Sunday , October 21 2018
ہوم > کالم > پبلک ریلیشننگ۔ چہروں پر غازہ یا کالک ملنے کا صحیح طریقہ- عطا ء الحق قاسمی

پبلک ریلیشننگ۔ چہروں پر غازہ یا کالک ملنے کا صحیح طریقہ- عطا ء الحق قاسمی

پبلک ریلیشننگ کا فن غالباً بہت پرانا ہے اور فرض کریں اگر یہ اتنا پرانا نہیں تو اسے ہونا چاہئے تھا ۔ اگر یہ فن پرانے زمانے میں بھی اتنا ہی مقبول ہوتا جتنا ان دنوں ہے تو لوگ بہت سی قباحتوں سے بچ جاتے مثلاً سکندر اور پورس میں لڑائی کی نوبت ہی نہ آتی بلکہ اس کی جگہ یوں ہوتا کہ ان دونوں سورمائوں کے پبلک ریلیشنز آفیسر اپنی اپنی کارروائیوں کا آغاز کرتے۔ پھر ان میں سے جو بول بچن کا زیادہ ماہر ہوتا وہ اپنے باس کو وکٹری اسٹینڈ پر کھڑا کردیتا اور اس کے صلے میں پبلک ریلیشن آفیسر کو بھی د وچار انکریمنٹس اکٹھی مل جاتیں اور خلق خدا بھی چین کی بانسری بجاتی۔ اس سلسلے میں ایسٹ انڈیا کمپنی والے خاصے زیرک نکلے۔ انہوں نے تاجروں کے روپ میں اپنے پبلک ریلیشن آفیسر انڈیا بھیجے اس کے نتیجے میں کمپنی ہذا نے رفتہ رفتہ پورے برصغیر کو اپنا سب آفس بنا لیا۔
اس شعبے کی افادیت صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ سچ پوچھیں تو اس کے گُن جلیبی کے چکروں سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ اس فن سے نابلد ہونے یا اس کی افادیت سے کماحقہ ٗ آگاہ نہ ہونے کانتیجہ ہے کہ آج تاریخ کی بڑی بڑی شخصیتیں خوا مخوا ہ منہ پر کالک ملے ہمارے سامنے پیش ہوتی ہیں مثلاً اعلیٰ حضرت چنگیز خاں اور اعلیٰ حضرت ہلاکو خاں کچھ ایسے برے بزرگ نہ تھے بلکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ بدقسمتی سے انہیں اچھے پبلک ریلیشنز آفیسر نہ مل سکے۔ اگر انہوں نےاس شعبے میں بہتر لوگ بھرتی کئے ہوتے تو آج تاریخ کے اوراق میں ان کا ذکر سنہری حروف میں درج ہوتا۔ اس کام کے لئے ان بزرگوں کو صرف اس شعبے کی گرانٹ میں اضافہ کرنا ہوتا جس کے نتیجے میں ماہرین تعلقات ِ عامہ کا کام آسان ہو جاتا۔ وہ اپنے گھروں پر بڑی بڑی پارٹیاں دیتے جن میں اس زمانے کے علما، فضلا، صلحا، مورخ، دانشور، ادیب اور شاعر شریک ہوتے۔ اس دور کے تذکرہ نگار ان محفلوں کو رونق بخشتے۔ مورخ قسم کے سیاحوں کی خصوصی طور پر آئوبھگت کی جاتی۔ انہیں تحفے تحائف اور نذرانے پیش کئے جاتے اور ان طبقوں سے امتیازی سلوک برتا جاتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی اور اس امر کاقوی امکان موجود ہے کہ اس قسم کی آرا درج ہوتیں کہ اعلیٰ حضرت چنگیز خاں یا اعلیٰ حضرت ہلاکو خاں بہت رعایا پرور تھے۔ رحمدلی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ بہت علم دوست تھے اورارباب ِ فن کی بہت قدر فرماتے تھے۔ اس امر کاامکان بھی موجود ہے کہ پرانے مخطوطوں میں سے اس دور کے نامی گرامی شعرا کی مدحیہ نظمیں ان کی شان میں مل جاتیں جس سے ان لوگوں کا منہ کالا ہوتا جو آج تاریخ کی کالک ان بزرگوں کے چہروں پر مل کر خوش ہوتے ہیں۔
اس دور کے پبلک ریلیشنز آفیسر اپنی اعلیٰ کارکردگی، لگن اور فرض شناسی کی بدولت صرف یہی نہیں بلکہ اس سے بھی بڑے کارنامے سرانجام دے سکتے تھے مثلاً کئی بادشاہوں کے متعلق اس طرح کی باتیں معلوم ہوئی ہیں کہ وہ دن کو امور ِ سلطنت انجام دیتے تھے اور رات کو ٹوپیاں سی کر بازار میں فروخت کرکے اپنی روزی کماتے تھے۔ کچھ مغل بادشاہوں کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ ساری ساری رات بھیس بدل کر گلیوں، محلوں اور بازاروں میں گھومتے تھے اور اپنی رعایا کا حال معلوم کرتے تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے ساری عمر اپنی رعایا کے لئے تیارشدہ فلاح و بہبود کےمنصوبوں پر عملدرآمد میں صرف کردی اور ظاہر ہے یہ سب کام بادشاہوں کے کرنےکے تو نہیں ہیں۔ ان بیچاروں کو اتنی مشقت محض پبلک ریلیشنز آفیسروں کی عدم موجودگی یا ان کی نااہلی کی وجہ سے اٹھانا پڑی۔ اگر انہوں نے محنتی، فرض شناس اور اپنے کام کے ماہر تعلقات ِعامہ کے افسروں کی خدمات حاصل کی ہوتیں تو بادشاہ اپنی زندگی بادشاہوں کی طرح سے گزار سکتے تھے اور جو نیک نامی انہیں عیش و عشرت کی قربانی دے کر اور رعایا کی فلاح و بہبود کے لئے دن رات محنت کرنے کے نتیجے میں ملی وہ اچھے تعلقات ِ عامہ کے افسروں کی کوششوںکےنتیجے میں اس کے بغیر بھی حاصل ہوسکتی تھی۔
ماضی میں کچھ اس طرح کی غلطیاں ہمارے بعض ادیبوں شاعروں سے بھی سرزد ہوئی جن کا خمیازہ وہ آج تک بھگت رہے ہیں مثلاً اپنے میر دردؔ تصوف میں پڑے رہے، اللہ سے محبت کی ، اس کے بندوں سے محبت کی مگر اُن اللہ کے بندوں سے محبت نہیں کی جو ڈھول گلےمیں ڈال کر گلی گلی کوچے کوچے ان کی عظمت کی منادی کرتے یا ان لوگوں کے آستانے پر حاضری نہیں دی جو بڑے ادب پرور تھے اور جو ادیب کو اپنی چوکھٹ پر دیکھ کر ازراہ ِ لطف و کرم اپنے پائوں ان کی طرف بڑھا دیتے تھے تاکہ وہ قدم بوسی کی سعادت حاصل کرسکیں۔ اسی طرح غالبؔ کے مقابلے میں ذوقؔ کی پبلک ریلیشننگ کا سیل بہت مضبوط تھا۔ چنانچہ وہ اپنے عہد کے ملک الشعرا کہلائے۔ یہ تو بعد میں ذوقؔ کے پبلک ریلیشن آفیسر ڈھیلے نکلے ورنہ آج بھی ذوقؔ کا رتبہ غالبؔ سے بلند ہوتا۔ لیکن جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا ماضی میں اس فن کی افادیت کا صحیح طور پر اندازہ نہ کیا جاسکا جس کے نتیجے میں آج تاریخ کے صفحات میں بہت سے سرکار بدلے بدلے نظر آتے ہیں۔ تاہم آج کی صورتحال ماضی سے قطعی طور پر مختلف ہے۔اب حکومتوں کو تو چھوڑیئے کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں پبلک ریلیشن آفیسر اپنی پوری افادیت کے ساتھ موجود نہ ہو بلکہ شعبوں کو چھوڑیئے، کوئی اہم شخصیت ایسی نہیں جس کے ایک یا ایک سے زیادہ پبلک ریلیشن آفیسر نہ ہوں۔ اب تو یہ علم باقاعدہ سائنسی بنیادوں پر استوار ہے۔ یونیورسٹیوں میں پڑھایاجاتا ہے۔ اس میں ایم اے کیا جاتا ہے۔ اس پر پی ایچ ڈی کی ڈگری ملتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ تمام علوم و فنون اس کے سامنے ماند پڑ گئے ہیں اوراب پوری دنیا کی سیاست،معاشیات، معاشرت، ادب اور ثقافت اس محور کے گرد گھومتے ہیں خصوصاً سپرپاورز کاتو سارا کاروبار ہی ان پبلک ریلیشن آفیسرز کے دم قدم سے ہے۔ ان ماہرین نے اپنے فرائض منصبی کی بجا آوری کے دوران دنیا کی ڈکشنریوں میں بہت خوبصورت لفظ بھی Coin کئے ہیں مثلاً لوٹ مار کامال مل کر کھانے کو کوئی اچھا سا نام دے دیا ہے۔ جغرافیائی توسیع کے لئے بھی خوبصورت لفظ موجود ہے۔ ان کی لغات میں ’’ویٹو‘‘ کا مطلب امن عالم کو برقرار رکھنا ہے۔ ان بڑی طاقتوں کے ان ماہرین نے بہت ا علیٰ درجے کے غازے بھی تیار کئے ہیں جن سے ان کے بوسیدہ چہروں کی جھریاں اور ان منہدم ہونے والی عمارتوں کی دراڑیں نظر نہیں آتیں جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا تھا کہ اگر چنگیز خاں اور ہلاکو خاں نے بھی تعلقات ِعامہ کے ماہرین کی خدمات حاصل کی ہوتیں تو آج ان کے چہرے بھیانک نظر نہ آتے۔ان بزرگوں کو آج کے دور میں پید ا ہونا چاہئے تھا اور یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے تو یقین ہو گیا کہ انسان کو واقعی وقت سے پہلے نہیں پیدا ہونا چاہئے۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

ایک تبصرہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *