Wednesday , October 24 2018
ہوم > کالم > ایک اور روٹی: میڈیا پہ حالیہ تشدد کے تناظر میں۔۔۔۔۔تحریر/آریان ملک

ایک اور روٹی: میڈیا پہ حالیہ تشدد کے تناظر میں۔۔۔۔۔تحریر/آریان ملک

 کچھ عرصہ قبل کی بات ہے سندھ کے وڈیرے نے لاہورمیں ڈیرے ڈالے تو حقائق اور سچائی کےٹھیکیداروں نے بھی ان کےدولت خانے کےباہرڈیرے ڈال لیے،،، صاحب بہادر کو اپنی نجی زندگی میں مداخلت بری لگی تو سیاست کا سہارا لیتے ہوئے ابلاغی نمائندوں کو اپنی رہائشگاہ سے ہٹانے کےلیے ہاؤسنگ سوسائٹی کی سکیورٹی کاسہارالیا۔۔ میڈیاوالوں نے اپنی روایتی اکڑفوں کا مظاہرہ کیا تو نتیجہ دوچار کے سرپھٹنےاور درجنوں کی چھترول کی صورت میں نکلا۔۔۔ دوسروں کی مدد کو پیش پیش رہنے والا میڈیا بھلا اپنے معاملے میں خاموش کیسے رہتا،،، سب رپورٹرز، کیمرہ مین اکھٹے ہوئے اور احتجاج کافیصلہ کیاگیا۔۔۔ مگرانہیں اس وقت حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے ہی چینلز کی جانب سے معاملے پہ ‘‘مٹی پاؤ‘‘ کی سرکاری پالیسی گائیڈ لائن جاری کردی گئی،، فوٹیج چلنا تو دور کی بات، ٹکرز تک نہ چلائے گئے۔۔  اور سے ہکا بکا کھڑے رپورٹرز کو ایک انوکھا فرمان بھی سنایا گیا کہ ‘‘روٹی کھاکے آنا‘‘۔۔۔ اب پھٹے سر، اور دریدہ پوشاکوں کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے وہ کیسے لگ رہے ہونگے یہ اپ بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔

ابھی کل کی ہی بات ہے کہ وہی سندھی جاگیر دار اپنے ایک سیاسی دوست کے گھر کھانے پہ پہنچتا ہے۔۔ دورے کا مقصد ظاہر ہے سیاسی ہے تو حق اور سچ کے متلاشی بھی اس گھرکےباہر ڈیرے لگالیتے ہیں۔۔ (میں یہ نہیں کہوں گاکہ ہر ایک کو کم سے کم دو دو بار فون کرکے بلایاگیاتھا)۔۔ گھنٹوں انتظار کے بعد جاگیردارصاحب جو مستقبل میں اس ملک وقوم کے‘‘باپ‘‘ بننے کے امیدوار بھی ہیں، جلوہ افروز ہوتے ہیں ۔۔۔ مگر اس جلوے کی تاب نہ لاتے ہوئے جیالے بپھرجاتے ہیں اور ریاست کے بزعم خود چوتھے ستون کو پیٹ ڈالتے ہیں۔۔۔ اس بار سر تو نہ پھٹے مگر عزت بھی نہ بچی کہ قائدین کی موجودگی میں جیالوں نے خوب ہاتھ صاف کیے اور بچانے والا بھی کوئی نہ تھا۔۔۔ دوٹی وی چینلزکےرپورٹرز درگت بنوانے کے بعد فارغ ہوئے تو حسب عادت اپنےچینلز/صحافتی قائدین کی جانب دیکھنے لگے۔۔۔۔ چینل مالکان کو تو حسب سابق سانپ سونگھ گیا البتہ پیٹی بھائیوں کی محبت میں تڑپتے قائدین بھلا کہاں چپ رہنے والے تھے،، فورا سے ہی واٹس ایپ کے خفیہ گروپوں اور سوشل میڈیاکی دیواروں پہ ‘‘پرزور مذمتوں‘‘ کا وہ طوفان اٹھا کہ جیسے ظلم وستم کے بتوں کو بہا کرلے جائیگا۔۔ ابھی ظالم اس جھٹکے سے بھی نہ سنبھلے تھے کہ کچھ پریس ریلیزیں بھی جاری ہوگئیں کہ رہی سہی کسر بھی تمام ہوئے اور ‘‘کفرکے بت‘‘ گرجائیں۔۔۔ اس قدر موثر احتجاج نے یقینا متاثرین کے سینے میں ٹھنڈ ڈالی ہوگی ساتھ ساتھ ظالمین بھی چونکے ضرور ہونگے کہ انہیں شاید اس قدر جاندار ردعمل کی توقع نہ تھی ۔۔۔ اب بس انتظار تھا کہ کب بت گرے اور کب حق کو باطل پہ فتح حاصل ہو،، مگر یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نتیجہ اب کی بار بھی یہی رہا یعنی ‘‘مٹی پاؤ‘‘ متاثرین کےساتھ ساتھ اس شعبہ سے وابستہ ہزاروں افراد گھنٹوں منہ کھولے یہ دیکھنے کےلیے بیٹھے رہے کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے، مگر انہیں شدید مایوسی کاسامنا کرناپڑا ۔۔۔ اور امید ہے کہ نتیجہ اب کے بھی حسب سابق ہوگا اور انہیں ’’ایک اور روٹی ‘‘ کھانی پڑیگی ۔۔۔۔

بشکریہ۔دانش ڈاٹ پی کے۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *