ہوم > کالم > اقدار کی سیاست- سلیم صافی

اقدار کی سیاست- سلیم صافی

جاوید لطیف صاحب کی بیہودہ حرکت پر میاں نوازشریف کی خاموشی شرمناک تو مریم نوازبی بی کی افسوس ناک ہے۔ حیرت ہے کہ ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی انہیں نہ پارٹی سے نکالا گیا اور نہ اسمبلی سے۔ اس سے بھی دردناک اور افسوسناک یہ امر ہے کہ گزشتہ روزایک لمبے عرصے کے بعد خواتین اراکین اسمبلی کی ایک تقریب سے مریم نواز صاحبہ نمودار ہوئیں۔ وہاں انہوں نے خواتین اور خواتین اراکین پارلیمنٹ کے کردار پر تقریر کی لیکن اس تقریب میں بھی انہوں نے جاوید لطیف کی مذمت میں کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالا۔ میرے نزدیک اس معاملے پر خاموش رہ کر میاں نوازشریف پاکستانی معاشرے اور خود اپنی صاحبزادی کے ساتھ ظلم کے مرتکب ہورہے ہیں۔ خود مریم نوازصاحبہ اپنے ساتھ ظلم یوں کررہی ہیں کہ وہ مستقبل میں سیاست میں مزید متحرک ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں اور اگر ہماری سیاست میں اسی طرح مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کا تذکرہ ہونے لگا جس طرح کہ جاوید لطیف نے کیا ہے تو سیاست مکمل طور پر غلاظت بن کررہی سہی اقدار سے بھی محروم ہوجائے گی۔ اگر مراد سعید کی بہنوں جیسی عزت دار، پردہ دار اور گھر میں بیٹی خواتین کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال ہونے لگیں تو اندازہ لگا لیجئے کہ پھرسیاست میں متحرک مریم نواز اور بختاور وغیرہ جیسی خواتین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔
یقیناً پہل مراد سعید نے کی ہے اور اس میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ غصے میں آکر عقل معطل ہوجاتی ہے لیکن جو بندہ غصے پر قابو نہیں پاسکتا وہ سیاست کے میدان میں آتا کیوں ہے؟ جو لوگ سیاست کے میدان میں آکر اپنے آپ کو قوم کی قیادت کے لئے پیش کرتے ہیں وہ اس دعوے کے ساتھ آتے ہیں کہ وہ دوسروں کی خاطر اپنے جذبات اور مفاد کی قربانی دیں گے۔ قائداعظم، باچا خان، مولانا مودودی، نیلسن مینڈیلا جیسے حقیقی سیاستدان اپنے جذبات پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ قوم کے جذبات کو بھی کنٹرول کرتے تھے جبکہ موجودہ دور کے پاکستانی سیاستدان کا کام قوم کے جذبات سے کھیلنا ہے۔ اب جو بندہ اپنے جذبات کو کنٹرول نہیں کرسکتا تو پھر وہ سیاست کے میدان میں آتا کیوں ہے؟ اس میدان سے نکل کر وہ پھر ہماری طرح مزدوری کرے یا کسی اور میدان میں طبع آزمائی کرتا پھرے۔
جاوید لطیف کا جرم جس طرح ناقابل بیان ہے، اس قدر ناقابل معافی بھی ہے۔ انہوں نے اگر کوئی ردعمل دکھانا بھی تھا تو اس کا رخ مراد سعید یا پھر ان کے لیڈر کی طرف ہونا چاہئے تھا، نہ کہ ان کے گھر کی شریف اور پردہ دار خواتین کی طرف۔ مراد سعید کے رویے اور اخلاق میں اگر کوئی خرابی آئی ہے تو گھر کی وجہ سے نہیں ان کی جماعت اور اس کے لیڈر کی وجہ سے آئی ہے۔ ان کے والد ایک شریف انسان ہیں۔ ان کا گھرانہ ایک دینی گھرانہ ہے اوراسی لئے اسکول اور کالج کی تعلیم کے ساتھ ساتھ والدین نے انہیں حفظ قرآن کے لئے مدرسے میں بھی داخل کرایا تھا۔ الیکشن سے قبل وہ کئی پاروں کے حافظ بھی تھے۔ خواتین تو کیا کبھی ان کے والد نے بھی ماضی میں سیاست سے سروکار نہیں رکھا۔ ان کی ماں اور بہنیں کبھی گھر سے نکلیں اور نہ کبھی سیاسی میدان میں نظر آئیں۔ وہ ویسی ہی حیا دار اور پردہ دار ہیں جیسی کسی بھی پختون اور پاکستانی پردہ دار گھر کی خواتین ہوسکتی ہیں۔ نہ کبھی دھرنوں میں نظر آئیں اور نہ کسی جلسے جلوس میں۔ مراد سعید کی سیاست اور رویے سے ہزار اختلاف کے باوجود ان کی ماں اور بہن کی عزت کو میں اسی طرح محترم سمجھتا ہوں جس طرح کہ اپنی سگی ماں اورسگی بہن کی عزت کو سمجھتا ہوں۔ اب ان کو سیاست اور پھر اس گندی سیاست میں اس گندی زبان کے ساتھ گھسیٹنے کا کیا جواز؟ تبھی تو میں کہتا ہوں کہ ان کے اور مراد سعید کے جرم کا کوئی موازنہ نہیں۔ تبھی تومیں کہتا ہوں کہ جاوید لطیف کا جرم ناقابل معافی اور ناقابل تلافی ہے اور تبھی تو میں کہتا ہوں کہ اگر میاں نوازشریف اور مریم نوازشریف نے جاوید لطیف کو پارلیمنٹ اور پارٹی صفوں سے نہ نکالا تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ہم تو لیڈر نہیں بلکہ میدان صحافت کے مزدور ہیں۔ ہمارا تو توجہ دلانے اور تنقید وتحسین کے سوا کوئی اور بس نہیں چلتا لیکن محترم طلعت حسین صاحب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے میرے ٹی وی پروگرام ’’جرگہ‘‘ کی ٹیم نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم جاوید لطیف صاحب کو کبھی بھی اپنے پروگرام میں نہیں بلائیں گے۔
میں پہلے بھی یہ واقعہ ایک بار عرض کر چکا ہوں کہ مسلم لیگ (ق) کے ایک رہنما کو عرفان صدیقی صاحب مسلم لیگ (ن) میں شامل کروارہے تھے لیکن میاں نوازشریف یہ کہہ کر اگر مگر سے کام لے رہے تھے کہ وہ رہنما پرویز مشرف کے بہت قریب رہے ہیں۔ اس پر عرفان صدیقی صاحب نے ان سے کہا کہ میاں صاحب ! ماروی میمن وغیرہ کو پارٹی میں شامل کرنے کے بعد آپ کی مبارک ذات اس طرح کے تکلفات سے مبرا ہوچکی ہے۔ میرے نزدیک پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنے لوگوں کو اخلاقیات اور اقدار جیسی تکلفات سے مبرا کردیا ہے۔ اس قیادت نے تبدیلی کی بات کی تھی اور وہ تبدیلی وہ یوں لے آئے کہ سیاست اور صحافت سے اخلاقیات رخصت ہوگئیں۔ آج عمران خان کے کارندے المعروف ترجمان نعیم الحق نے میرے گزشتہ کالم کے ردعمل میں میرے بارے میں جو بکواس لکھی ہے اور جس طرح مجھ پر غداری کے الزام سمیت کئی بیہودہ الزامات لگائے ہیں، اس کے جواب میں اگر میں ان کو آئینہ دکھادوں تو اللہ کی قسم کہ ان کا جاوید لطیف سے برا حشر ہوگا۔ انہوں نے گالم گلوچ پر مبنی اس پوسٹ میں مجھ پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ میں ریحام خان کو پی ایس ایل کا فائنل دکھانے لے گیا تھا حالانکہ ریحام خان زندہ ہیں اور بتا سکتی ہیں کہ میری اور ان کی گزشتہ دو ماہ میں ملاقات یا ٹیلی فون پر بات تک نہیں ہوئی۔اسٹیڈیم میں ان کو میں نے دیکھا اور نہ جاوید آفریدی نے۔ لیکن نعیم الحق صاحب نے ایک خاتون اور وہ بھی عمران خان کی سابقہ عزت کے بارے میں یہ بکواس کی ہے۔ اب اگر میں ریحام خان کی شادی اور طلاق کے معاملات میں نعیم الحق کے کردار سے متعلق زبان کھول دوں یا پھر ریحام خان اپنی کتاب کا ایک باب اس کے لئے مختص کردیںتو لوگ جاوید لطیف کو بھو ل جائیں گے۔ لیکن نہ میں ایسا کروں گا اور نہ ریحام خان ایسا کریںگی۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہم نہ جاوید لطیف ہیں اور نہ نعیم الحق۔ میں گناہ گار جاوید لطیف اور نعیم الحق سے زیادہ ہوںگالیکن ہماری کچھ اقدار ہیں۔ ہمیں اپنی عزت پیاری ہے، اس لئے دوسروں کی عزتوں کا بھی خیال رکھتے ہیں۔مراد سعید، شبلی فراز،ریحام خان جہانگیر ترین اور عون چوہدری جانتے ہیں کہ دھرنوں کے دنوں میں جب ہمارے چینل میں ایک خبر کے ذریعے عمران خان کی ذاتی زندگی سے متعلق سوال اٹھائے گئے تو میں نے جیو کی انتظامیہ سے احتجاج کیااور استعفے کی دھمکی دی۔ میں اس تناظر میں مراد سعید کی بجائے جاوید لطیف کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں کیونکہ انتخابات سے قبل مراد سعید کی قیادت نے نہیں بلکہ میاں نوازشریف نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار کی نہیں بلکہ اقدار کی سیاست کریں گے۔ خان صاحب نے تبدیلی کا وعدہ کیا تھا اور سیاست و صحافت میں وہ تبدیلی بدرجہ اتم لے آئے۔ سوال یہ ہے کہ میاں نوازشریف کیوں اقدار کی سیاست کا وہ وعدہ بھول گئے۔ کیا یہ وہ اقدار والی سیاست ہے جس کا مظاہرہ جاوید لطیف صاحب نے کیا ہے؟ کیا اقتدار میں آنے کے بعد میاں صاحب وہ اقدار کی باتیں بھول گئے او راب انہیں صرف اقتدار یاد ہے؟ یہ معاملہ اتنا سنگین ہے کہ اگر مگر سے کام نہیں چلے گا۔ وزیراعظم کے پاس دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ جاوید لطیف کو سنگین سز ادے کر نمونہ عبرت بنا دیں اور دوسرا یہ کہ اسی طرح خاموش رہ کر پاکستانی سیاست کو اس طرف جانے دیں کہ جس میں کل مریم نواز بی بی کے لئے سیاست ناممکن بن جائے۔ اگر میں عرفان صدیقی صاحب کے الفاظ مستعار لوں تو یہ سوال اٹھا سکتا ہوں کہ میاں صاحب! اقتدار میں آنے کے بعد کیا آپ کی سیاست اقدار جیسی تکلفات سے مبرا ہوگئی ہے؟ اگر نہیں تو پھر آپ اور آپ کی صاحبزادی جاوید لطیف کے معاملے میں خاموش کیوں ہیں؟

یہ بھی دیکھیں

کشمیر اب ہماری ترجیح نہیں رہا – بلال شوکت آزاد

کشمیر اب ہماری ترجیح نہیں رہا لیکن کشمیریوں کی اول آخر ترجیح پاکستان ہی ہے۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *