Wednesday , November 14 2018
ہوم > کالم > بسنت کو زندہ رکھیں- عبدالقادر حسن

بسنت کو زندہ رکھیں- عبدالقادر حسن

نظام قدرت ہے کہ انسان سارا سال بہار کی تلاش میں رہتا ہے کہ دنیا بھر میں یہ موسم مختلف اوقات میں گھومتا پھرتا رہتا ہے۔ کہیں پر بہار اپنے جلوے دکھا رہی ہوتی ہے تو کہیں پر سردی اپنے جوبن پر ہوتی ہے۔ کہیں جاڑے کا موسم تو کہیں گرمیوں کے جھلسا دینے والے دن، سردیوں میں پاؤں کے نیچے جب درختوں کے سوکھے پتے ٹوٹتے ہیں تو ان کی احتجاجی آواز کانوں میں عجب محسوس ہوتی ہے۔
لیکن جب سخت سردیوں کے بعد بہار کا موسم داخل ہوتا ہے تو اس خوشگوار موسم سے نہ صرف انسان لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ درخت بھی خوبصورت رنگ و روپ دھار کر خود نمائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جاڑے کے موسم سے گزرے اشجار پر جب بہار کی آمد پر خوبصورت پھول کھلتے ہیں تو ایک عجیب ہی سماں ہوتا ہے۔ رنگ برنگ پھول اﷲ کی مدح سرائی کرتے نظر آتے ہیں اور یوں سورۃ رحمٰن کی مکمل تفسیر نظر آتی ہے۔ انسانی آنکھ جتنے رنگ دیکھتی اور دماغ جتنے محسوس کر سکتا ہے وہ بہار کا عکس ہوتے ہیں ۔ درختوں پر نئی کونپلیں پھوٹنے سے جو رنگ چڑھتا ہے اس کو دیکھنا پرُلطف ہی نہیں پرُکیف بھی ہوتا ہے۔ عمومی طور پر بہار کی آمد کا مطلب نئے موسم کا استقبال کرنا ہوتا ہے۔ گندم کے لہلہاتے کھیت ہوں یا دور تک سرسوں کے پیلے پھولوں کی بہار، موسم بدلنے کے ساتھ پرندوں کی چہکار عجیب محسوس ہو تی ہے۔
میرے جیسا کسی دور افتادہ پہاڑی گاؤں کا رہنے والا اس موسم کو کسی اور ہی رنگ میں محسوس کرتا ہے۔ ہم نے بچپن اور جوانی کے بے فکرے دن پُھلائی اور جنگلی زیتون کے درختوں کی خوشبوؤں میں گزارے ہیں۔ اس موسم میں پہاڑوں میں بسیرا کرنے والے تیتر اور چکور کی کانوں میں رس گھولتی آوازیں بہار کی آمد کا پتا دیتی ہیں۔ فضاء میں ایک عجیب سی مسحور کن خوشبو بکھری ہو تی ہے۔
بہار کا موسم ہر سال آتا اور گزر جاتا ہے لیکن ہم اب شہری زندگی کے اس قدر عاد ی ہو چکے ہیں کہ ہمیشہ اس کی آمد کا اعلان سرکاری سرپرستی میں منعقد کی گئی پھولوں کی نمائشوں سے ہوتا ہے۔ وہ دن ہوا ہوئے جب صبح صبح گاؤں میں سرسوں کے پھولوں کا گلدستہ بنا کر میراثی دادا اس کا باقاعدہ اعلان کرتے تھے اور اس بات کی توقع کہ اس خوش کن اطلاع پر ان کو نذر و نیاز بھی دی جائے گی۔
جب سے لاہور میں مقیم ہوئے تو یخ بستہ راتوں کے اختتام کی اطلاع بہار کی آمد کے ساتھ بسنت کے تہوار کی صورت میں ہوتی تھی۔ معروف الفاظ میں ’’بسنت پالا اُڑنت‘‘۔ بسنت کا تہوار لاہور ی ثقافت کا اہم حصہ تھا۔ ہر سال بہار کے آغاز میں بسنت منائی جاتی تھی لیکن برا ہو اس جدید زمانے اور اس کی نئی ایجادات کا کہ ہم بسنت سے بھی محروم ہو گئے، پہلے تو لاہوری بچے اس سیزن کے دوران جوش و خروش سے پتنگیں اڑاتے تھے اور آپس میں مقابلے بھی ہوتے تھے ان مقابلوں کے دوران ایک دوسرے پر نعرہ بازی بھی کی جاتی اور مخصوص لاہوری انداز میں جملے بھی کسے جاتے تھے جو کہ اکثر اوقات چھوٹی موٹی لڑائیوں میں بھی بدل جاتے۔ بہار کی نسبت سے مخصوص لاہوری پکوان بھی تیار کیے جاتے اور لڑکیاں بالیاں بسنتی چولے بھی بنواتیں۔
پتنگیں لوٹنے کا بھی ایک فن پایا جاتا جس کے لیے کانٹھیاں اور ڈھانگے استعمال کیے جاتے۔ اس دوران شروع میں چھتوں سے گرنے کے واقعات ہوئے جس کے نتیجہ میں کئی قیمتی جانیں ضایع ہوئیں۔ بسنت کے حوالے سے سب سے بڑا نقصان تب ہونا شروع ہوا جب ڈور بنانے اور لگانے والوں نے ایسے مٹیریل کا استعمال شروع کیا جس کی وجہ سے یہ گُڈیاں اڑانے کے بجائے قاتل ڈور میں تبدیل ہو گئیں، کئی معصوم جانوں کے گلے کٹے اور ماؤں کی گودیں اجڑیں۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جاتے لیکن الٹا بسنت جیسے خوبصورت ثقافتی تہوار پر ہی پابندی لگا دی گئی۔ یہ ایک ایسا تہوار تھا جو کہ نہ صرف لاہور میں مقبول تھا بلکہ دوسرے شہروں مین بھی جوش و خروش سے منایا جاتا تھا۔ دنیا بھر سے لوگ اس تہوار پر لاہور آتے اور خوبصورت بسنتی تہوار پر لاہور بو کاٹا کی آوازوں سے گونجتا اور مدھر بسنتی گانوں پر دھمالیں ڈالی جاتیں۔
اس ٹوٹے سلسلے کو دوبارہ سے جوڑنے کے لیے حکومتی اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایسا موقع ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کا روشن چہرہ دکھایا جا سکتا ہے اور ہم پر انتہا پسند ہونے کا جو ٹھپہ لگا دیا گیا ہے اس تاثر کو زائل کرنے میں مدد ملے گی۔ اگر ہم دنیا کو پاکستان کا روشن پہلو دکھانا چاہتے ہیں تو بجائے اس پر پابندی کے اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ قانون کی پابندی کریں، اس ضمن میں ضابطہ اخلاق وضح کرنا ہو گا اور لاہور جو کہ اپنے خوبصورت تہوار سے پچھلے کئی سال سے محروم چلا آ رہا ہے ایک بار پھر بسنتی رنگ میں رنگ جائے گا۔
پنجاب کے متحرک اور انتھک خادم اعلیٰ اس تہوار کو دوبارہ سے نئی زندگی دینے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی کاوشوں سے ہی لاہور دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں اپنا ایک مقام بنا چکا ہے اب باغوں اور فواروں کے اس دلفریب شہر کو دنیا سے روشناس کرانا وقت کی ضرورت تا کہ ہم دنیا کو یہ پیغام دے سکیں کہ ہم ایک ذمے دار اور پُرامن قوم اور اعلیٰ ثقافتی روائتوں کے امین ہیں اگر ایک کرکٹ میچ کا کامیاب انعقاد ہو سکتا ہے تو لاہور کی جگمگاہٹ کا بندوبست کیوں نہیں، پھر ایک ایسا تہوار جو لاہوریوں کے دلوں میں منایا جاتا ہے اور لاہوری سال بھر اس کا انتظار کرتے ہیں اگر اس میں کوئی خرابی در آئی ہے تو پھر اس خرابی کو دُور کریں نہ کہ اس زندہ تہوار کو ختم کر دیں جس نے جنم لینے اور عوام میں اپنی جگہ بنانے میں صدیاں گزار دیں۔ مرض کا علاج کیجیے مریض کو زندہ رکھیئے، یہ اہل لاہور پر مہربانی ہو گی۔

یہ بھی دیکھیں

آخر نوجوان موت کی وادی میں کیوں اتر رہے ہیں۔۔ تحریر:ناصر علی

دور حاضر میں جہاں بہت ساری چیزیں بدل چکی ہیں۔۔خط و خطابت کی جگہ ای …

ایک تبصرہ

  1. فصیح اللہ

    ٹھیک نقطہ نظر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *