Sunday , August 19 2018
ہوم > کالم > کیا کرکٹ سے امیج بحال ہو سکتا ہے؟ غلام نبی مدنی

کیا کرکٹ سے امیج بحال ہو سکتا ہے؟ غلام نبی مدنی

مثبت کھیل اور تفریح سالہا سال سے انسانی فطرت کا حصہ رہے ہیں۔ قدیم اور جدید زمانے کے اطباء انسانی جسم کی نشوونما میں تفریحی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کی افادیت پر متفق نظر آتے ہیں۔ ہر دور میں اور ہر قوم کے ہاں ثقافتی و تہذیبی لحاظ سے انواع و اقسام کے کھیل اور تفریحی سرگرمیاں پائی جاتی رہی ہیں۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہے کہ ہر قوم کا اپنا قومی اور ثقافتی کھیل ہوتا ہے۔گلوبلائزیشن کی وجہ سے جہاں دنیا کی مختلف قومیں ایک دوسرے کے قریب آئی ہیں، وہیں ان کی ثقافت، تہذیب، کھیل اور دیگر تفریحی سرگرمیاں بھی گلوبلائز ہو کر مختلف ممالک اور قوموں تک پھیلیں۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ کالونی ازم دور میں بڑے پیمانے پر قوموں کی ثقافتیں، تہذیبیں، کھیل اور دیگر تفریحی سرگرمیاں تبدیل ہوئیں۔ استعمار نے جن ملکوں پر قبضہ کیا، وہاں کی سیاست اور تہذیب وثقافت سے لے کر کھیل اور تفریح کی سرگرمیوں تک سب کچھ تبدیل کر دیا۔ استعمار کے متاثرہ ممالک کا بغور مطالعہ کیا جائے تو آج بھی وہاں استعمار کی باقیات ان کے کلچر، رسم و رواج اور ان کے کھیلوں کی صورت نظر آتی ہیں۔

کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں کو بڑا دھچکا اس وقت لگا جب سرمایہ داروں نے ان کھیلوں کے ذریعے سرمایہ کمانا شروع کیا۔ کھیلوں پر سرمایہ داروں کے اثرات سے اب کھیل محض کھیل اور جسمانی نشو و نما کے بجائے دنیا میں سرمایہ کمانے کا سب سے دھندہ بنا ہوا ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ پیسہ سٹے باز، اور اس کے بعد کھلاڑی کماتے ہیں۔ یہ سرمایہ کاری ہی ہے جس نے کھیل کو علم سے زیادہ فوقیت دلوائی، چنانچہ آج ایک محقق استاد کی قدر سے زیادہ ایک ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ کھلاڑی کی قدر کی جاتی ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا میں جتنا سرمایہ اولمپکس کھیلوں کے ذریعے ایک ہفتے میں پیدا ہوتا ہے، اتنا امریکہ کی تمام یونیورسٹیاں مل کر سال بھر میں پیدا نہیں کر سکتیں۔ برکلے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تنخواہ یونیورسٹی کے فٹبال کوچ سے کم ہے، فٹبال کوچ سالانہ تین ملین ڈالر کماتا ہے اور وائس چانسلر تین لاکھ ڈالر بھی نہیں کما پاتا۔ عزت کا پیمانہ اب علم و ہنر نہیں بلکہ پیسہ رہ گیا ہے۔ جو جتنا زیادہ پیسہ کمائے گا، اسے اتنی زیادہ عزت ملی گی۔ اسی پیمانے نے بھانڈ میراثیوں اور گویوں کو ہیرو بنایا۔ افسوس اس پر ہے کہ جب ملک پاکستان کی عزت کو بھی ایسے کھیل سے جوڑ دیا جائے جو سرمایہ داروں، سٹے بازوں کاسب سے بڑا دھندہ ہے۔ مقصود کرکٹ ایسے کھیل سے نفرت کا اظہار کرنا نہیں، بلکہ یہ بتانا ہے کہ عزت و ذلت کا معیار کرکٹ نہیں ہے، بلکہ علم و تحقیق کے وہ ادارے ہیں جن کے ذریعے مغرب آج دنیا پر حکمرانی کر رہا ہے۔ اگرچہ مغرب نے کھیلوں کی طرح علم و تحقیق سے بھی سرمایہ کمایا لیکن بہرحال مغرب نے اپنی عزت اور برتری کے لیے علم و تحقیق ہی کو اہمیت دی اور دنیا میں اپنے غلبے کے لیے اسی کو ہمیشہ آزمایا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس چیز کے ذریعے مغرب نے دنیا میں بالادستی حاصل کی، ہم اس سے اتنے دور ہیں کہ علاج کے لیے نہ صرف ہمارے حکمران باہرجاتے ہیں بلکہ علم و تحقیق کے لیے ہمارا بہترین ٹیلنٹ بھی اپنے ملک کے بجائے اوروں کے ہاں جا کر اپنی علمی تشنگی بجھاتا ہے، اور ہم پھر بھی ایک ایسے کھیل کے ذریعے دنیا میں اپنی عزت بحال کروانا چاہتے ہیں، جس سے آج تک پاکستان یا عام پاکستانیوں کو کوئی مالی یا دیگر فوائد حاصل نہیں ہوئے سوائے چند سرمایہ داروں کے، بلکہ کئی بار اس کے ذریعے دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے، اس کے لیے دنیائے کرکٹ میں پاکستان کے سکینڈل دیکھ لیے جائیں تو کافی ہے۔

اس لیے بہتر یہ ہے کہ جن چیزوں کے ذریعے ملک کا امن و امان برباد ہوا یا جن چیزوں کے ذریعے دنیا میں ہم اپنا کھویا ہوا امیج بحال کروا سکتے ہیں، ان کی طرف توجہ کی جائے۔ کرکٹ سے پہلے ملک میں امن آیا نہ اب اس کے لیے کرکٹ زیادہ کارگرثابت ہوسکتی ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کا امیج بحال کرنا ہے تو سب سے پہلے پاکستان کے نظام عدل کو آزاد اور درست کرنا ہوگا، قانون پر بلاتفریق عمل کروانا ہوگا۔ نظام تعلیم کوآزاد اور تحقیقی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ نظام سیاست کو کرپشن اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں سے آزاد کروانا ہوگا۔ عام عوام کو زندگی کی بنیادی ضروریات بسہولت فراہم کرنا ہوں گی۔ اپنے ہسپتالوں، لیبارٹریوں، سکولوں اور یونیورسٹیوں کو دنیا کے ٹاپ کلاس ہسپتالوں، لیبارٹریوں، سکولوں اور یونیورسٹیوں کے برابر لانا ہوگا۔ ہمارے بہترین ٹیلنٹ کو استعمال کرنے کے لیے انہیں علم و تحقیق کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ بیروزگاروں کو اپنے ملک میں روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ سرکاری اداروں میں بھرتیاں رشوت اور سفارش کے بجائے معیار پر کرنا ہوں گی۔ کام چوری اور بددیانتی کرنے والے افسروں کا احتساب کرنا ہوگا۔ دنیا کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو مفادات کے بجائے پاکستان کی عزت اور سلامتی کو سامنے رکھ کر طے کرنا ہوگا۔ اخلاقیات، اصول، اقدار اور اچھی روایات کو قائم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کرنا ہوں گے۔ اپنی ثقافت، تہذیب اور روایات مخالف کاموں اور سرگرمیوں کے روکنے کے لیے ایکشن لینا ہوگا۔ تعلیم یا کرکٹ یا دیگر کھیلوں کے ذریعے جو کوئی بھی ہماری تہذیب یا اسلامی اقدار کو ہدف بنائے، اس کا قلع قمع کرنا ہوگا۔ اسلامی روایات اور اسلامی نظام کو ہرحال میں ہرادارے اور ہرگھر تک پہنچا کر اس کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ اپنی معیشت اور سیاست کو اسلام کے ماتحت کر کے آگے بڑھنا ہوگا۔ یہ وہ اقدامات ہیں جن کے ذریعے وطن عزیز کا دنیا بھر میں نہ صرف امیج بحال کروایا جا سکتا ہے، بلکہ ملک پاکستان کو امن و امان کا گہوار بنا کر دنیا کو پاکستان آنے کی دعوت بھی فخر سے دی جا سکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

میرا جسم، میری مرضی – خدیجہ افضل مبشرہ

سن 2011 میں فرانس سے شروع ہونے والی تنگ نظری کی وباء نے کل اسکینڈینیویا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *