ہوم > کالم > ورلڈ کالمسٹ کلب، قطری چھتری اور سرکاری چھائوں- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

ورلڈ کالمسٹ کلب، قطری چھتری اور سرکاری چھائوں- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

محمد ناصر اقبال خان نے ورلڈ کالمسٹ کلب بنایا اور اس کے زیراہتمام کالم نگاروں کے لیے ایک تقریب پذیرائی کی۔ وہ ان لوگوں کو قلمی اور علمی خدمات کے لیے ایوارڈ دینا چاہتا تھا مگر ہمارے معاشرے میں تو لوگوں کو ریوارڈ بھی نہیں ملتا۔ اس لیے میں عام طور پر دوستوں کے لیے آٹو گراف میں لکھتا ہوں محبت اور محنت = زندگی۔ محبت ایوارڈ ہے اور محنت ریوارڈ ہے۔
نوائے وقت کے دلاور چودھری پی ٹی وی کے افتخار مجاز اور پاکستان کے ناصر بشیر کو ایوارڈ دیے گئے۔ ناصر نے کہا کہ میں اس وقت سے روزنامہ پاکستان میں ہوں جب ڈاکٹر اجمل نیازی وہاں تھے۔ میں پکا پاکستانی ہوں۔
وہاں جماعت الدعوۃ کے رہنما یحیٰی مجاہد بھی تھے وہ ایوارڈ دینے والوں میں سے تھے۔ آج ناصر اقبال نے میری اصلاح کی۔ میں بھی یہ کام کرتا ہوں۔ ناصر اقبال مجھے کہنے لگا کہ میرا نام محمد ناصر اقبال خان ہے اور میرا نام محمد اجمل نیازی ہے۔ محمد ناصر اقبال نے اپنا ایک شعر سنایا:
میرے نام سے پہلے آتا ہے اسم محمدؐ
میرے بڑے کام آتا ہے اسم محمدؐ
رابعہ رحمان ذبیح اللہ بلگن افتخار مجاز ناصر چوہان نعیم میر نثار قادری عابد کمالوی اعتبار ساجد ایثار رانا اور راقم نے خطاب کیا جبکہ میں نے صدارتی خطاب کیا اور عرض کیا کہ آپ اتنا وقت بیٹھے رہے۔ کوئی بھی اٹھ کے نہ گیا۔ میں آپ کا ممنون ہوں بلکہ ’’ممنون حسین‘‘ ہوں۔
رابعہ رحمان اور عمرانہ مشتاق ورلڈ کالمسٹ کلب کی عہدیدار ہیں۔ رابعہ رحمان کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں اور نوائے وقت کی کالم نگار ہیں۔ عمرانہ مشتاق سینئر سماجی ورکر خاتون ہیں۔ آج کے اجلاس کے لیے انہوں نے بڑی محنت کی ہے۔ اس کے علاوہ مسز ناصر بشیر، شاہدہ مجید، عالیہ بخاری، رباب نقوی، مسرت کامران بھی اجلاس میں پوری طرح موجود رہیں۔
بہت محبت والے دوست مسیحی شاعر ڈاکٹر کنول فیروز شدید علیل ہوئے۔ ہسپتال میں رہے۔ انہیں دل کی تکلیف ہوئی تھی۔ وہ درویش آدمی ہیں۔ ہر ادبی اجلاس میں شریک ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں چلتا کہ وہ مسیحی ہیں یا مسلمان ہیں۔ کئی مسلمانوں کے جنازے میں میرے ساتھ ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں۔ بہت خوددار آدمی ہیں۔
برادرم شعیب بن عزیز نے شہباز شریف کے دفتر سے ہسپتال کے اخراجات کے لئے ایک مراسلہ جاری کر دیا تھا۔ اخراجات کی مالیت تقریباً پانچ لاکھ روپے سے زیادہ ہے لیکن تین ماہ گزر گئے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس حوالے سے ادیب شاعر برادری بھی خاص طور پر ملتمس ہے کہ کنول فیروز کی دادرسی کی جائے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین نے اسلام آباد سے صرف مزاج پرسی کی ہے۔ لاہور آفس کے عاصم بٹ نے محض رسمی عیادت کی جبکہ حال ہی میں اکادمی کو پچاس کروڑ روپے ادیبوں شاعروں کی فلاح و بہبود کے لیے دیے گئے ہیں۔ بگھیو صاحب سے کروڑوں روپے کا حساب کون لے گا۔
ظفر علی شاہ دوست شخصیت ہیں۔ بڑے مرتبے کے سیاستدان ہیں۔ وہ دھڑے کے آدمی ہیں اور دھڑلے کے آدمی ہیں۔ ایک جملہ بہت زبردست انہوں نے کہا:
’’ اب قطری چھتری نہیں چلے گی۔‘‘
ان کے بقول ن لیگ کا سائبان چھوڑ کر اس طرح کی چھائوں تلاش کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ ان کی خدمت میں عرض کروں کہ اب پانامہ لیکس پاجامہ لیکس بن چکی ہے اور پاجامہ بری طرح پھٹ گیا ہے۔ پانامہ لیکس کے کیس کے لیے دونوں فریق نواز شریف اور عمران خان جو معاملہ کر رہے ہیں۔ وہ کسی کے لیے سود مند نہیں ہو گا۔ کوئی فیصلہ آئے جو جسٹس صاحبان کے بقول 20 سال تک لوگوں کو یاد رہے گا۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ فیصلہ نواز شریف کے حق میں نہ ہو گا۔
نواز شریف کے بیٹوں اور بیٹی کے خلاف بات خود ان کے خلاف ہو گی مگر وہ مطمئن کیوں ہیں؟ اس کے بعد بھی وہ استتعفیٰ نہیں دیتے تو بات غیرسیاسی ہو گی۔ اس استعفیٰ کے بعد نواز شریف کو فائدہ ہو گا۔ کبھی تو وقتی فائدہ کی سیاست نہ کی جائے۔ ظفر علی شاہ ہی نواز شریف کو کچھ سمجھائیں۔
آصفہ اور بختاور نے اپنے والد سے اختلاف کیا ہے۔ کیا مریم نواز اپنے والد نواز شریف سے اختلاف کا اظہار کر سکتی ہیں؟ آصفہ اور بختاور نے بدعنوان سیاستدان عرفان مروت کے خلاف بات کی ہے اور مریم نواز مروت سے کام لیں گی؟

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *