ہوم > کالم > میرا رانجھن ہن کوئی ہور – سید قاسم علی شاہ

میرا رانجھن ہن کوئی ہور – سید قاسم علی شاہ

رانجھے کا مطلب وہ ذات جس کے لیے اپنا وقت اور اپنے وسائل لگائے جائیں۔ حضرت بابا بلھےشاہ ؒ کے مطابق رانجھا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، آپؒ فرماتے ہیں
بلھے شاہ اسی مرنا ناہیں
گور پیا کوئی ہور
آپ ؒ کوسمجھ آ گئی تھی کہ جسم کی زندگی زندگی نہیں ہے، بلکہ افکار کی زندگی ہے. کسی نے اپنے مرشد سے سوال کیا کہ سیانا (عقلمند) کون ہوتا ہے؟ جواب ملا کہ ’’جو مر کے بھی نہ مرے۔‘‘ میرا رانجھن ہن کوئی ہور کا مطلب ہے کہ میں جس کو خدا سمجھ بیٹھا تھا، اصل میں وہ خدا نہیں ہے، اصل خدا تو کوئی اور ہے. وہ چیزیں جن کو میں نے وقعت دی تھی، جن کو مجسم خدا بنایا ہوا تھا، وہ تو خدا ہونے کے لائق نہ تھیں، میں نے جن کو ترجیح اول رکھا ہوا تھا، وہ ترجیح اول کے قابل ہی نہ تھیں۔ زندگی کے مختلف ادوار ہیں، ایک وقت وہ ہوتا ہے جب کھلونے ترجیح اول ہوتے ہیں، وقت گزرتا ہے تو شعور آنا شروع ہو جاتا ہے، شعور کے ساتھ نئی خواہشیں جنم لیتی ہیں، اور ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔ پختہ شعور وہ ہوتا ہے جو صحیح وقت پر صحیح چیز کا انتخاب کر سکے۔ انتخاب کا عمل ساری زندگی جاری رہتا ہے، خواہ بچپن ہو، جوانی یا بڑھاپا، یہ انتخاب بتاتا ہے کہ شعور کتنا پختہ ہے۔ اہم چیز یہ نہیں ہوتی کہ عمر کتنی ہے بلکہ اہم چیز یہ ہوتی ہے کہ جس عمر میں ترجیحات کا صحیح تعین ہونا چاہیے، کیا اس عمر میں صحیح تعین ہوا؟

بچپن کی کچھ چیزوں کو ضرور زندہ رہنا چاہیے جیسے بچپن کی معافی، بچپن کی مصومیت، باباجی اشفاق احمد ؒ فرماتے ہیں ’’ کبھی اپنے اندر کا وہ بچہ نہ مارو جو سیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔‘‘ سوال کی موت نہیں ہونی چاہیے، سوال زندہ رہنا چاہیے، جو بندہ سوال کرتا ہے وہ خوش قسمت ہے۔ جس کے پاس سوال ہے، اس کے پاس سوچ ہے۔ جب ہم بچپن میں کسی چیز کا انتخاب کرتے ہیں تو اس کے پیچھے عقل کسی اور کی ہوتی ہے، وہ عقل فیصلہ کرتی ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ اصل میں اس عقل کو سلام ہے۔ حافظے کو اور زبان کو سلام نہیں ہے بلکہ سلام عقل کو ہے۔ آج کوئی بھی شخص سقراط کی زبان کو نہیں جانتا لیکن سقراط کے جملوں کو سلام ہوتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ اس شعور کو، اس عقل کو اور اس فکر کو سلام ہے۔ کئی سو سال گزر جانے کے باوجود بھی اگر کسی کے جملے زندہ ہیں تو وہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اس نےصحیح عمر اور صحیح وقت پر اپنی عقل، سمجھ، فہم اور اپنی دانش کو استعمال کیا۔ اس نے کہا کہ جتنا مرنے والا سانس کے لیے پیاسا ہوتا ہے، علم کے لیے میری پیاس بھی اتنی ہے۔ انسان زندگی میں اتنی مار اپنی لاعلمی کی وجہ سے نہیں کھاتا جتنی مار ترجیحات طے نہ کرنے کی وجہ سےکھاتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت اپنی عمر کا بہت بڑا حصہ ترجیحات کے بغیر گزار دیتی ہے، جب وہ ترجیحات کی طرف آتے ہیں، اس وقت عمرگزر چکی ہوتی ہے۔ ایک عمر ہوتی ہے کہ جب رسک لینے کی طاقت ہوتی ہے، جب نقصان برداشت کیا جا سکتا ہے، لیکن پھر عمر کا وہ حصہ آ جاتا ہے جہاں پہ نہ تو رسک لینے کی ہمت ہوتی ہے اور نہ ہی نقصان برداشت کیا جاسکتا ہے۔ انسان بڑا ہوجاتا ہے لیکن اس کا شعور بڑا نہیں ہوتا ہے، بڑی بات یہ ہوتی ہے کہ عمر کے ساتھ انسان کا شعور بھی بڑھے، فہم کی انتہا یہ ہے کہ اس کی سوچ، اس کے افکار زندگی سے آگے چلے جائیں۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ ’’میں نے اپنی نبی ﷺ کا ذکر بلند کر دیا۔‘‘ جس طرح قرآن پاک جیسی کوئی آیت نہیں بنا سکتا اسی طرح جو حضوراکرمﷺ نے فرما دیا کوئی شخص ایسا کہہ نہیں سکتا کیونکہ آپﷺ کی حکمت و دانش کا وہ معیار ہے کہ کائنات میں ایسا کسی کا میعار نہیں ہے۔ حضرت بابا بلھےشاہ ؒ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو پوجا کے لائق سمجھنا ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو سمجھیں، اگر تم کسی اور کو اس جگہ پر رکھوگے تو بھیک ملےگی جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات سےبھیک نہیں ملتی، اس کا فضل ملتا ہے، اور وہ فضل اپنی شان کے مطابق عطا کرتا ہے۔ جس کے لیے تگ دو کی جاسکتی ہے، جس کے لیے اپنے آپ کو مارا جا سکتا ہے، جس کے لیے اپنی خواہشوں کا گلا گھونٹا جا سکتا ہے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ بعض لوگ اپنے اقتدار کے لیے خاندان کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ جو اقتدار کے بجائے اقتدار دینے والے سے رابطہ رکھے، وہی بڑا انسان ہوتا ہے۔ ترجیحات کا سب سے بہترین وہ وقت ہوتا ہے جب انسان بے بس ہوتا ہے، کیونکہ اس وقت وہ اپنی خواہشوں کے بتوں کو توڑ کر اللہ تعالیٰ سے تعلق بنا لیتا ہے۔ ملکہ سبا کے دربار میں جب ہد ہد خط لے کر آیا تو ملکہ نے کہا کہ ہمیں بادشاہ کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑیں گے کیونکہ وہ بہت طاقتور ہے، درباری کہنے لگے کہ آپ کیوں ڈر رہی ہیں، ہمارے پاس فوج ہے، ملکہ نے جواب دیا کہ ذرا سوچو جو ہد ہد کے ذریعے خط بھیج سکتا ہے، اس کے پاس کتنی طاقت ہوگی؟ حضر ت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دستور ہے کہ جب وہ کسی کے دل میں سماتا ہے تو پھر خواہشوں کے بتوں کو توڑنا پڑتا ہے۔ ہم نے اپنی خواہشوں کے بتوں کواتنا بڑا کیا ہوتا ہے کہ وہ ذات ہماری ترجیحات میں پہلے نمبر پر نہیں ہوتی۔

حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں ’’غم ولی بنانے کا ایمرجنسی کمیشن ہے‘‘ جو بندہ غم کو قبول کر لیتا ہے وہ عام نہیں رہتا، وہ ولی بن جاتا ہے، قدرت اس کے اندر وسعت پیدا کر دیتی ہے۔ لیلیٰ لنگر بانٹ رہی تھی، لوگ قطار میں لگے ہوئے تھے، ان میں مجنوں بھی تھا، جب مجنوں کی باری آئی تو اس نے مجنوں کا کاسہ توڑ دیا، مجنوں بڑا خوش ہوا، لوگوں نے کہا کہ تمہیں لنگر بھی نہیں ملا، اور اوپر سے تمہارا کاسہ بھی توڑ دیا، مجنوں نےجواب دیا ’’میرا ہی توڑا ہے نا، کسی اور کا تو نہیں توڑا، وہ مجھےکاسے کے ساتھ نہیں دیکھنا چاہتی، وہ مجھے بغیر کاسے کے دیکھنا چاہتی ہے۔‘‘ ہم گاڑی پارک کرنے کے حوالے سے کبھی غلطی نہیں کرتے، مطلوبہ جگہ پر پارک کرتے ہیں، غور کریں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کو کہاں پر رکھتے ہیں، جس ذات گرامی کو سب سے پہلے رکھنا چاہیے، اسے ہم نے آخر پہ رکھا ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ ہمارے درجے بلند کرتا ہے، وہ کبھی کسی کے ہاتھ سے نیکی کروا دیتا ہے اور کبھی فیصلےکرنے والا بنا دیتا ہے۔ جب لاشعوری طور پر منہ سے اللہ تعالیٰ کی ذات کی تعریف ہو جائے تو سمجھیں، وہ وقت ولی بننے کا وقت ہے۔ جب تک غم رہتا ہے، اس وقت تک چوائس رہتی ہے کہ بندہ صحیح راستے پر آجائے، اگر زندگی میں غم اور صحیح راستہ مل گیا تو یہ نعمت ہے۔ لوگوں کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو مرچکی ہے صرف دفنانا باقی ہے، کیونکہ وہ ناامیدی کا شکار ہیں۔ جو بندہ ناامید ہوتا ہے، وہ بہت خطرناک ہوتا ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اکیلا مایوس نہیں ہوتا بلکہ معاشرے میں ناامیدی پھیلانے کا باعث بھی بنتا ہے۔ مایوس شخص سےتعلق نہیں رکھنا چاہیے، خاص کر ایسے شخص سے جو مایوسی چھوڑنا نہیں چاہتا۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو چھوٹے چھوٹےغموں کو مایوسی میں بدلتے ہیں، وہ کام بھی کرتے ہیں، اور مایوس بھی ہوتے ہیں جبکہ بعض لوگ مشکلات کا بھی سامنا کرتے ہیں اور پرامید بھی ہوتے ہیں، بڑا انسان وہ ہوتا ہے جو مشکل کو بھی آسانی میں بدل دے۔

جیسے ہی قدرت انعام کرتی ہے، ساتھ ہی امتحان شروع ہو جاتا ہے، اور امتحان ہمت کے حساب سے ہوتا ہے، یہ امتحان اس لیے ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے آپ کا پتا چلے۔ خوش بختی یہ ہوتی ہے کہ جیسے ہی اللہ تعالیٰ کا ساتھ ملے، ساتھ ہی استقامت مل جائے۔ شعور کی عمر کے پیمانے بھی بڑے عجیب ہوتے ہیں، اس میں سترہ برس کا محمد بن قاسم ؒ مل جاتا ہے اور بڑی عمر کا ابوجہل بھی۔ شعور کی عمرکا مطلب وزن کرنا آجائے۔ انسان انجان نہیں ہوتا، اس کا رویہ انجان ہوتا ہے۔ ترجیحات کا جسمانی عمر کے ساتھ تعلق نہیں ہے، اس کا تعلق شعور کی عمر کے ساتھ ہے۔ اس سے بڑی عقل مندی اور کیا ہوسکتی ہے کہ بندے کو یہ پتا لگ جائےکہ یہ باتیں بڑی علم و حکمت والی ہیں، مجھے ان پر عمل کرنا چاہیے۔ اگر کسی کے ساتھ ایسا ہے تو اس کا مطلب ہے، اسے خود شناسی کا پتا لگ گیا ہے۔ عظمت کے ساتھ واقفیت کا مطلب ہےکہ آپ میں آدھی عظمت موجود ہے، جب آدھی عظمت موجود ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پھر آپ عام انسان نہیں ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

وئیر یو وانٹ ٹو گو۔۔؟؟؟۔۔تحریر:۔مناظرعلی

حجاب میں وہ خوبصورت لگتی ہے تواس میں اس کابھلاکیاقصورہے؟اسے معلوم ہے کہ عورت اپنے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *