھی اس میں 166 غلاموں کو رکھا گیا اور جس کیبن میں رکھا گیا اس کی اونچائی دوفٹ 7 انچ تھی۔ 1824ء برازیلین فرنیڈ، گنجائش 38، غلام 260، چھت دو فٹ چھ انچ۔ 1824ء افریسو، گنجائش 66، غلام 465، چھت تین فٹ دو انچ۔ 1837ء ڈی لورس، گنجائش 42، غلام 314، چھت دو فٹ آٹھ انچ۔ اسی طرح ہزاروں جہاز امریکا کے ساحلوں پر اترے ان جہازوں کی ساخت، چھت، گنجائش اور غلاموں کی تعداد کا پورا حساب 1841ء میں چھپنے والی ری لیجئس سوسائٹی آف فرینڈز کی رپورٹ میں درج ہے۔ غلاموں کی تجارت کے مؤرخین مائیکل گومز اور سلویانا ڈیوف نے ان سیاہ فام افراد میں مسلمانوں کی تعداد بیان کی ہے۔ ان کے نزدیک یہ تعداد پانچ لاکھ کے قریب تھی جو مسلمان ملکوں سنیگال، گیمبیا، سیرالیون، مالی، اسپین، گھانا اور نائجیریا سے اغوا کرکے لائے گئے تھے۔

امریکی ساحل پر اترتے ہی پہلا کام یہ کیا جاتا کہ ان کو عیسائی پادریوں کے حوالے کیا جاتا جو ان کا مسلمان نام بدلتے اور انھیں بپتسمہ دیتے۔ پہلا بپتسمۃ 1502ء میں دیا گیا۔ یہ وہ افریقی مسلمان تھے جو تشدد زدہ زندگی گزار کر یوں دفن ہوئے کہ نہ انھیں نماز جنازہ میسر آئی، نہ غسل اور نہ ہی قبلہ رخ قبر۔ ان کی پشتیں کوڑوں کے نشانوں سے داغدار تھیں، ان کی عورتوں سے اجتماعی آبرو ریزی کی جاتی رہی۔ سٹیفن باربوزا جیسے مورخ کے نزدیک یہ تمام مسلمان غلام پڑھے لکھے تھے اور ان کی عربی کی لکھی ہوئی تحریریں آج بھی موجود ہیں۔ جن میں ان کا کرب اور دکھ جھلکتا ہے۔ جن میں 1831ء میں لکھی جانے والی عمر ابن سعد کی خودنوشت انگریزی میں ترجمہ ہوئی تو ہیجان برپا ہوگیا۔

جان ہاپکنز نے اسے اپنے آرکایؤ سے نکال کر ترجمہ کیا۔ ان غلاموں کو لے جانے والے یورپی غنڈے، بدمعاش ان پڑھ اور جاہل تھے جب کہ ان افریقی سیاہ فام مسلمانوں کو اسلام نے تعلیم کی دولت سے مالا مال کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں غلاموں نے بغاوت کی اس میں اسلام کی حریت فکر شامل تھی۔ ان تمام بغاوتوں میں مسلمان سیاہ فام ہی پیش پیش تھے۔ 1523ء میں میکسیکو، 1529ء کیوبا، 1627ء گوئٹے مالا، 1647ء چلی، 1830ء فلوریڈا اور 1835ء میں برازیل کی بغاوتیں مشترکہ کوشش سے کچل دی گئیں۔

عربی بولنے، نماز پڑھنے، یہاں تک کہ سلام کرنے پر بھی اذیت ناک سزائیں دی گئیں اور پوری سیاہ فام نسل کو ایک ایسا عیسائی بنادیا گیا جو اگر کسی گورے عیسائی کے ساتھ بیٹھ بھی جائے تو اس کی کوڑے مار مار کر کھال کھینچ لی جاتی، ہاتھ ملا لیتا تو گولی مار دی جاتی یہ تھے جبراً غلام بنائے گئے سیاہ فام مسلمانوں کا حال جو عیسائیت کے بپتسمہ کے بعد بھی غلام کے غلام ہی رہے۔ دوسرے وہ مسلمان ہیں جنہوں نے بخوشی غلامی اختیار کی ہے۔ اپنے پاسپورٹوں کو امریکیوں کے حوالے کیا ان کی سرزمین سے محبت ‘ وفاداری کی قسم کھائی ‘اپنے پاسپورٹوں کو امریکیوں کے ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے ہوتے اور ڈسٹ بن میں گرتے دیکھا اور پھر خوش دلی سے امریکی پاسپورٹ حاصل کیا۔اب ڈونلڈ ٹرمپ انھیں جمہوریت کابپتسمہ دینے والا ہے جو عیسائیت کے بپتسمے سے ہزار گنا زیادہ تلخ ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

میلاد البنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:۔عثمان خالد

اس بار گھر سے واپس آتے ہوئے جب میں سڑک پر تیز گام کی طرح …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *