Friday , October 19 2018
ہوم > کالم > جدید دور, جدید فتنے۔۔۔۔۔۔۔تحریر/راشدامام کھوکھر

جدید دور, جدید فتنے۔۔۔۔۔۔۔تحریر/راشدامام کھوکھر

کافی دنوں سے میرے دل میں کچھ سوال اٹھ رھے تھے جو کہ مسلم دینا میں فساد،بم دھماکے،توہین انگیز خاکے اور ممتاز قادری اور الیکٹرانک میڈیا کے متعلق تھے۔۔۔

 سب سے پہلے تو یہ کہ ہماری کتاب قرآن مجید جس میں کچھ شک نہیں،میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ کافر لوگ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے ہم نے ان سے دوستی کرلی اور پوری دنیا میں مسلمان اکثریت میں ہیں،باوجود اس کے بربریت کا شکار ہیں، دوسری بات یہ کہ وہ لوگ جو کلمہ پڑھ کرنہتے لوگوں کو مار کر” شہادت” کا رتبہ پاتے ہیں وہ کسی بھی دلیل اور جواز سے شہید کہلانے کے حق دارنہیں۔ توہین کی بات لیں تو ایک دفعہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک غلام نے آ کر آپ کو بتایا کہ فلاں شخص آپ کو گالی دے رہا تھا تو آپ نے فرمایا کہ اس نے تیر ہوامیں چھوڑا، تو نے وہی تیر میرے سینے میں گھونپ دیا۔۔

اب فیس بک پوری دنیا میں استعمال ہو رہی ہے اور کافر ہماری شان میں یا ہمارے آقاعلیہ الصلوۃ والسلام کی شان کے قصیدے کبھی نہیں پڑ ہیں گے،کیوں کہ وہ کافر ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اب ھم اسی بات کو پکڑ کر خود اپنے پاک نبی کریم ﷺکی توہین شروع کر دیتے ہیں۔۔ غازی صاحب کے بارے میں صرف یہ کہو ں کہ وہ اس وقت سلمان تاثیر کی حفاظت پر مامور تھے،محافظ کا گولی مارنا وہ بھی ایسے انسان کو جو بار بار کہہ رہا تھا کہ میری بات کا مقصد ہر گز آپ ﷺ کی توہین نہ تھا، باوجود اس کے قتل کیا گیا اور میڈیا نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور اتنے حساس معاملے کو بڑھا کر اچھالا۔۔ سلمان تاثیر قتل ہو گیا اور غازی صاحب قتل میں پھانسی ۔۔ الیکٹرانک میڈیا اپنی ریٹنگ کے چکر میں بات کا بتنگڑ بناتا گیا اور کام خراب ہوتے گئے۔

ملکی حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں،ابھی کچھ دن ایک جسٹس صاحب نے سوشل میڈیابندکرنےکاعندیہ دیا،

چلو جی ٹھیک ہے پاکستان میں بند ھو جائے گا تو باقی دنیا میں بھی بند ھو جائے گا کیا؟؟ اور کیا واقعی یہ اس مسلے کا اصل حل ھے ۔۔ حساس اداروں اور عدالت کے حرکت میں آنے پر تمام فیس بک صارفین فیس بک پر کلمے اور آقا علیہ السلام سے نسبت ظاہر کرنے پر لگا ھے جس کا مقصد خالصتا صارفین کا ذاتی تحفط ھے چاہے فیس بک اکاونٹ کے لیے یا اداروں کے سامنے صفائی کے لیے جبکہ یہ روحانیت کے معاملے میں اشتہار لگانے سے ثابت نہیں ھوتا، اللہ خوب سننے اور جاننے والا ہے ۔۔ دوستو اصل مسلہ یہ ھے کہ امت مسلمہ اس وقت شدید اور جدید فتنوں سے دوچار ھے جیسا کہ پہلی امتیں بھی رھی ھیں اور ان کی نشاندہی آقا کریم علیہ السلام 1400 سال پہلے فرما دی تھی ھمارا اصل مسلہ جہالت ھے اور جہالت کی وجہ قرآن مجید کی اصل روح سے دوری ھے یہ قرآن عالموں کے سمجھا نے سے سمجھ آئے گا نہ کہ ھر اس مولوی کے جو قرآن فقط ختم کے لیے پڑھتے ھیں ۔ ھم نے قرآن کو پڑھا ھے سمجھا نہیں ۔۔یہ وقت انتہائی سنجیدگی سے معاملات کو حل کرنے کا ھے نہ کہ جذبات سے کام لینے کا ۔۔اس وقت ملک کی سلامتی کا یہ عالم ھے کہ ھر کوئی ڈر رہا نجانے اگلے لمحے کیا ھو، ریاستی ادارے کسی بھی عدم کردہ جرم میں پکڑ لیں یا پھر کسی بم دھماکے میں مارے جائیں ۔۔ حکمران اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں ان کو جواب دینا ھے کل اللہ کے ھاں اور قوم کا ھر شخص بھی اپنی انفرادی ذمہ داری قبول کرے ۔ بےشک ھماری جانیں اللہ اور اس کے رسول کی امانت ھیں امانت اس وقت ھی دی جاتی ھے جب حکم ھو ۔ اللہ رب العزت ھم سب پر رحم فرمائے اور آسانیاں عطا فرمائے اور ھم سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔۔

 

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *