Wednesday , October 24 2018
ہوم > کالم > سنگھ پریوار کے سردار ولبھ بھائی پٹیل – ریحان خان

سنگھ پریوار کے سردار ولبھ بھائی پٹیل – ریحان خان

گزشتہ منگل کو الٰہ آباد میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل اگر ملک کے پہلے وزیرِاعظم ہوتے تو آج حالات قدرے مختلف ہوتے۔ نریندر مودی نے یہ بات بالکل سچ کہی ہے۔ اگر آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم سردار ولبھ بھائی پٹیل ہوتے تو بےشک حالات مختلف ہوتے لیکن اس سے ملک کا سیکولرزم کے مثبت یا منفی رخ اختیار کرتا، اس کی اب قیاس آرائیاں ہی کی جاسکتی ہیں۔

یہ بات طے شدہ ہے کہ اگر پٹیل ملک کے پہلے وزیراعظم ہوتے یا آزادی سے قبل پٹیل جواہر لعل نہرو سے زیادہ با اختیار ہوتے تو قیام پاکستان میں حتی الامکان جو مزاحمتیں پیش کی جاسکی تھیں، وہ نہیں کی جاتیں۔ ہندوستان کے پہلے وزیرتعلیم مولانا ابوالکلام آزاد اپنی کتاب”انڈیا ونس فریڈم“ میں بیان کرتے ہیں کہ سردار پٹیل آخری وقتوں میں دو قومی نظریہ پر اتنی شدت سے یقین رکھنے لگتے تھے کہ بسا اوقات محمد علی جناح پر بھی سبقت حاصل کرتے نظر آتے تھے۔ ان دنوں سردار پٹیل کے سخت رویے کو مولانا آزاد نے اخروٹ سے تعبیر کیا تھا۔ پٹیل کو وہ اخروٹ ہی کہا کرتے تھے۔ انڈیا ونس فریڈم میں ”اخروٹ سے ملاقات ہوگئی“ اور ”اخروٹ کیا کہتا ہے“ جیسے جملوں سے مولانا نے واضح کیا ہے کہ لفظ اخروٹ سردار پٹیل کے لیے ہی استعمال ہوتا تھا۔ مزاج کی اسی سختی کی بناء پر سردار پٹیل مردآہن بھی کہلائے ہیں۔ جہاں آزاد ”اخروٹ“ کی سختی سے متاسف تھے وہیں اس کے اندر موجود مغز کا بھی اعتراف کرتے تھے۔ اس مغز تک پہنچنے کی آزاد نے بہت کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے اور آزاد ہندوستان کی تاریخ کے ابتدائی صفحات پر سردار پٹیل اخروٹ کی شکل میں سخت ہی نظر آتے ہیں۔

لیکن نریندر مودی کا مطلوب سردار ولبھ بھائی پٹیل مولانا ابوالکلام آزاد والا اخروٹ نہیں ہے۔ نریندر مودی کے ذہن میں سردار پٹیل کی وہ شبیہ ہے جو 1947ء میں کسی شہر میں تقریر کرتے تھے اور دوسرے دن اس شہر میں فسادات شروع ہوجاتے تھے۔ پھر وہاں موجود مسلمانوں سے تقسیم کا انتقام لیا جاتا تھا۔ جس طرح پچاس سال بعد گودھرا کے مسلمانوں سے سابرمتی کے”انتقام“ کے ایک خونی داستان رقم ہونی شروع ہوئی تھی۔ سردار پٹیل کی تقاریر کے بعد ہونے والے فسادات ایک اتفاق بھی ہوسکتے ہیں لیکن گجرات فسادات تو باقاعدہ نریندر مودی کے حکم پر ہوئے تھے۔ سنگھ پریوار اور بالخصوص نریندرمودی سردار پٹیل کی تصویر کا غلط استعمال اپنے بنیادی مقاصد کے پیش نظر کرتے ہیں۔ سردار پٹیل نہرو یا گاندھی خاندان کے رکن نہیں تھے، اور اس لیے سنگھ پریوار ان کا استعمال، نہرو اور گاندھی کے آزادی میں شراکت کو کم کرکے دکھانے اور آخر میں کانگریس کی مخالفت کرنے کے لیے کرنا چاہتا ہے۔ سنگھ پریوار، نریندر مودی اور بی جے پی کو کانگریس کے ایک غیر نہرو، گاندھی لیڈر کو اپنا ہیرو قرار دینا ان کی مجبوری ہے کیونکہ اس کے پاس خود کا کوئی ہیرو نہیں ہے۔

آر ایس ایس نے تو آزادی کی تحریک کی مخالفت کی تھی اور کانگریس کی طرف سے 1942ء میں دیے گئے ”انگریزو بھارت چھوڑو“ کے نعرے سے اپنی عدم رضامندی عوامی طور پر ظاہر کی تھی۔ اس موقع پر سنگھ نے برطانوی حکومت کا ساتھ دیا تھا۔ ہندو ہیرو ویرساورکر نے حکومت مخالف سرگرمیوں کے لیے انگریزوں سے معافی تک طلب کی تھی۔ ساورکر نے برطانوی مخالف سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اپنی ”بھول“ کے لیے دی گئی کالے پانی کی سزا معاف کرنے کی انگریز حکومت سے بھیک مانگی تھی۔ بےشک سردار کے نہرو سے اختلافات تھے مگر وہ اختلافات اتنے گہرے اور بنیادی نہیں تھے۔ نریندر مودی نہرو اور سردار کے اختلافات کا استعمال پٹیل کو ایک ایسے لیڈر کے طور پر پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں جس نے نہرو کو چیلنج دیا تھا اور اس کی مخالفت کی تھی۔ پٹیل کی نظام حکومت کے خاتمے اور حیدرآباد ریاست کو بھارت میں ضم کروانے کی کامیاب مہم کو مودی مسلمانوں کو ان کی ”اوقات“ بتانے والے اقدام کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں حالانکہ سردار حیدر آباد ہی نہیں، پورے بھارت کے مسلمانوں کے تحفظ اور بہتری کی ضمانت دینے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔ مودی کے پاس سردار کے نام کا استعمال کرنے کا ایک اضافی سبب یہ ہے کہ سردار گجراتی تھے اور مودی خود کو گجراتی پہچان کی واحد علامت کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ مودی چاہتے ہیں کہ انہیں بھی سردار کی طرح” مرد آہن“ کا درجہ ملے۔ بی جے پی میں ”مرد آہن“ بننے کی سعی نئی نہیں ہے۔ مودی سے قبل لال کرشن اڈوانی بھی”مرد آہن“ کے مرتبے پر فائز تھے لیکن نریندر مودی کے ہی ہاتھوں اس لوہے کو زنگ لگا تھا۔
( روزنامہ ’’جنگ جدید‘‘ نئی دہلی)

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *