Tuesday , October 23 2018
ہوم > کالم > رطب و یابس- حسن نثار

رطب و یابس- حسن نثار

کچھ شعر آئے ہیں، پہلے وہ شیئر کرلوں پھر آگے چلتے ہیں۔کب لکھو یا مجھے مٹائو گےکب مرا فیصلہ سنائو گےتم تو رستے ہی بھول جاتے ہوکیسے آئو گے، کیسے جائو گےتم نے پہلے بھی آزمایا تھاپھر مرا صبر آزمائو گے۔اعصاب شکن ماحول ہے لیکن اعصاب صرف عوام کے ہیں جو بری طرح چٹخ رہے ہیں۔ حالات ہر طرف سے عوام پر حملہ آور ہیں۔ جمہوری مہنگائی نے جوڑ توڑ، توڑ پھوڑ کے رکھ دیئے ہیں۔ دو ہفتوں کے اندر اندر صرف ٹماٹر کی قیمت میں 111روپے فی کلو کے حساب سے اضافہ ہواہے۔ برائلر چکن 41روپے فی کلو عوام کی رینج سے نکل گیا۔ میں نے مہنگائی اور قیمتوں میں اضافہ کو اس طرح شہ سرخیاں اور سرخیاں بنتے کبھی نہیں دیکھا لیکن خیر ہے کوئی بات نہیں کیونکہ وزیراعظم نے ’’نوٹس‘‘ لے لیا ہے کہ مہنگائی میں ترقی نہیں ہونی چاہئے یا کم از کم اتنی نہیں جتنی ہو رہی ہے۔مہنگائی نحوست ہی کی ایک قسم ہے جس کے بارے میں محترم سراج الحق نے انکشاف کیا کہ جمعہ کی چھٹی نہ ہونے کی وجہ سے قوم پر نحوست چھائی ہوئی ہے تو بندہ پوچھے بھائی! جب جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی تب کون سا ابر کرم تین تین شفٹوں میں برستاتھا اور جس مہذب، مقتدر، متمول دنیامیں اتوار کو چھٹی ہوتی ہے، وہاں نحوست کا دور دورہ کیوں نہیں؟ اور جہا ں جہاں جمعہ کی چھٹی ہوتی ہے، ان کے حالات کیسے ہیں؟ نحوستوں اور برکتوں کاتعلق چھٹیوں نہیں اعمال کے ساتھ ہوتاہے اور ملتا اتنا اور وہی کچھ ہے جس کے لئے انسان نے سعی کی ہوتی ہے۔ہم عجیب لوگ ہیں اور ہمارے لیڈر عجیب تر کہ سوچنے سےپہلے اتنا بھی نہیں سوچتے کہ سوچ کیارہے ہیں۔ کبھی موٹروے گیم چینجر تھا، پھر خبر آئی کہ ’’ریکوڈک‘‘ گیم چینجر ہے جس پر پاکستان کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا یعنی قومی سطح پر بھی کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا ملینز آف ڈالرز۔ آج کل سنتے ہیں کہ ’’سی پیک‘‘ٔگیم چینجر ثابت ہوگا تو ست بسم اللہ یہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ عوام کو اس سے کیا ملتاہے۔ان لیڈروں کو کون سمجھائے کہ صرف ’’لاٹریاں‘‘گم چینجر نہیں ہوتیں ورنہ جو ملک تیل نکلتے ہی کہاں سے کہاں پہنچ گئے….. اب تک سپرپاور یا منی سپرپاورز بن گئے ہوتے لیکن ان میں سے کسی ایک کے ’’سٹیٹس‘‘میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں آئی کیونکہ قوموں کے عروج و زوال کی سائنس ذرا مختلف ہے اور اقتصادیات اس کا صرف ایک پہلو۔ کچھ کئے بغیر بیٹھے بٹھائے تکا لگ جائے تو اکثر وبیشتر بالآخر سواستیاناس کا سبب بنتا ہے۔ البتہ پاناما جیسے کیسز کے فیصلے اجتماعی سمت، سفر اورسپیڈ کومتاثر کرکے ’’گیم چینجر‘‘ کاروپ ضرور دھار سکتے ہیں۔ قوموں کو اجتماعی یوٹرن پر مجبور کرسکتے ہیں تو دعا کریں یہ تاریخی فیصلہ ہمیں اس تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے آئےورنہ فیض کے اس مصرع کا فیض عام تو جاری ہے ہی کہ ’’ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘‘کالم کے آغاز میں عرض کیا تھا کہ عوام کے اجتماعی اعصاب بری طرح چٹخ رہے ہیں تو اس حوالے سے مہنگائی بہت ہی کم تر فیکٹر ہے۔ فیصلہ کن فیکٹر ہوگا پاناما کا فیصلہ۔ فیصلہ جو بھی ہو، ہوگا تاریخی کیونکہ اس کے اثرات ہر دو صورت میں دور رس اور انتہائی فیصلہ کن ہوں گے جو کئی عشروںکے لئے طے کردے گا کہ ہم ہیں کون؟ چاہتے کیاہیں؟ ہم نےجانا کدھر ہے؟ کھوناکیا ہے؟ اورپانا کیاہے؟موٹروے، ریکوڈک اور سی پیک وغیرہ کا کم یا زیادہ کردار ضرور ہوتا ہے لیکن ’’گیم چینجر‘‘ بہت بھاری بھرکم اصطلاح ہے۔ دولت جتنی بھی ہو ’’کردار‘‘کے بغیر بے پیندے کا بے برکت برتن ہوتی ہے جسے سمندر بھی نہیں بھرسکتے۔آخر پر زرداری صاحب کی آخری کوششیں جنہیں کم از کم میں تو ’’بلف‘‘ہی سمجھ رہا ہوں۔ چراغ بجھنے سے پہلے بھڑک رہا ہے، شکارٹھنڈا ہونے سےپہلے بری طرح پھڑک رہا ہے۔ ساری بڑھکیں دام بڑھانے کے لئے ہیں ورنہ زمین پر مجھ کم فہم کو تو پیپلزپارٹی کے لئے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ جوڑ توڑ اور بو ل بچن کابادشاہ عمران خان سے ڈرا کر ’’کیک‘‘میں ذرازیادہ شیئرچاہتا ہے ورنہ رنگ میں بھنگ کا ڈراوا۔ میری ن لیگ کے لئے اٹوٹ قسم کی ’’چاہت‘‘ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ لیکن میں یہ سوچ کر ہی کانپ اٹھتاہوں کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہو۔ کیا یہاں بھی لاڑکانے اور نواب شاہ بنانے ہیں۔ پنجاب حکومت سے اختلاف ترجیحات پر ہے جن میں تبدیلی محسوس ہو رہی ہے۔ شاید رجوع پر آمادہ ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ’’ٹکریں‘‘ زوردار مارتے ہیں جو نظر بھی آتی ہیں لیکن پیپلزپارٹی….. الامان الحفیظ ۔قصہ مختصر عوام کے اعصاب پر یہ وقت بہت بھاری اور زرداری ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ فیصلے کی بھی تیاری ہے۔ اللہ پاک ہماری مشکلیں آسان فرمائے۔ آمین

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *