Sunday , August 19 2018
ہوم > کالم > دھرنا دھر رگڑا اور حلقے کے انتخابات- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

دھرنا دھر رگڑا اور حلقے کے انتخابات- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

اگر دھرنے کے وقت عمران خاں جاوید ہاشمی کی بات مان لیتا تو پی ٹی آئی 70ءکی پیپلز پارٹی کی طرح مقبول ہوتی۔ شیخ رشید عمراج خان کے کان میں کچھ کھسر پھسر کرتا تو وہ دھرنے کو دھر رگڑا بنانے پر تل جاتا۔ جاوید ہاشمی نے اسے کہا کہ دھیرے دھیرے چلو پہلے کچھ دنوں میں نواز شریف کچھ گھبرائے۔ پھر ان کی گھبراہٹ دور ہو گئی۔ شیخ رشید نواز شریف کو جانتے ہیں مگر عمران خان شیخ رشید کو نہیں جانتے۔ ھ۔ شاہ محمود قریشی کو جانتے ہیں۔ شاہ محمود زرداری صاحب کے وزیر رہے ہیں۔ زرداری صاحب بہت گہرے سیاستدان ہیں۔ وہ شاہ محمود کو جان گئے ہیں۔ شاہ محمود کو شریف برادران والی مسلم لیگ پسند ہے۔ مگر وہاں جاتے جاتے وہ تحریک انصاف میں آ گئے۔ نجانے نواز شریف کے ساتھ کیا مکالمہ ہوا۔ اس واقعے پر کچھ چہ مگوئیاں بھی ہوئیں۔
اب ان کو یقین ہے کہ وہ عمران خان کا وزیر بن جائےں گے۔ ویسے یہاں بھی گڑبڑ کا شدید امکان ہے۔ چودھری سرور وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے لئے تحریک انصاف میں گئے۔ وہ جس مقصد کے لئے گورنر پنجاب بنے تھے وہ پورا نہ ہوا۔ اور پتہ چلا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب بننا پڑے گا؟ مگر پھر بھی شہباز شریف نہ بن پائیں گے۔ یہاں علیم خان کا مقابلہ پہلے کرنا ہو گا۔ علیم خان کی نظر بھی وزارت اعلیٰ پنجاب پر ہے۔
تحریک انصاف نے ایک اہم شخص کو گنوا دیا جاوید ہاشمی نواز شریف کی جمہوری آمریت کو برداشت نہ کر سکا تو وہ عمران خان کی آمرانہ جمہوریت کو کس طرح برداشت کرتا۔ اگر ہاشمی کے پاس کلثوم نواز چلی گئی ہوتیں تو وہ کبھی مسلم لیگ نہ چھوڑتے۔ کلثوم نواز نے نواز شریف کے لئے تحریک چلائی تھی اور حیران کر دیا تھا تو وہ یہ سیاسی تکلف بھی کر لیتی اور جاوید ہاشمی کو بچا لیتیں۔
بظاہر نوازشریف کو تو کوئی نقصان نہ ہوا اور عمران خان کو بھی نہ ہوا۔ جاوید ہاشمی کو نقصان ہوا کہ وہ ممبر قومی اسمبلی کے طور پر دوسری دفعہ شکست کھا گئے۔ جاوید ہاشمی کو استعفیٰ نہیں دینا چاہئے تھا۔ انہوں نے کس حیثیت سے استعفیٰ دیا؟ اس کے بعد دوبارہ اپنی سیٹ پر الیکشن نہیں لڑنا چاہئے تھا تو وہ اس کی سیٹ تصور کی جاتی۔
حیرت ہے کہ شاہ محمود قریشی سیاسی طور پر ”کامیاب“ ہونے کے باوجود ابھی تک لیڈر نہیں بن سکے۔ جبکہ وہ تحریک انصاف میں عمران خان کے بعد نمبر دو ہےں۔ تحریک انصاف میں نمبر دو سیاستدانوں کی کثرت ہے۔ جہانگیر ترین بھی عمران کے نمبر دو ہےں۔ مسلم لیگ میں نواز شریف اور شہباز شریف کے الگ الگ نمبر دو ہیں۔ اس طرح نمبر دو کا تصور ذرا مشکل ہو گیا ہے۔ تقریباً یہی حال چودھری برادران کا ہے۔ جہاں تک شیخ رشید کا تعلق ہے وہ نمبر ون بھی خود ہےں اور نمبر دو بھی خود بلکہ خود بخود ہےں۔
حلقہ ارباب ذوق کے الیکشن ہوئے۔ ووٹ ڈالنے کے لئے 175 لوگ آئے۔ بڑی رونق تھی مگر پریشانی یہ ہے کہ کبھی حلقے کے کسی اجلاس میں اس سے ایک تہائی لوگ بھی نہیں آتے بلکہ ایک چوتھائی لوگ بھی نہیں آتے۔ ایوان اقبال میں الیکشن ہو رہے تھے اور پاک ٹی ہاﺅس میں ایک حلقے کا اجلاس ہو رہا تھا۔ یہ امجد طفیل کا حلقہ تھا۔ مگر وہ اجلاس کے فوراً بعد مجھے ساتھ لے کے ایوان اقبال کے لئے چل پڑے۔ یہاں دوسرے حلقے کے سیکرٹری حسین مجروح بھی تھے۔
جب الیکشن کے نتائج کا اعلان ہوا تو دونوں سیکرٹری امجد طفیل اور حسین مجروح الیکشن کمشنر اشرف جاوید کے ساتھ کھڑے تھے۔ چند دن پہلے حلقہ ایک ہو چکا ہے۔ نتائج کے مطابق غلام حسین ساجد نے 165ووٹ لئے اور علی نواز شاہ نے 10 ووٹ لئے۔ علی نواز شاہ نے بائیکاٹ کر دیا تھا۔ فرحت عباس شاہ اور علی نواز شاہ ایوان اقبال میں نظر نہ آئے۔ وہ ٹی ہاﺅس میں بھی نظر نہ آئے۔ کچھ لوگ بہت پریشان تھے کہ بائیکاٹ کے باوجود کچھ لوگوں نے علی نواز شاہ کو ووٹ دے دیا تھا۔ یہ بھی اس کی دوستوں میں مقبولیت کی نشانی ہے۔ سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق غلام حسین ساجد نے کہا کہ حلقے کے اجلاس پاک ٹی ہاﺅس میں ہوں گے۔ پاک ٹی ہاﺅس والا حلقہ ہی حلقہ ارباب ذوق ہے۔ میں بھی ایک زمانے میں سیکرٹری حلقہ ہوا تھا مگر میں بلامقابلہ سیکرٹری حلقہ تھا۔
اب پیلاک قذافی سٹیڈیم بھی ایک ادبی مرکز کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔ یہاں پنجابی سنگت کے ہفتہ وار اجلاس ہوتے ہیں۔ جبکہ دوسری پنجابی ادبی سنگت کے اجلاس چوپال میں ہوتے ہیں۔ میں نے پنجابی سنگت کا الیکشن قذافی سٹیڈیم میں دیکھا حلقے اور سنگت کے انتخابات میں کچھ فرق نہ تھا۔ اب پنجابی سنگت کے متحد ہونے کی بات بھی کرنا چاہئے اور اس حوالے سے آسیہ اکبر ایڈووکیٹ کوئی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایوان اقبال قذافی سٹیڈیم اور ناصر باغ میں ادبی مرکز کونسا ہے؟

یہ بھی دیکھیں

میرا جسم، میری مرضی – خدیجہ افضل مبشرہ

سن 2011 میں فرانس سے شروع ہونے والی تنگ نظری کی وباء نے کل اسکینڈینیویا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *