Sunday , October 21 2018
ہوم > کالم > محبت میں مرے جاتے ہیں اور ”امید نو“ ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

محبت میں مرے جاتے ہیں اور ”امید نو“ ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

سندھ صوفیوں اور بزرگوںکی دھرتی ہے یہ بات ”صدر“ آصف زرداری نے کہی ہے۔ سندھ میں پنجاب بھی آتا ہے۔ عربی روایت میں ہند اور سندھ کا ذکر آتا ہے چین کا ذکر بھی آتا ہے۔
حیرت ہے کہ بھارتی پنجاب میں ایک بھی صوفی نہیں ہے۔ سارے صوفی تمام بزرگ بابا فرید بابا بلھے شاہ سلطان باہو شاہ حسین وارث شاہ، خواجہ فرید ہمارے پنجاب میں ہیں یہ صوفی شاعر بھی تھے….
جہڑیاں تھانواں صوفیاں جا کے لیاں مل
اوہ اوہناں دے زور دی تاب نہ سکیاں جھل
بھارتی پنجاب میں صرف بابا گورونانک ہیں جسے سکھوں نے صرف اپنا بنا لیا ہے ورنہ بابا گورونانک کی قبر ہمارے پاس ہے
میں خاص طور پر بابا گرونانک کی قبر پر گیا تھا۔ شکر گڑھ سے کچھ پہلے دریائے راوی کے کنارے اب شکر گڑھ سے مجھے پروفیسر ثوبیہ کی طرف سے دعوت ہے۔ میں اب گیا تو کچھ زیادہ وقت وہاں گزاروں گا۔ دریائے راوی کے بہتے ہوئے پانیوں میں سرحد ہے۔ یہ سرحد پار کرنے کیلئے تیرنا آنا چاہئیے۔
سردار صاحبان رات کے کسی پڑاﺅ میں تیر کر آتے ہیں۔ اپنے مہاگرو بابا گرو نانک کی قبر پر حاضری لگواتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔ بابا جی کی دو قبریں ہیں۔ ایک ارتھی ہے وہ بھی قبر ہے۔ بابا جی کو جلایا گیا تو راکھ اور ہڈیوں کیلئے بھی قبر بنانا پڑی۔ دوسری باقاعدہ قبر ہے مگر یہ معلوم نہیں کہ وہاں کیا ہے۔
بابا جی کے مرنے کے بعد مسلمانوں اور ہندوﺅں میں جھگڑا ہو گیا تھا۔ دونوں بابا جی کو اپنے اپنے طریقے سے اگلے جہان بھیجنا چاہتے تھے۔ وہ جو باقاعدہ قبر ہے۔ اصل کمرے کے باہر موجود ہے۔ اصل کمرے میں مزار کی شکل بن گئی ہے۔ وہاں پھل بھی تھے اور خوبصورت چادر بھی تھی۔ مگر وہاں میرا دل نہیں لگا۔ میں اجڑی ہوئی ویران سی قبر کے پاس بیٹھ گیا اور اپنی وابستگی اور عقیدت بابا جی کی نذر کی۔ مجھے علامہ اقبال یاد آیا ایک نظم میں اقبال نے بابا جی کو خراج تحسین پیش کیا۔
پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے
ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے
معروف ادیبہ نگہت اکرم نے مجھے اپنا ادبی رسالہ ”امید نو“ دیا۔ ہر دفعہ نئی امیدوں کے ساتھ نگہت اکرم یہ رسالہ لاتی ہیں۔ تازہ ”امید نو“ سے میری دلچسپی میں اضافہ ہوا کہ اس کے سرورق پر شاہدہ دلاور شاہ کی تصویر ہے۔ شاہدہ نئے ولولوں کی شاعرہ ہیں۔ وہ ایک تخلیقی شخصیت ہیں۔ مقامی کالج میں پروفیسر ہیں۔ بہت اچھے کالم بھی لکھتی ہیں۔
مجھے لگتا ہے کہ ادبی دنیا میں شاعری کا ذکر رہ جائے گا یا کالم کا ذکر ہو گا۔ ایک زمانہ تھا کہ سفرنامہ تو لوگوں نے ادبی صنف سخن نہیں مانا تھا جب کئی کتابیں صرف سفرناموں پر مشتمل شائع ہونے لگیں تو پھر سفرنامہ بھی ادب میں شامل ہو گیا۔
مستنصر حسین تارڑ کی رعونت بڑی بری لگتی ہے۔ کبھی کبھی وہ خواہ مخواہ دوستوں کو ناراض کرتا۔ مگر رعونت کے ساتھ ساتھ ایک رعنائی بھی اس کے پاس ہے۔ اس نے خوب سفرنامے لکھے، لیکن اس کے ساتھ مستنصر کے افسانوں نے بھی ایک خاص توجہ حاصل کی۔
کچھ لوگ صرف اپنے کالموں پر مشتمل کتابیں چھاپ چھاپ کر مزاح نکار بن گئے ہیں۔ مگر ایک حیثیت ان کی ہے کہ انہوں نے کالم نگاری کو سالم نگاری بنا دیا ہے۔ اس حوالے سے نوائے وقت کی بڑی کنٹری بیوشن ہے۔ عرفان صدیقی نوائے وقت کی طرف سے کالم نگار بنے ہیں اب وہ وفاقی حکومت کے نمائندے ہیں۔ مگر میری گزارش ہے کہ وہ کبھی کبھی کالم لکھا کریں۔ جو کچھ وہ ہیں اپنے کالموں کی بدولت ہیں۔
عمرانہ مشتاق شاعرہ ہیں مگر وہ ادبی سرگرمیوں میں بھی دلچسپی لیتی ہیں ادبی لوگوں کے ساتھ رابطے میں ان کا لہوری ناشتہ بڑا معروف ہوا ہے۔ میں تو یہ ناشتہ کبھی نہیں کر سکا مگر ان کی طرف دعوت سے قائم ہے۔
عمرانہ نے ایک تقریب کی۔ سید صغیر صفی کی کتاب میرے لئے لائیں۔ میں نے سوچا کہ تقریب پذیرائی ہو گی مگر ان کے داماد نے تعاری مضمون پڑھا اور پھر جا کر اپنی اہلیہ کے پاس بیٹھ گیا اور عمرانہ نے مشاعرہ شروع کر دیا میری مجبوری یہ ہے کہ مجھے دوست احباب سٹیج پر بٹھا دیتے ہیں۔ یہ ایک اعزاز ہے مگر امتحان بھی ہے۔ محفل کے آخر تک بیٹھنا پڑتا ہے۔ اس کے آگے کی مشکل یہ ہے کہ سارے شاعروں کو سننا پڑتا ہے۔ اس محفل میں بھی جتنے سامعین تھے وہ تقریباً سب کے سب شاعر تھے۔
صغیر صفی نے جو کتاب مرتب کی ہے اس میں تقریباً 37 شاعروں کا منتخب کلام شامل ہے۔ اس کتاب کا نام ہے ”محبت میں مرے جاتے ہیں“ یہاں ”مرے جانا“ محاورے کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ نام یہ بھی ہو سکتا تھا۔ ”محبت میں جیئے جاتے ہیں“ یہ ”جیا جانا“ بھی محاورے کے طور پر ہوتا ہے؟
لگتا ہے ہم محاورے کے طور پر جیئے چلے جا رہے ہیں اب جینے مرنے کا لطف نہیں رہا۔ ایک بے مزا سی زندگی ہے تو موت بھی ایسی ہی ہو گی۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *