Friday , October 19 2018
ہوم > کالم > ممنوعہ نعرے وغیرہ- نذیر ناجی

ممنوعہ نعرے وغیرہ- نذیر ناجی

فائنل میں گئے‘ پوزیشن نہیں ملی
پاکستان سپر لیگ سیزن ٹو اپنی تمام تر رنگینیوں اور دلچسپیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ ایونٹ میں پشاور زلمی نے فتح کا تاج اپنے سر سجایا، جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اس بار بھی فائنل تک رسائی کے باوجود ٹرافی حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
سپرسٹارز
جہاں غیر ملکی کھلاڑیوں نے اپنی پرفارمنس سے شائقین کرکٹ کو محظوظ کیا وہیں قومی پلیئرز نے شاندار پرفارمنس دے کر ناصرف مداحوں کے دل جیتے بلکہ وہ سپر اسٹار بھی بن گئے۔
کامیاب کھلاڑی
ایونٹ کے سب سے بہترین کھلاڑی پشاور زلمی کے کامران اکمل رہے۔ انہیں بہترین وکٹ کیپر، بہترین بیٹسمین اور مین آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈز سے نوازا گیا۔
سکو ر میں اول
پی ایس ایل میں صرف کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور لاہور قلندرز کی ٹیموں نے ایک اننگز میں 200 رنز بنائے، کوئٹہ نے یہ اعزاز دو مرتبہ حاصل کیا۔ ایونٹ کے گیارہویں میچ میں لاہور قلندر نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف تین وکٹوں کے نقصان پر 200 رنز بنائے، جواب میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے 18 اعشاریہ 5 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 202 رنز بناکر کامیابی حاصل کی۔
200 اور 199
دوسری مرتبہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاور زلمی کے خلاف 7 وکٹوں کے نقصان پر 200 رنز بنائے، دلچسپ مقابلے کے بعد پشاور زلمی 20 اوورز میں 9 وکٹیں گنوا کر 199 رنز بناسکی۔
بیٹنگ
رنز کے اعتبار سے کسی بھی ٹیم کی سب سے زیادہ مارجن سے فتح پشاور زلمی نے حاصل کی۔ اس نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو فائنل میں 58رنز سے ہرایا جبکہ وکٹوں کے اعتبار سے سب سے بڑی فتح 17 اعشاریہ 4 اوورز میں 7 وکٹوں سے پشاور زلمی کے ہی کھاتے میں آئی۔
واحد سنچری
سب سے زیادہ مجموعی رنز بنانے والوں میں پشاور زلمی کے کامران اکمل رہے، انہوں نے گیارہ میچوں کی 11 اننگز میں 32 اعشاریہ 09 کی اوسط سے 353 رنز بنائے جس میں ایونٹ کی واحد سنچری بھی شامل ہے۔
بابر اعظم
کراچی کنگز کے بابر اعظم نے 10 میچوں میں 32 اعشاریہ 33 کی اوسط سے 291 رنز بنائے۔ کسی بھی اننگز میں ان کا سب سے زیادہ اسکور 50 رنز رہا۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے ڈیوین اسمتھ نے 9 میچز کی 9 اننگز میں 34 اعشاریہ 25 کی اوسط سے 274 رنز بنائے، کسی بھی اننگز میں ان کا سب سے زیادہ اسکور 72 رنز ناٹ آئوٹ رہا۔
بہترین اوسط
بیٹنگ میں بہترین اوسط کے اعتبار سے اسلام آباد یونائیٹڈ کے سیم بلنگ ٹاپ پر رہے۔ انہوں نے پانچ میچوں میں 44 اعشاریہ 33 کی اوسط سے 133 رنز بنائے جس میں ناقابل شکست 78 رنز بھی شامل ہیں۔
چھکے ہی چھکے
اگر چھکوں کی بات کی جائے تو یہاں بھی کامران اکمل ٹاپ پر نظر آتے ہیں۔ انہوں نے مجموعی طور پر 16 چھکے لگائے۔ بوم بوم آفریدی نے 15 جبکہ کیون پیٹرسن اور کرس گیل نے 14،14 چھکے لگائے۔ کسی بھی میچ کی ایک اننگز میں سب سے زیادہ 8 چھکے کیون پیٹرسن نے لگائے۔
وکٹیں ہی وکٹیں
بولنگ کے شعبے میں کراچی کنگز کے سہیل خان نے 9 میچز کی 9 اننگز میں 15 رنز کی اوسط سے 16 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا اکانومی ریٹ 7 اعشاریہ 61 رہا۔ پشاور زلمی کے وہاب ریاض نے10 میچز کی 9 اننگز میں 13 اعشاریہ 53 کی اوسط سے 15 جبکہ اسلام آباد کے رومان رئیس نے 7 اننگز میں 13 اعشاریہ 50 کی اوسط سے 12 وکٹیں لیں۔
ساجھے داریاں
کسی بھی بولر کی ایک میچ میں بہترین پرفارمنس لاہور قلندر کے یاسر شاہ کی رہی۔ انہوں نے چار اوورز میں صرف 7 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ گرانٹ ایلیٹ نے 23، رومان رئیس نے 25 جبکہ شین واٹسن نے 44 رنز دے کر چار، چار وکٹیں حاصل کیں۔
کامیاب وکٹ کیپر
وکٹ کیپرز میں بھی پشاور زلمی کے کامران اکمل نے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 11 میچوں کی 10 اننگز میں 12 کھلاڑیوں کا شکار کیا جس میں 7 کیچ اور 5 اسٹمپ شامل ہیں۔ کراچی کنگز کے سنگاکارا نے دس میچوں میں وکٹ کے پیچھے 10 کھلاڑیوں کو کیچ کیا۔ محمد رضوان نے8 میچوں میں 7 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جس میں 5 کیچ اور 2 اسٹمپ شامل ہیں جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سرفراز احمد نے 10 میچوں میں 7 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا جس میں 4 اسٹمپ اور 3 کیچ پکڑے۔
کیچ ہی کیچ
کراچی کنگز کے کائرون پولارڈ 10 میچوں میں 8 کیچ پکڑ کر سر فہرست رہے۔ کراچی کنگز کے ہی روی بوپارا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے حسن خان نے10،10 میچوں میں 7،7 جبکہ پشاور زلمی کے جورڈن نے 6 میچوں میں 6 کیچ پکڑے۔
طویل ترین پارٹنرشپ
وکٹ کے اعتبار سے پہلی وکٹ کیلئے طویل ترین پارٹنرشپ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اسد شفیق اور احمد شہزاد نے 105، دوسری وکٹ کیلئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے احمد شہزاد اور کیون پیٹرسن نے 133، تیسری وکٹ کیلئے پشاور زلمی کے میلان اور محمد حفیظ نے 139، چوتھی وکٹ کیلئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے روسوئو اور سرفراز احمد نے 130، پانچویں وکٹ کیلئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے پیٹرسن اور سرفراز احمد نے 101، چھٹی وکٹ کیلئے کراچی کنگز کے پولارڈ اور عماد وسیم نے 62، ساتویں وکٹ کے لئے پشاور زلمی کے ڈیرن سیمی اور شاہد آفریدی نے 70، آٹھویں وکٹ کیلئے پشاور زلمی کے شاہد آفریدی اور وہاب ریاض نے 25، نویں وکٹ کیلئے لاہور قلندرز کے سہیل تنویر اور یاسر شاہ نے 55 جبکہ دسویں وکٹ کیلئے پشاور زلمی کے جورڈن اور جنیدخان 8رنز بنائے۔
آخری پارٹنرشپ
رنز کے اعتبار سے طویل ترین پارٹنرشپ پشاور زلمی کے میلان اور محمد حفیظ کے درمیان 139 رنز کی رہی جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے احمد شہزاد اور کیون پیٹرسن نے 133 جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے روسوئو اور سرفراز احمد نے ناقابل شکست 130 رنز کی شراکت داری قائم کی۔
چوکرز
کوئٹہ کے دوسرا فائنل ہارنے پر پاکستان کے ایک سابق کرکٹر نے تبصرہ آرائی کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا کوئٹہ جنوبی افریقہ کے راستے پر چل نکلا ہے ،جو ورلڈ کپ کے پہلے راونڈ میں ہمیشہ سب سے اچھا کھیلنے کے بعد ناک آئوٹ مرحلے میں ہمت ہارنے کے لئے بدنام ہے۔ کرکٹ کی دنیا میں اس کمزوری کی وجہ سے جنوبی افریقہ کو ”چوکرز‘‘ کہا جاتا ہے۔
ڈیرن سیمی خان
ریاض پیرزادہ نے کہا کہ سیمی کا نام ڈیرن سیمی خان ہونا چاہیے۔ میچ شروع ہونے سے پہلے ڈیرن سیمی اور پشاور زلمی کے کھلاڑی تماشائیوں میں گھل مل گئے اور ڈیرن سیمی نے وسیم اکرم انکلوژر میں پاکستانی فوجیوں کے ساتھ سیلفی بنائی، ایک فوجی نے اس موقع پر اپنی سرخ کیپ بھی سیمی کو تحفہ میںدے دی۔ میچ کے بعد ڈیرن سیمی نے بتایا کہ لاہور آنے کے لئے انہیں شاہد آفریدی نے قائل کیا اور پھر ان کی والدہ اور بیگم نے دعاؤں کے ساتھ اجازت دی۔
چڑیا چور
کھیل شروع ہوا تو سٹیڈیم پرسکون تھا۔ جب نجم سیٹھی تقریر کے لئے آئے تو حاضرین نے ”چڑیا چور، چڑیا چور‘‘ کے نعرے لگا دیئے۔ ایک سرگرم ن لیگی نے حاضرین کو چپ کرانے کی کوشش کی تو ممنوعہ نعرے زور زور سے لگنے لگے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان بھی سٹیڈم میں موجود تھے۔ کرکٹ بورڈ نے ٹیسٹ کپتان مصباالحق کو فائنل دیکھنے کی دعوت نہ دی۔ میچ شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے مصباح الحق اور ان کی بیگم کو اسلام آباد کے ممتاز تاجر علی نقوی نے اپنے کوٹے سے ٹکٹ بھجوا کر ،قذافی سٹیڈیم میں مدعو کر لیا۔ میچ کے بعد مصباح الحق کو آئی سی سی کی جانب سے خصوصی ایوارڈ پیش کیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *