Sunday , October 21 2018
ہوم > کالم > فیس بک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر/راشدامام کھوکھر

فیس بک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر/راشدامام کھوکھر

زمین پر اکیسویں روز کا پہلا پہر تھا کہ میری ملاقات ایک نالائق انگریز طالب علم مارک زگر برگ سے ھو گئی وہ مجھے آپ بیتی سنانے لگ گیا کہنے لگا کہ۔”مجھے کئی دفعہ یونیورسٹی سے نکالا گیا لیکن میں نے پھر بھی ایک کتاب ایجاد کی ہے ،ایک ایسی کتاب جو سب کتابیں چھین لے گی جو سب شناخت چھین لے گی،،،، میں نے اسے بتایا کہ میں بھی تمہاری طرح ایک نالائق مسلم طالب علم ہوں اور کچھ علوم سیکھنا چاہتا ہوں  تو اس نے مجھے یہ کتاب”فیس بک” تحفے میں دی،، کتاب کا نام انگریزی زبان میں  تھا،میں وہ کتا ب اپنے گھر لے آیا،میں اپنے کمرے میں  وہ کتاب کھولی تو فورا کسی اور دنیا میں آ گیا یہ واقعی ایک جادو کی کتاب تھی جس میں ساری دنیا کے چہرے گھومتے پھرتے تھے۔کتاب کیا، ایک جزیرہ نما جگہ تھی ،جزیرہ بھی یوں کہ چہروں کا ایک جنگل تھا۔آہستہ آہستہ کچھ چہرے میرے گھر کی دیوار پر اُگ آئے اور جب میں خود کو دیکھتا تو کبھی کسی دیوار کے نیچے کبھی کسی دیوار کے اوپر ملتا اور کبھی کبھی کئی چہروں کے نیچے دبا ملتا۔۔جب کتاب بند کرتا تو ان چہروں کے لیے بے چین ہو جاتا جو میرے گھرمیں ایک کونےپر دوستوں کی شکل میں جمع ہوتے۔۔ میں نے چوپال اور کتابیں چھوڑ دیں اور اسی جزیرے کا ہو کے رہ گیا تھا۔۔اب حقیقت مجھے اچھی نہیں لگتی تھی مجھے ماں بہن بھائی دوست سب بدلے بدلے نظر آتے ،مجھے کچھ صاف نظر نہیں آتا تھا۔میں حقیقت کو خواب،اورخواب کو حقیقت سمجھنے لگ گیا۔۔ایک دن اسی کتاب میں میری موت ہو گئی اور میں جاگ گیا ۔۔ آنکھ کھلتے ہی میں نے اپنے ارد گرد چہروں کو چھونے کی کوشش کی اور میرے ہاتھ خالی رہ گئے ۔۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *