ہوم > کالم > پختونخوا میں تبدیلی کا ایک جائزہ – پروفیسر مفتی منیب الرحمن

پختونخوا میں تبدیلی کا ایک جائزہ – پروفیسر مفتی منیب الرحمن

مجھے گزشتہ ہفتے اپنے ماموں جان غلام یحییٰ مفتی رحمہ اللہ تعالیٰ کے انتقال پر فاتحہ و تعزیت کے لیے ایبٹ آباد/مانسہرہ جانے کا موقع ملا۔ میں نے وہاں پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں کارکردگی کے بارے میں غیر جانبدار لوگوں سے معلومات حاصل کیں۔ مجھے بتایا گیا کہ BHU ،RHC اور تحصیل و ضلعی ہیڈکوارٹرز کے اسپتالوں میں ڈاکٹرز کا کافی تعداد میں تقرر کر دیا گیا ہے اور ابھی بھرتیاں جاری ہیں، پروفیشنل ہیلتھ الاؤنس کی صورت میں اُن کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کردیا گیا ہے۔ صوبے کو پسماندگی کے اعتبار سے تین درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اول درجہ میں صرف پشاور اور ایبٹ آباد، دوسرے میں بارہ اضلاع اور تیسرے یعنی سب سے پسماندہ درجے میں گیارہ اضلاع ہیں۔ پسماندہ اضلاع میں PHA سب سے زیادہ رکھا گیا ہے، اُن میں بھی مقامات کے اعتبار سے تفاوُت ملحوظ رکھا گیا ہے، دوسرے درجے کے اضلاع کا PHA تیسرے درجے سے کم ہے اور سب سے کم پہلے درجے کے اضلاع کا ہے اور ہر جگہ ملازمتوں میں مقامی لوگوں کوترجیح دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اِن اقدامات سے اسپتالوں میں اسٹاف کی حاضری میں بہت بہتری آئی ہے اور یقینا زیادہ لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پختونخوا میں محکمۂ مال کے نظام میں بھی بہتری لائی گئی ہے اور کرپشن کے مواقع کم کر دیے گئے ہیں، پنجاب کے بعض اضلاع میں بھی یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

اسکولوں اور کالجوں میں اسٹاف کی حاضری کے لیے بائیومیٹرکس مشینیں نصب کی گئی ہیں، اور اُن کو سینٹرل ڈائریکٹریٹ سے مربوط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کے علاوہ معائنہ ٹیمیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔ اساتذہ کو تنخواہوں کے گریڈ میں مناسب ترقی دی گئی ہے۔ الغرض ظاہری نظم میں بہتری آئی ہے، لیکن معیار کی بہتری کی منزل کا حصول ابھی باقی ہے، تاہم اِن اقدامات کو صحیح سَمت میں ایک مثبت کاوش قرار دیا جاسکتا ہے، کیونکہ تعلیمی اداروں میں پہلے سے موجود تدریسی عملے کو نیشنل ٹیسٹنگ سروس کا امتحان پاس کرنے کے لیے کہاجائے تو وہ اس کی مزاحمت کرتے ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اُن کو آپشن دیا جائے اور جو ٹیسٹ پاس کر دے، اُس کے لیے پرکشش خصوصی الاؤنس رکھا جائے یا اگلے گریڈ میں ترقی دے دی جائے، اس سے معیار میں اگر کُلّی نہیں تو جزوی بہتری لائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح بلدیاتی سطح پر ضلعی و صوبائی ناظمین و نائب ناظمین، یوسی چیئرمین و نائب چیرمین کا بھی مشاہرہ مقرر کیا گیا ہے اور اُن کو چھوٹے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کے لیے کچھ رقوم دی گئی ہیں۔ جنابِ عمران خان پختونخوا کی پولیس کو غیر سیاسی بنائے جانے کا ذکر بڑے افتخار کے ساتھ کرتے رہتے ہیں، میں نے اس کی بابت بھی متعدد لوگوں سے پوچھا: انہوں نے بتایا: پختونخوا پولیس کا اخلاقی رویّہ پہلے بھی دوسرے صوبوں سے بہتر تھا، نہ وہ لوگوں کو گالی گلوچ سے مخاطب کرتے اور نہ بلاسبب تذلیل کرتے تھے، تاہم جرائم کی تفتیش کے حوالے سے نمایاں بہتری کے شواہد نہیں ملے، البتہ ٹریفک پولیس کی کارکردگی پہلے سے بہتر نظر آتی ہے۔ اگرچہ کسی بھی حکمت عملی کو ہر لحاظ سے نقائص سے پاک قرار نہیں دیا جاسکتا، تاہم ہر اچھی کاوش کی کھلے دل سے تحسین کی جانی چاہیے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض ضلعوں میں ماڈل پولیس اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور اُن میں مقامی کمیونٹی کو شامل کیا گیا ہے، اسی طرح دہشت گردی کے مقابلے کے لیے مرد و خواتین پولیس کمانڈوز تیار کیے گئے ہیں، بعض جگہ پولیس نے خود کش حملہ آوروں کو اِقدام سے پہلے نشانہ بنایا اور بڑی تباہی سے بچ گئے، یہ قابلِ تحسین مثال ہے۔

دوسری جانب برسرِ زمین ترقیاتی کام نظر نہیں آ رہے۔ ہری پور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں ٹریفک کا ہجوم بہت بڑا مسئلہ ہے۔ صوبائی وزیرِاعلیٰ پرویز خٹک نے ایبٹ آباد میں بائی پاس بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن اُس کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ سو اگر ترقیاتی کاموں میں مقابلہ ہو تو پنجاب بہت آگے نظر آئے گا، اور قومی انتخابات کے موقع پر یہ چیزیں منظر پر نظر آتی ہیں، جبکہ نظام میں اصلاح کی کاوشوں کو صرف باشعور لوگ اور اُس کے مستفیدین ترجیحِ اول دیتے ہیں۔ جنابِ عمران خان کا یہ فلسفہ اپنی جگہ درست ہے کہ پیسہ انسانوں پر لگنا چاہیے، لیکن آخرِ کار انہیں ماننا پڑا کہ ترقیاتی کاموں پر لگا ہوا پیسہ بھی عوام کی فلاح کے لیے ہوتا ہے، چنانچہ دیر سے سہی، انہیں پشاور میں فلائی اوورز، میٹرو اور مردان سوات ہائی وے کی طرف آنا پڑا۔ آج لوگ لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور ملتان میں بیس روپے کرایہ دے کر باوقار انداز میں ائیر کنڈیشنڈ بسوں میں بیٹھ کر سفر کرتے ہیں۔ مجھے جب بھی ان شہروں میں جانا ہوتا ہے، عام آدمی سے بات کرتا ہوں اور سب سے مثبت تاثّر ملتا ہے۔ اُس کے مقابل کراچی میں لوگ انتہائی کرب کے ساتھ تیس چالیس سال پرانی ٹوٹی پھوٹی بسوں میں بدترین حالت میں سفر کرتے ہیں، اُن کی حالت دیکھ کر دکھ ہوتا ہے، شدید گرم اور سرد موسم میں انھیں بسوں کی چھتوں پر بھی بیٹھ کر سفر کرنا پڑتا ہے، ان بسوں میں دروازے، کھڑکیاں، شیشے اور سیٹیں کوئی بھی چیز درست حالت میں نہیں ہے، اور سڑکوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ، بلکہ تکلیف دِہ ہے۔ فلسفیانہ تقریروں کی اہمیت بجا، لیکن سامنے نظر آنے والی حقیقت کا انکار بھی ممکن نہیں ہوتا۔

میں نے ایک ملاقات میں جنابِ عمران خان سے عرض کی: یہ ایک حقیقت ہے کہ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک مجموعی طور پرتقریباً پچاسی تا ستاسی فیصد عرصہ پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ یا بااختیار گورنر صاحبان کی غالب اکثریت کا تعلق صوبے کے مرکزی اضلاع یعنی پشاور، مردان اور نوشہرہ سے رہا ہے، اِس سے ملتی جلتی صورتحال صوبائی سیکرٹریٹ میں گریڈ سولہ اور اُس سے اوپر کی بیوروکریسی کی ہے۔ لہٰذا ہزارہ ڈویژن اور جنوب کے اضلاع کو کبھی بھی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں آبادی کے تناسب سے حصہ نہیں ملا، حتیٰ کہ ایم ایم اے اور اے این پی کے دور میں بھی ترقیاتی بجٹ کا بیشتر حصہ انہی اضلاع پر خرچ کیا گیا، سوائے اس کے کہ مولانا فضل الرحمن اور جناب سراج الحق نے اپنے حلقے یا ضلع کے لیے کچھ برکات زیادہ حاصل کرلیں۔ جنابِ اکرم درانی کو ایم ایم اے کی حکومت میں موقع ملا تو انہوں نے بنوں میں بہت ترقیاتی کام کیے۔ جس طرح گوجر خان میں وزیرِ اعظم جناب راجہ پرویز اشرف نے 2013ء کے انتخاب سے پہلے داد و دہش کی انتہا کر دی تھی، اُس موقع پر جنابِ امیر حیدر نے مردان میں مدارس و مساجد تک کو نوازا۔ مولانا سمیع الحق کے ادارے کے لیے صوبائی ترقیاتی بجٹ میں تیس کروڑ روپے کی بھاری گرانٹ کا سبب یہی ہے کہ جنابِ پرویز خٹک کا تعلق ضلع نوشہرہ سے ہے ۔

میں نے جنابِ عمران خان سے کہا: آپ ماضی کے سالوں کی اے ڈی پی اور بجٹ کے دیگر مصارف کا تقابلی مطالعہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کریں تاکہ آپ کے سامنے صحیح تجزیہ آئے۔ پنجاب میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور جنوبی پنجاب کو آبادی کے تناسب سے حصہ نہ ملنے کی شکایات بجا ہیں، مگر ناانصافی کہیں بھی نہیں ہونی چاہیے۔ یہی شکایت 2008ء سے اب تک اہلِ کراچی کو ہے، مانا کہ سابق صدر جنابِ پرویز مشرف کے دور میں بعض نا انصافیاں ہوئی ہیں، لیکن کسی ناانصافی کا ازالہ جوابی ناانصافی سے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے حقوق کی تقسیم میں انصاف کو فروغ دینا چاہیے، دستور کا تقاضا اور اسلام کی تعلیمات یہی ہیں۔ اِسی طرح وفاق کے زیرِ اہتمام قبائلی علاقہ جات کو الگ صوبہ بنانا حکمت کے منافی ہے، کیونکہ وہ علاقے جغرافیائی اعتبار سے آپس میں ملے ہوئے نہیں ہیں، انہیں باہم رابطے کے لیے پختونخوا کے بندوبستی علاقوں سے گزرنا پڑتا ہے، جیسے ہزارہ ڈویژن کے لوگ پنجاب کے ضلع اٹک سے گزر کر ہی اپنے صوبائی دارالحکومت پشاور جا سکتے ہیں، براہِ راست کوئی روٹ نہیں ہے۔

سیاستدان اپنی ترجیحات کی بنا پر کیا کیا غضب ڈھاتے ہیں، اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ پختونخوا کا ایک علاقہ ’’تورغر‘‘ ہے، جو مانسہرہ تک پھیلے ہوئے حلقہ NA-21 کا ایک جزوی حصہ ہے،گزشتہ دور میں اے این پی کی حکومت نے اُسے ضلع کا درجہ دے دیا، کیا ایک صوبائی حلقے کو ضلع بنانے کا کوئی جواز ہے۔ اسی طرح ضلع کوہستان قومی اسمبلی کے ایک حلقے پر مشتمل ہے، اُسے جنابِ پرویز خٹک نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے دو ضلعوں میں تقسیم کر دیا ہے اور لوگ سراپا احتجاج ہیں، کیا اس میں کوئی معقولیت ہے، ان تینوں علاقوں کے پاس اپنے ضلعی ہیڈکوارٹرز کے لیے مناسب جگہ بھی دستیاب نہیں ہے، الغرض صوبائی اسمبلی کے حلقے کو ضلع بنانے کی حکمت سمجھ سے بالاتر ہے۔ جنابِ عمران خان کی خدمت میں گزارش ہے کہ اِن امور پر بھی توجہ دیں، کیونکہ جب انتظامی ڈھانچہ کسی حکمت اور ضرورت کے بغیر اتنا پھیلادیا جائے گا تو صوبائی بجٹ میں ترقیاتی کاموں کے لیے کیا بچے گا۔ ماضی کا ضلع ہزارہ اب تقریباً سات اضلاع پر مشتمل ہے، اسی طرح سابق اضلاع پشاور اور مردان کو پانچ اضلاع میں تقسیم کر دیا گیا ہے، پچپن فیصد آبادی والے پنجاب میں 36 اور سندھ میں 29 اضلاع ہیں۔ پس آبادی میں تیسرے اور رقبے میں سب سے چھوٹے صوبے پختونخوا میں 25 اضلاع کا کیا جواز ہے۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ پختونخوا کے ممبرانِ اسمبلی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کردہ رقوم میں پی ٹی آئی ارکان کا حصہ اپوزیشن جماعتوں کے مقابلے میں دس گنا ہے، ہوسکتا ہے اس میں مبالغہ ہو، لیکن انصاف لازم ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *