Friday , September 21 2018
ہوم > کالم > پطرس بخاری کی سائیکل کے بعد ایک اور سائیکل- عطا ء الحق قاسمی

پطرس بخاری کی سائیکل کے بعد ایک اور سائیکل- عطا ء الحق قاسمی

میں آج آپ کو ایک بہت درد بھری داستان سنانا چاہتا ہوں۔ اگر آپ رونے دھونے کے شوقین ہیں تو میری یہ تحریر ضرور پڑھیں ۔دراصل سائیکل کے ساتھ میرا رشتہ بہت پرانا ہے لیکن اس کے ساتھ میری کوئی خوشگوار یاد وابستہ نہیں ہے۔ چنانچہ مجھے افسوس ہے کہ میں صبح صبح یہ ناخوشگوار یادیں اپنے قارئین کے ساتھ Share کر رہا ہوں!
میرے لئے وہ دن بہت یادگار تھا جس دن میں نے سائیکل خریدی۔ میں اس روز بہت خوش تھا۔ میں نے یہ سائیکل ایک کباڑیے سے خریدی تھی۔ وہ اس کے بہت قصیدے پڑھتا تھا۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ اس پر بڑے بڑے جرنیل سال ہا سال سواری کرچکے ہیں بلکہ یہ سائیکل گزشتہ کئی برس سے خود اس کے استعمال میں بھی رہی ہے۔ وہ دیرینہ تعلق کی بنا پر اسے بیچنا تو نہیں چاہتا تھا مگر یہ اس کی مجبوری تھی کہ اس کا کام ہی خرید و فروخت تھا۔ میں یہ سائیکل جو کباڑیے کی جان کا ٹکڑا تھا، اپنے گھر لے کر آیا تو اس پر جمی ہوئی مٹی کو صاف کرنے اور اسے چمکانے کی پوری کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ سائیکل پر تہہ در تہہ جمی میل برقرار رہنے کے باوجود میرے دل میں اس کے لئے کوئی میل نہ آیا کہ یہ میری زندگی کی پہلی سواری تھی چنانچہ میں اسے اسی حالت میں تھامے شاداں و فرحاں گھر سے باہر نکل آیا!
میں نےسوچا مجھے سب سے پہلے اپنی اس خوشی میں اپنے بچپن کے دوست شیدے خرادیے کو شریک کرنا چاہئے چنانچہ میں نے سائیکل کا رخ اس کے گھر کی طرف موڑ دیا۔ اس دوران میں نے محسوس کیاکہ یہ سائیکل میرے لئے صرف سواری کا کام نہیں دے گی بلکہ ایکسرسائز کے کام بھی آئے گی کیونکہ معمولی سی ناہموار سڑک پر بھی اس کے جھٹکے اتنے زوردار تھےکہ چشم زدن میں پائوں سے سفر کرکے دماغ تک جا پہنچتے تھے۔ میںایک سست الوجود شخص ہوں اور ڈاکٹروں کی ہدایت کے باوجود کسی ورزش پر آمادہ نہ ہوسکا۔چنانچہ میں نےسائیکل کو اس کی اس خوبی کی بنا پر نعمت ِ خداوندی تصور کیا اوراس ٹو اِن ون (Two in One) کے مزے لینے کے لئے مزید زور زور سے پیڈل مارنا شروع کردیئے۔ شیدے خرادیے کاگھر صرف چند قدم کے فاصلے پر رہ گیاکہ اچانک میں نے ایک عجیب و غریب تبدیلی محسوس کی۔ مجھے لگاجیسے کوئی میری دھوتی نیچے سے کھینچ رہا ہے۔ میں نے اردگرد بلکہ اوپر نیچے ہر جگہ نظرڈالی مگر مجھے کوئی فرد بشر یہ نامعقول حرکت کرتا دکھائی نہ دیا۔ میں کہ جنوں بھوتوں پر قوی ایمان رکھتا ہوں اور ٹونے ٹوٹکوں کا قائل ہوں، مجھے یقین ہو گیا کہ میرے کسی حاسد سے میری خوشی دیکھی نہیں گئی اور یہ ننگ قوم شخص اپنے کسی زیراثر بھوت یا کسی دوسرے عامل کے ذریعے مجھے بھی ’’ننگے‘‘ قوم ثابت کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ میں نے دفع بلاکے لئے آیات کا ورد شرو ع کردیا مگر میں نے محسوس کیا کہ دشمن کی کارروائی اخلاق اور خطرے کے مقام تک پہنچ گئی ہے۔ وہ توخدا کا شکر ہے کہ میری نظر شیدے خرادیے پر جا پڑی جو اپنے گھر کے باہر ٹہل رہا تھا۔ میں نے وہیں پائوں زمین پرگاڑ کر سائیکل کو بریک لگائی۔ کباڑیے نے مجھے بتایا تھا کہ اس سائیکل کی بریک کے لئے کمپنی نے یہی ٹیکنالوجی استعمال کی ہے۔ اس دوران شیدا میرے قریب پہنچ چکا تھا۔ وہ مجھ سے معانقہ کرنا چاہتا تھا مگر میں نے اسے خوفزدہ آواز میں بتایا کہ کوئی بھوت میری دھوتی کو نیچے کی طرف کھینچ رہا ہے۔ چنانچہ میں نے اسے کہا کہ وہ پہلے کسی عامل کو بلائے۔ شیدا ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ چنانچہ اس نے میری بات پر توجہ دینے کی بجائے سائیکل کا جائزہ لیا پھر قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ’’میں بھوت ابھی نکالتا ہوں‘‘ یہ کہہ کر اس نے سائیکل کا پیڈل الٹا گھمانا شروع کیا اور اس عمل کے ساتھ میں نے محسوس کیا کہ دشمن اپنی چال میں ناکام ہو رہا ہے اور میری دھوتی کشش ثقل سے نکل آئی ہے۔ میں آج تک شیدے کو صرف خرادیا ہی سمجھتا تھا مجھے علم نہیں تھا کہ وہ اتنا بڑا سائنسدان بھی ہے۔ مگرمجھےاس نے یہ بتا کر اپنی عزت خود ہی خاک میں ملا دی کہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا صرف دھوتی کا کنارہ سائیکل کے چین میں پھنسا تھا۔ اس کا کچومر یوں ہوا تھا جیسے کسی مضبوط دانتوں والے نے اسے بہت بری طرح چبایا ہو!
اگلےروز مجھےایک ضروری کام کے لئے باہر جانا تھا مگر میں نے محسوس کیا کہ گزشتہ روز کی تھکن سے سائیکل کا جسم چور چور ہے چنانچہ میں نےپہلے کپڑے سے اس کے سارے جسم کی مالش کی اور پھر اسے ایک دن آرام کے لئے گھر چھوڑ کر پیدل گھر سے نکل پڑا۔ میں نےگھر والوں کو سختی سے تاکید کی کہ وہ اس پری وش کے آرام میں خلل نہ ڈالیں اور بچوں کو اس کی پہنچ سے دور رکھیں کیونکہ مجھے خدشہ تھا کہ محلے کے بچے اسے تنگ کریں گے۔ اس خدشے کی وجہ یہ تھی کہ جس روز میں سائیکل کو لے کر گھر آیا تھا بچے اس انمول سواری کوبہت حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ وہ اس سواری کی نوعیت کے حوالے سےآپس میں شرطیں لگا رہے تھے۔ ان میں سے ایک بچہ بضد تھا کہ یہ چاندگاڑی ہے اور مجھے بعدمیں پتہ چلا کہ وہ بچہ یہ شرط جیت گیا تھا۔
بہرحال میںشام کو گھرلوٹا تو میں نے دیکھا کہ سائیکل کا سانس پھولا ہوا تھا۔ معلوم کیا تو پتہ چلا کہ بچے سارا دن اس کے ساتھ چھیڑخانی کرتے رہے ہیں۔ میں بچوں پر ناراض تھا اور گھر والے سائیکل سے نالاں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی چھیڑچھاڑ کے دوران اس عفیفہ نے اتنا واویلا کیا کہ اس کی مسلسل چوں چاں سے گھروالے قیلولہ نہ کرسکے۔ یہ ایک ناخوشگوار واقعہ تھا مگر میں صبر کے علاوہ کیا کرسکتا تھا۔ تب میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں اس جان جگر کو ہر دم اپنے ساتھ رکھوں گا تاکہ اسے کسی بھی طرف سے کوئی آزار نہ پہنچے سو اس کے بعد میں نے اسے اس کے آخری سانس تک اپنے ساتھ رکھا مگرہر روز کوئی نہ کوئی انوکھا واقعہ ضرور ہوا مثلاً ایک دن گھر سے باہر قدم رکھتے ہی میں نے محسوس کیا کہ اس کے دونوں ٹائروں میں ہوا نہیں ہے۔ میں ان میں ہوا بھروانے کے لئے سائیکلوں کی دکان پر گیا مگر اس بدبخت دکاندار نے معائنے کے بعد بتایا کہ اس کے دونوں ٹائروں کے تمام پنکچر اکھڑے ہوئے ہیں اور یوں تقریباً 19پنکچر دوبارہ لگوانا پڑیں گے۔ ان کا خرچہ لگ بھگ سائیکل کی قیمت کے برابر تھا۔ اس دوران ایک روز بھولا ڈنگر میرے ساتھ اس کے کیریئر پربیٹھ گیا۔ وہ ابھی تک اسپتال میں ہے کیونکہ اس کے بیٹھتے ہی کیریئر بھی بیٹھ گیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایک دن چلتے چلتے اس کا ہینڈل خودبخوداس گلی کی طرف مڑ گیا جدھر کا رخ کرنے سے ایک مہ پارہ کے بھائیوں نے مجھے سختی سے منع کیا تھا۔ سو اس کے بعد وہی ہوا جو ہونا تھا یعنی ابھی تک ڈبل اینٹ گرم کرکے اس سے اپنے دُکھتے بدن کو سینکنے میں مشغول ہوں۔
میں یہ سب کچھ برداشت کررہا تھا مگر ایک روز میں اس فیصلے پر پہنچا کہ اس کے وصال سے ہجر بہتر ہے۔ ہوا یوں کہ گھر سے نکلتے ہی ایک جگہ معمولی سی چڑھائی آئی مجھے ظاہر ہے اس کے لئے اپنی اضافی طاقت استعمال کرنا تھی چنانچہ میں نےابھی دو تین بھرپور پیڈل ہی مارے تھے کہ میں نے محسوس کیا پیڈل کام نہیں کر رہے۔ وہ بس گھومتے جارہے ہیں مگرسفرطے نہیں ہو رہا۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ یہ صورتحال اس وقت پیش آتی ہے جب کسی سائیکل کے کتے فیل ہو جاتے ہیں۔ سو سائیکل کے کتے فیل ہوگئے تھےاور اب وہ چڑھائی چڑھنے کی بجائے سرپٹ پیچھے کو بھاگتی جارہی تھی۔ یہ میری اس سے الوداعی ملاقات تھی۔

یہ بھی دیکھیں

میلاد البنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:۔عثمان خالد

اس بار گھر سے واپس آتے ہوئے جب میں سڑک پر تیز گام کی طرح …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *