ہوم > کالم > ریڈ ہیلمٹ- جاوید چوہدری

ریڈ ہیلمٹ- جاوید چوہدری

یہ جیمز لی میسوریر (James Le Mesurier) کا آئیڈیا تھا‘ یہ برطانوی ہیں‘ یہ سیکیورٹی اسپیشلسٹ ہیں اور یہ برطانیہ کی طرف سے بوسنیا‘ کوسوو‘ عراق اور فلسطین میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں‘ یہ چاروں ممالک جنگ زدہ تھے اور جیمز کو ان ملکوں میں کام کے دوران محسوس ہوا‘ جنگ متعدی مرض کی طرح ہوتی ہے اور جب تک عوام بھی ڈاکٹروں اور نرسوں کی طرح جنگ کے خلاف کام نہ کریں یہ مرض ختم نہیں ہو سکتا‘ جیمز 2013ء کے شروع میں استنبول میں تھا‘ شام میں خانہ جنگی شروع ہو چکی تھی‘ دمشق‘ حلب اور لطاکیہ میں بمباری جاری تھی‘ملک ملبے کا ڈھیر بنتا جا رہا تھا‘ لاکھوں شامی دربدر ہو چکے تھے‘ یہ روز لٹ پٹ کر ترکی پہنچتے تھے‘ ترک عوام شامی خاندانوں کی دربدری پر خون کے آنسو بہا رہے تھے‘ یہ لوگ اپنے شامی بھائیوں‘ بہنوں اور بچوں کی مدد کرنا چاہتے تھے لیکن ان کا بس نہیں چلتا تھا۔جیمز ان حالات میں شامیوں اور ترکوں دونوں کے لیے روشنی کی کرن ثابت ہوئے۔
جیمز استنبول کے کسی چائے خانے میں بیٹھا تھا‘ چائے خانے میں ترک نوجوان شام کی صورتحال پر گفتگو کر رہے تھے‘ وہ جنگ زدہ شامیوں کی مدد کرنا چاہتے تھے لیکن وہ کیسے مدد کریں یہ انھیں سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ ’’ہم کیا کر سکتے ہیں؟‘‘ وہ بار بار ایک دوسرے سے پوچھتے تھے اور پھر مایوسی کے عالم میں سر دائیں بائیں ہلاتے تھے‘ جیمز ذرا سے فاصلے پر بیٹھا تھا‘ وہ ان کی گفتگو سن رہا تھا‘ وہ نوجوانوں کے جذبے سے متاثر ہوا‘ اپنی جگہ سے اٹھا‘ نوجوانوں سے معذرت کی اور ان کے ساتھ بیٹھ گیا‘ جیمز نے نوجوانوں سے پوچھا ’’آپ لوگ باتوں کے بجائے عملی قدم کیوں نہیں اٹھاتے؟‘‘ نوجوانوں نے پوچھا ’’ہم کیا کر سکتے ہیں‘‘ جیمز نے جواب دیا ’’آپ لوگ بمباری کے شکار لوگوں کی مدد کے لیے ریسکیو ٹیم بنا سکتے ہیں۔
آپ شام جائیں‘ ملبہ ہٹائیں‘ دبے ہوئے لوگوں کو نکالیں‘ ان کی مرہم پٹی کریں اور انھیں خوراک‘ ادویات اور پناہ دیں‘ یہ کام یہاں بیٹھ کر افسوس کرنے سے ہزار درجہ بہتر ہو گا‘‘ نوجوانوں کو آئیڈیا پسند آ گیااور انھوں نے بیٹھے بیٹھے دنیا کی حیران کن ریسکیو ٹیم بنانے کا فیصلہ کر لیا‘ ایک ایسی ٹیم جو ترک جوانوں پر مشتمل ہو اور جو آگے چل کر دنیا میں ریسکیو کا سارا تصور بدل دے‘ نوجوانوں نے چائے خانے میں ایک نئی تنظیم کی بنیاد رکھ دی‘ یہ تنظیم صرف چھ لوگوں پر مشتمل تھی‘ وہ لوگ جب ٹیم کا نام اور کام طے کر رہے تھے تو عین اس وقت چائے خانے کے سامنے سے ایک موٹر سائیکل سوار گزرا‘ موٹر سائیکل سوار نے سفید رنگ کا ہیلمٹ پہن رکھا تھا‘ نوجوانوں میں شامل ایک نوجوان نے موٹر سائیکل سوار کی طرف دیکھا اور اونچی آواز میں بولا ’’دوستو! ہماری تنظیم کا نام وائٹ ہیلمٹ ہو گا‘ ہم لوگ سفید ہیلمٹ پہن کر کام کریں گے اور یہ سفید ہیلمٹ ہماری نشانی ہو گا‘‘ یہ آئیڈیا تمام نوجوانوں نے پسند کر لیا اور یوں استنبول کے اس چائے خانے میں اس عجیب و غریب تنظیم کی بنیاد رکھ دی گئی جو چند ماہ بعد سفید ہیلمٹ کے نام سے پوری دنیا میں مشہور ہو گئی۔
جیمزتنظیم کا بانی رکن بن گیا‘ ترک نوجوانوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا‘ اشتہار بنایا اور وہ اشتہار فیس بک اور ٹویٹر پر شیئر کر دیا‘ ترکی کے تین ہزار نوجوان ایک ماہ میں وائٹ ہیلمٹ میں شامل ہو گئے‘ ترکی میں ہزاروں دردمند صاحب ثروت موجود ہیں‘ یہ لوگ ہمہ وقت مظلوم بھائیوں کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں‘ یہ صاحبان ثروت آگے بڑھے اور وائٹ ہیلمٹ کی مالی معاونت شروع کر دی‘ ترکی میں AKUT کے نام سے سرچ اور ریسکیو کا ایک بڑاغیر سرکاری ادارہ کام کرتا ہے‘ یہ ادارہ ریسکیو ورکرز کو ٹریننگ اور مالی امداد دیتا ہے‘ یہ ادارہ ایکٹو ہوا‘ نوجوانوں سے رابطہ کیا‘ ان کی صف بندی کی اور ان کی ٹریننگ شروع کر دی‘ جیمز تنظیم کا باقاعدہ حصہ تھا‘ ایکوت نے جیمز کو وائٹ ہیلمٹ کا استاد بنا دیا‘ جیمز نے ورکرز کو ٹریننگ دینا شروع کر دی‘ یہ لوگ ٹریننگ کے بعد شام جاتے اور ملبے میں دبے لوگوں کو نکالنا شروع کر دیتے‘ سفید ہیلمٹ ان لوگوں کی خاص نشانی ہے۔
یہ سفید ہیلمٹ پہن کر عمارتوں میں داخل ہوتے‘ عمارتوں میں پھنسے لوگوں‘ خواتین‘ بچوں اور بوڑھوں کو نکالتے‘ ان کی مرہم پٹی کرتے‘ انھیں ادویات اور خوراک دیتے اور پھر انھیں کیمپوں میں شفٹ کر دیتے‘ بزنس مین‘ مخیر حضرات اور حکومت ان لوگوں کو راشن‘ ادویات‘ خیمے‘ کمبل اور کپڑے فراہم کردیتی‘ یہ تنظیم چند ماہ میں دنیا کی نظروں میں آ گئی‘ گارجین پہلا اخبار تھا جس نے وائٹ ہیلمٹ کی حمایت میں جامع مضمون لکھا جب کہ ٹائم میگزین نے17 اکتوبر2016ء کے شمارے میں ان لوگوں پر کور اسٹوری کی‘ میگزین نے اپنی تاریخ میں پہلی بار اپنے سرورق پر قرآن مجید کی آیت شایع کی ‘ یہ سورۃ المائدہ کی 32 ویں آیت تھی جس کا مفہوم ہے ’’اور جس نے ایک زندگی بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا‘‘ ٹائم میگزین کی اسٹوری کے بعد یہ تنظیم دنیا بھر کے میڈیا کا موضوع بن گئی‘ ترکی میں اس وقت وائٹ ہیلمٹ کے سو سینٹر ہیں۔
ہزاروں نوجوان تنظیم میں شامل ہیں‘ یہ نوجوان معاوضے اور صلے کے بغیر کام کرتے ہیں‘ یہ بم دھماکوں اور میزائل حملوں کے بعد فوراً موقع پر پہنچ جاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹانا شروع کر دیتے ہیں‘ یہ لوگ اب تک 62 ہزار لوگوں کی جان بچا چکے ہیں‘ انسانیت کی اس خدمت کے دوران وائٹ ہیلمٹ کے 145 ورکرز شہید اور چار سو شدید زخمی ہوگئے لیکن یہ سینہ سپر رہے‘ یہ پیچھے نہ ہٹے‘ شام کے ہزاروں نوجوان بھی اب اس تنظیم میں شامل ہو چکے ہیں‘ یہ لوگ بھی ترک نوجوانوں کے ساتھ مل کر اپنے بھائی بہنوں کی مدد کر رہے ہیں‘ دنیا بھر کی ویلفیئر کی تنظیمیں بھی ان کی معاونت کر رہی ہیں‘ یہ خدمت‘ یہ جذبہ فلم سازوں کی نظر میں بھی آگیا‘ فلم ساز جوانا نیٹاسیگارا( Joanna Natasegara) نے 2016ء میں وائٹ ہیلمٹ کے نام سے ڈاکو منٹری فلم بنانے کا فیصلہ کیا‘ آرلینڈو وان آئین سیڈل (Orlando Von Einsiedel) کو ڈائریکشن کی ذمے داری سونپی گئی‘ یہ فلم بنی‘ ریلیز ہوئی اور اس نے تہلکہ مچا دیا‘ 26 فروری 2017ء کوہالی ووڈ میں 89 اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب تھی‘ وائٹ ہیلمٹ نے اس تقریب میں بیسٹ ڈاکومنٹری کا آسکر ایوارڈ حاصل کر لیا۔
ہم اگر وائٹ ہیلمٹ کی گروتھ دیکھیں تو ہم حیران رہ جائیں گے‘ یہ مارچ 2013ء میں استنبول میں شروع ہوئی‘ یہ تنظیم چھ نوجوانوں نے بنائی‘ آئیڈیا برطانوی شہری جیمز لی میسوریر کا تھا‘ تنظیم میں 2013ء کے وسط تک ہزاروں ترک نوجوان شامل ہو گئے‘ یہ نوجوان شام کے جنگ زدہ عوام کی مدد کے لیے جان تک دینے کے لیے تیار تھے‘ جیمز نے ستمبر اکتوبر میں نوجوانوں کی ٹریننگ شروع کی‘ ترکی کے بزنس مینوں نے مالی امداد دی‘ یہ لوگ وائٹ ہیلمٹ پہن کر شام پہنچے اور یہ 2013ء کے آخر تک سیکڑوں لوگوں کی جان بچا چکے تھے‘ شام کے نوجوان ترک نوجوانوں کے جذبے سے متاثر ہوئے اور یوں 2014ء کے شروع تک شام کے ہزاروں نوجوان بھی تنظیم میں شامل ہو گئے‘ یہ تنظیم 2015ء تک پوری دنیا میں مقبول ہو گئی‘ دنیا کے بڑے بڑے اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز اس کے بارے میں رپورٹس دینے لگے‘ 2016ء میں ان لوگوں پر فلم بنی اور اس فلم نے 2017ء کے شروع میں آسکر ایوارڈ حاصل کر لیا‘ دنیا کے دس ملک اب تک ان کے ڈونر بن چکے ہیں اور دنیا بھر کے بے شمار تجارتی ادارے‘ شخصیات اور کمپنیاں بھی انھیں دل کھول کر امداد دے رہی ہیں‘ یہ تمام حقائق کیا ثابت کرتے ہیں‘ یہ ثابت کرتے ہیں دنیا میں اگر کوئی شخص کام کرنا چاہے تو وہ تین سال میں کمال کر سکتا ہے‘ وہ پوری دنیا کو سوچنے‘ مدد کرنے اور حمایت کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
یہ کہانی سن کرکاش ہمارے پاکستانی نوجوانوں میں بھی جذبہ پیدا ہو جائے اور یہ بھی ریڈ ہیلمٹ کے نام سے وائٹ ہیلمٹ جیسی کسی تنظیم کی بنیاد رکھ دیں‘ ہم لوگ دس سال سے خوفناک دہشت گردی کا شکار ہیں‘ کاش ہم میں سے چند نوجوان اٹھیں اور یہ دہشت گردوں سے مقابلے کے لیے ریڈ ہیلمٹ بنا لیں‘حادثات اور سانحوں کے وقت ہمارے اسپتالوں میں ادویات‘ نرسز اور ڈاکٹرز نہیں ہوتے‘کاش ہمارے نوجوان ریڈ ہیلمٹ کے نام سے سوشل میڈیا پر کوئی تنظیم بنائیں‘ یہ تنظیم حادثے اور سانحے کے بعد شہر کی دس فیصد گاڑیاں ایمبولینسز بنا دے۔
یہ قرب و جوار میں موجود نرسز‘ وارڈ بوائز اور ڈاکٹرز کو بھی زخمیوں کی مدد کے لیے طلب کر لیں اور یہ مخیر حضرات کی مدد سے ادویات خرید کر بھی جائے حادثہ پر پہنچا دیں اور کاش ہم ریڈ ہیلمٹ کے نام سے ملک بھر میں جاسوسی کا پرائیویٹ نیٹ ورک ہی بنا لیں‘ یہ نیٹ ورک مشکوک لوگوں کی مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھے اور یہ ان کی اطلاعات سرکاری محکموں تک پہنچا دے اور کاش ہم ریڈ ہیلمٹ کے نام سے ویلفیئر کی کوئی ایسی تنظیم بنا دیں ہم جس کی ویب سائیٹ پر اپنی فالتو اشیاء کی تصویریں لگا دیں اور ملک بھر میں جس جس شخص کو اس چیز کی ضرورت ہو وہ یہ چیز ہم سے مفت منگوا کر استعمال کر لے۔ہمارے ترک بھائی اگر وائٹ ہیلمٹ جیسی تنظیم بنا سکتے ہیں تو کیا ہم پاکستانی ریڈ یا گرین ہیلمٹ کے نام سے کوئی تنظیم نہیں بنا سکتے؟ کیا ہم بانجھ ہیں یا پھر ہم جذبات سے عاری بے بس قوم ہیں اور کیا ہم نے آج تک کوئی ایک بھی جیمز لی میسوریر پیدا نہیں کیا‘ ہمیں سوچنا بھی ہو گا اور عمل بھی کرنا ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

وئیر یو وانٹ ٹو گو۔۔؟؟؟۔۔تحریر:۔مناظرعلی

حجاب میں وہ خوبصورت لگتی ہے تواس میں اس کابھلاکیاقصورہے؟اسے معلوم ہے کہ عورت اپنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *