Sunday , August 19 2018
ہوم > کالم > گھریلو تشدد، ایک عالمگیر مسئلہ – عبداللہ فیضی

گھریلو تشدد، ایک عالمگیر مسئلہ – عبداللہ فیضی

تشدد ابتداء سے ہی انسانی جبلت کا ایک جزو ہونے کے ناطے معاشرے کا ایک ناخوشگوار پہلو رہا ہے۔ طاقتور کی طرف سے اپنے سے کمزور کے خلاف اپنی بات منوانے کے لیے زور زبردستی، ڈرانا، دھمکانا یا براہِ راست تشدد کا استعمال نیا نہیں بلکہ ازمنہ قدیم ہی سے دنیا بھر کے معاشروں میں آج تک رائج ہے۔ تشدد ہمارے اردگرد بین الاقوامی سطح پر ممالک کے درمیان جنگوں کی صورت میں، ملکی سطح پر گروہوں کے مابین قتل وغارت گری کی صورت میں، علاقائی سطح پر دنگے فساد کی شکل میں اور بعض صورتوں میں نجی زندگی میں گھریلو تشدد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مطابق گھریلو تشدد کے حوالے سے موجودہ یورپ اور امریکہ کی ماضی قریب کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ زمانہ قبل ازمسیح سے سترہویں صدی تک یورپ اور امریکہ میں مرد کا اپنی بیوی پر تشدد کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا اور اس حوالے سے بیوی کی حیثیت ایک ذاتی پراپرٹی کی سی تھی۔ لہذا عدالت اور معاشرہ گھریلو تشدد کو جرم تسلیم نہیں کرتا تھا۔ سترہویں صدی میں گھریلو تشدد کے عام ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انگلش کامن لاء میں چارلس دوئم کے عہد سے پہلے بدنام زمانہ اصول Under The rule of thumb (انگوٹھے کا اصول) رائج تھا۔

اس کے مطابق مرد کے انگوٹھے کے حجم کی موٹائی کے برابر کسی بھی شے (چھڑی وغیرہ) سے خواتین پر کیے جانے والے تشدد کو قانونی تحفظ حاصل تھا۔ اٹھارہویں صدی میں انگلش کامن لاء نے خاتون کو پہلی دفعہ گھریلو تشدد کی بناء پرعلیحدگی کا حق عطا کیا، لیکن اس کے باوجود صرف گھریلو تشدد کی بناء پر ہی طلاق کا حصول ممکن نہ تھا۔ امریکہ میں اس زمانے میں گھریلو تشدد کے جواز کے طور پر بائبل سے حوالے دیے جاتے تھے اور عدالتی سطح پر چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ دیگر نظر نہ آنے والی جگہوں پر تشدد کو جائز تسلیم کیا جاتا تھا۔

یورپ اور امریکہ میں گھریلو تشدد کے حوالے سے اصل شعور انیسویں صدی میں پیدا ہونا شروع ہوا اور اسے برا سمجھا جانے لگا۔ اس کے باوجود 1960ء تک گھریلو تشدد کو جرم تسلیم نہیں کیا جاتا تھا اور نہ ہی پولیس مجرم کو گرفتار کیا کرتی تھی۔ 1960ء کی دہائی میں اٹھنے والی خواتین کی تحریکوں کے نتیجے میں 1977ء میں پہلی دفعہ گھریلو تشدد کے خلاف امریکی ریاست ’مینی سوٹا‘ میں بل پیش کیا گیا اور 1978ء میں اسے باقاعدہ جرم تسلیم کیا گیا۔ بعد ازاں 1979ء میں CEDAW کی شکل میں عالمی برادری نے گھریلو تشدد اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور دنیا بھر میں اس کے بعد سے جو کوششیں شروع کی گئیں وہ آج تک جاری ہیں۔

اسی تناظر میں موجودہ صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے یورپی یونین، ادارہ برائے بنیادی حقوق (European Union Agency for Fundamental Rights, FRA) کی 2014ء میں شائع کردہ رپورٹ خاصی اہم دستاویز ہے۔ مذکورہ رپورٹ ایک سروے سٹڈی پر مشتمل ہے جو کہ گھریلو تشدد کے حوالے سے یورپ بھر کے اٹھائیس ممالک کے 422 ہزار افراد سے انٹرویوز کی صورت میں کیا گیا۔ رپورٹ میں پیش کئے گئے اعداد و شمار اور سروے کے نتائج خاصے حیران کن اور تشویش ناک ہیں۔ حاصل شدہ نتائج کے مطابق مجموعی طور پر یورپ میں بسنے والی ہر تین میں سے ایک خاتون اپنی پندرہ برس کی عمر کے بعد سے کسی نہ کسی انداز میں گھریلو تشدد (بشمول جنسی تشدد) کا شکار رہ چکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسمانی تشدد کے علاوہ ہر دس میں سے ایک خاتون کو جنسی تشدد جبکہ ہر بیس میں سے ایک کو ریپ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ سروے کے مطابق خواتین کو سب سے زیادہ تشدد کا شکار خود ان کے اپنے ساتھی مردوں کی طرف سے بنایا گیا جہاں 22 فیصد خواتین نے اپنے ساتھی مردوں کی طرف سے تشدد کی شکایت کی۔ گھریلو تشدد کے حوالے سے اگر یورپی ممالک کی درجہ بندی کی جائے تو سب سے زیادہ تشدد ڈنمارک میں کیا گیا جہاں 52 فیصد افراد نے گھریلو تشدد کئے جانے کی شکایت کی یعنی ہر دوسرا فرد کسی نہ کسی انداز میں اس مسئلے سے متاثر نظر آیا۔ فرانس میں 44 فیصد افراد گھریلو تشدد کا شکار ہوئے جبکہ برطانیہ میں گھریلو تشدد کا شکار ہونے والے افراد کی شرح 44 فیصد ہی رہی۔ فن لینڈ اور سویڈن میں یہ شرح 40 فیصد سے زائد رہی جبکہ جرمنی میں 35 فیصد افراد گھریلو تشدد کا شکار رہے۔ ان اٹھائیس ممالک میں سب سے کم گھریلو تشدد کی شرح جہاں ریکارڈ کی گئی وہ پولینڈ میں 19 فیصد تھی۔

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ گھریلو تشدد کا شکار صرف خواتین ہی ہوتی ہیں لیکن برطانوی اخبار دی گارڈین کی مئی 2010ء کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں رپورٹ کردہ کل شکایات میں سے 40 فیصد شکایات مردوں کی جانب سے درج کروائی گئیں، جنہیں ان کی ساتھی خاتون کی طرف سے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت کی برطانوی وزیرداخلہ تھریسامے نے گھریلو تشدد سے نمٹنے کے حوالے سے اپنی پالیسی اور محکمہ پولیس کی ناکامی کو تسلیم کیا۔ دی گارڈین ہی میں 27 مارچ 2014ء کو شائع شدہ رپورٹ کے مطابق سال 2012-13ء میں صرف برطانیہ میں دو لاکھ انسٹھ ہزار گھریلو تشدد کے کیسز درج ہوئے۔ 777 خواتین قتل ہوئیں جبکہ دس ہزار سے زائد عورتیں اور بچے ابھی بھی تشدد کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔

اب اگر موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا بھر میں شعور پیدا کرنے اور ترقی یافتہ ممالک میں موثر قانون سازی کے باوجود یہ مسئلہ ابھی تک موجود ہے۔ لہٰذا تیسری دنیا کے ممالک اور مسلم معاشرے تو ایک طرف خود یورپ اور امریکہ میں تشدد کے حوالے سے صورت حال سنگین نظر آتی ہے، جو اس بات کی غماز ہے کہ گھریلو تشدد ایک ایسا مسئلہ ہے جو کہ صرف ایک معاشرے، خطے، براعظم یا مذہب کا نہیں بلکہ دنیا بھر میں ایک عالمگیر رجحان اور مسئلے کی صورت نظر آتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ حقائق اور رپورٹس کی روشنی میں یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ گھریلو تشدد ایک ایسا عالمگیر مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے صرف اور صرف قانون سازی ہی کافی نہیں بلکہ عوامی شعور و احساس بیدار کرنے کے لیے شہریوں کی اخلاقی تربیت اور کردار سازی کرنا بھی ضروری ہے۔

تشدد کے سدباب کے لیے کی جانے والی اخلاقی تربیت اور کردار سازی کے حوالے سے مذاہب عالم بالخصوص اسلام بہت بہترین اور مفصل رہنمائی اور طریقہ کار فراہم کرتے ہیں۔ بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عائلی زندگی دنیا بھر کے مسلم اور غیرمسلم خاندانوں کے لیے بہترین نمونہ فراہم کرتی ہے۔ جہاں باہمی عزت و احترام، پیارومحبت، حقوق و فرائض کی بجا آوری، حسن سلوک، خوش خلقی، بچوں کی تعلیم و تربیت، باہمی معاملات میں مشاورت، حسن انتظام، تنازعے کی صورت میں حکمت و برداشت الغرض ہر اس پہلو کے لئے جس کا تعلق کسی فرد کی خانگی زندگی سے ہو سکتا ہے، سبق اور تعلیمات سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہیں۔

بحیثیت ایک مسلمان اور پاکستانی ہمیں بہت افسوس سے یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ دنیا کے دیگر خطوں کی طرح گھریلو تشدد مسلم معاشروں بالخصوص پاکستان میں بھی ایک بدنما داغ کی صورت موجود ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم معاشروں میں اس برائی کے خلاف آگاہی و شعور بیدار کرنے اور اس کا سدباب کرنے کے لئے علماء کرام کو مسجد و مدرسہ سے اور حکومت کو تعلیمی اداروں کی سطح سے عوامی بیداری پھیلانے کی آواز بلند کرنی چاہیے۔ یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ جس میں جسم و جاں کی حفاظت کو ملکی قوانین کے ساتھ ساتھ مقاصد شریعت میں بھی فوقیت حاصل ہونے کے ناطے اولیت حاصل ہے۔لہٰذا نہ صرف حکومت وقت بلکہ بحیثیت مجموعی پورے معاشرے کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ایک بہترمعاشرے کی تشکیل کے لئے اس برائی کے سدباب کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔

بحث کو سمیٹتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ گھریلو تشدد ایک عالمگیر مسئلہ ہے جو مشرق تا مغرب تمام ممالک میں اپنے اپنے انداز سے موجود ہے اسے کسی ایک خطے یا مذہب کے خلاف پراپیگنڈا یا ثبوت کے طور پر استعمال نہ کیا جائے، بلکہ بحیثیت مجموعی فلاح انسانیت کے لیے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عملی اور مثبت کوششیں صحیح سمت میں کی جانی چاہیئیں۔ جن میں موثر قانون سازی کے ساتھ ساتھ اصلاحی و تربیتی اداروں کا قیام، وجوہات (شراب نوشی، غصہ، ذہنی بیماری، ڈپریشن وغیرہ) کا تدارک اور سب سے بڑھ کر عوام الناس کے اندر احساس و شعور کی بیداری پیدا کرتے ہوئے ان کی اخلاقی تربیت اور کردار سازی پر توجہ بے حد ضروری ہے۔

یہ بھی دیکھیں

میرا جسم، میری مرضی – خدیجہ افضل مبشرہ

سن 2011 میں فرانس سے شروع ہونے والی تنگ نظری کی وباء نے کل اسکینڈینیویا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *