Sunday , October 21 2018
ہوم > کالم > بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی- حا مد میر

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی- حا مد میر

پاکستان کے بعض سیاسی حکمرانوں کے شاہانہ طرزِ زندگی پر طنز کے تیر برسانے کے لئے اکثر ناقدین انہیں مغل بادشاہوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اس ناچیز نے ایک صحافی کی حیثیت سے ان حکمرانوں کو کافی قریب سے دیکھا ہے۔ گستاخی معاف! مجھے اپنے حکمرانوں میں نہ تو اکبر کا جلال اور نہ ہی جہانگیر کا انصاف نظر آتا ہے۔ بادشاہوں جیسا رکھ رکھائو اور تمکنت ضرور دکھائی دیتی ہے لیکن قریب جائو تو یہ بہادر شاہ ظفرؔ کی طرح بے بس و لاچار بن جاتے ہیں۔ مغلیہ سلطنت کے آخری چراغ بہادر شاہ ظفرؔ کو اس کی نااہلی اور بزدلی کے باعث دشمنوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا تو اس نے ٹیپو سلطان کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے شاہی محل سے بھاگ کر ہمایوں کے مقبرے میں پناہ لے لی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج یہاں بھی پہنچ گئی تو بہادر شاہ ظفرؔ نے اپنی گرفتاری پیش کردی۔ اس پر دہلی کے لال قلعے میں مقدمہ چلا کر جلاوطن کردیاگیا۔ اس کا انتقال رنگون میں ہوا۔ بہادر شاہ ظفرؔ کی طرح ہمارے بعض سیاسی حکمرانوں کو بھی جلاوطن کیا جاتارہا ہے لیکن یہ کسی نہ کسی طریقے سے وطن واپس آ جاتے ہیں۔ عوام انہیں اپنے ووٹ کی طاقت سے دوبارہ حکمران بنا ڈالتے ہیں لیکن یہ اپنی نااہلی کے باعث پھر سے بہادر شاہ ظفرؔ بننے میں کوئی دیر نہیں لگاتے۔ پاکستان کی تاریخ میں تین دفعہ وزیراعظم بننے والے نوازشریف نے 2013میں سپریم کورٹ کے حکم پر سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کا آئین سے غداری کے الزام میں ٹرائل کرنے کافیصلہ کیا تو امید پیدا ہوئی تھی کہ اب کسی حکمران کو غیرآئینی طریقے سے حکومت سے نکال کر جلاوطن نہ کیا جائے گا۔ یہ ٹرائل شروع ضرور ہوا لیکن اس وقت کے آرمی چیف راحیل شریف نے اسے انجام تک نہیں پہنچنے دیا۔ 2014میں عمران خان اور طاہر القادری اپنے دھرنے کے ذریعے نوازشریف کو حکومت سے نکالنا چاہتے تھے لیکن اس دھرنے کافائدہ پرویز مشرف کو ہوا جو پاکستان سے نکل گئے۔ پرویز مشرف کے معاملے پر نوازشریف کے یوٹرن کا اصل مقصد اپنی حکومت بچانا تھا۔ انہو ںنے اپنی حکومت تو بچالی لیکن سیاسی ساکھ نہ بچاسکے۔ 2014کا دھرنا ختم ہونے کے بعد راحیل شریف سیاست میں براہ ِراست مداخلت کئے بغیر انہیں اپنے اشاروں پر نچانے کی کوشش کرتے رہے۔ راحیل شریف نے نوازشریف کی کمزوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور میڈیا مینجمنٹ کے ذریعے زبردستی قوم کے ہیرو بن گئے۔ قومی ہیرو کا خودساختہ اعزاز حاصل کرنے کے بعد انہو ںنے نوازشریف سے اپنی مدت ِملازمت میں تین سال کی توسیع اور فیلڈ مارشل کا عہدہ بھی مانگ لیا۔ نواز شریف نے ہاں کرنے کی بجائے انہیں سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے مسلم ممالک کے ایک فوجی اتحاد کا کمانڈر انچیف بننے کا خواب دکھایا لیکن راحیل شریف آئین توڑے بغیر نوازشریف کو حکومت سے نکالنے کا تہیہ کئے بیٹھے تھے۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ نوازشریف کے بہت سے قریبی ساتھی راحیل شریف کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔
راحیل شریف نے سب سے پہلے آصف زرداری اور نوازشریف کی مفاہمت ختم کرائی۔ پھر زرداری صاحب کو پاکستان سے باہر چلے جانے پر مجبور کر دیا۔ 30مئی 2016کو میں نے ’’مائنس تھری‘‘ کے عنوان سے اس کالم میں لکھا تھا کہ الطاف حسین کی طرح آصف زرداری اور نوازشریف کو پاکستان کی سیاست سے آئوٹ کرنےکا منصوبہ تیار ہے۔ اس دوران پاناما کا ہنگامہ برپا ہوچکا تھا اور وزیراعظم نوازشریف اپنے دل کا بائی پاس کرانے کے لئے لندن چلے گئے۔ لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں بائی پاس آپریشن کے بعد نوازشریف کو یہ پیغام پہنچایا گیا کہ وہ پاکستان واپس نہ آئیں۔
مجھے اس پیغام کی خبر ملی تو میں نوازشریف صاحب کی عیادت کے لئے لندن پہنچ گیا۔ میں نے بیگم کلثوم نواز صاحبہ کی موجودگی میں انہیں کہا کہ آپ پاکستان ہر صورت واپس جائیں۔ 8جون2016کو ’’نوازشریف پھر بچ نکلے‘‘ کے عنوان سے اپنے کالم میں اس ناچیز نے عرض کیا تھا کہ نوازشریف کو وطن واپسی پر پاناما کا شور سننا پھر پڑے گا۔ میری رائے میں سیاسی حکمرانوں کو غیر سیاسی طریقے سے حکومت سے نکالنا اوربہادر شاہ ظفرؔ بنانا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ حکمرانوں کو آئین اور قانون کے مطابق حکومت چلانی چاہئے اور آئین قانون کے اندر رہ کر ان سے حکومت واپس لی جانی چاہئے۔ اگر نوازشریف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یوسف رضا گیلانی کے خلاف درخواست گزار بن کر انہیں سپریم کورٹ کے ذریعے وزارت ِ عظمیٰ سے نکلوا سکتے ہیں تو پھر یہ حق عمران خان کو بھی حاصل ہے کہ وہ نوازشریف کے خلاف درخواست گزرار بن کر انہیں وزارت ِ عظمیٰ سے ہٹانے کا مطالبہ کریں۔ اگر نوازشریف نے یوسف رضا گیلانی کے خلاف کوئی غیرآئینی سازش نہیں کی تو عمران خان بھی نوازشریف کے خلاف کوئی غیرآئینی سازش نہیں کر رہے۔ جب 2014میں عمران خان نے دھرنےکے ذریعے نوازشریف کو بہادر شاہ ظفرؔ بنانے کی کوشش کی تو میں نےعمران خان کی حمایت نہیں کی لیکن پاناما کیس میں عمران خان نے نوازشریف کا راستہ اختیار کیا ہے ، اسے آپ مکافات عمل بھی کہہ سکتے ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا سپریم کورٹ میں دفاع کرنے والے وکلا میں چوہدری اعتزاز احسن سرفہرست تھے۔ چوہدری صاحب یہ مقدمہ ہار گئے تھے۔ چوہدری صاحب سپریم کورٹ میں محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کرنے کا مقدمہ بھی ہار گئے تھے شاید اسی لئے ان کا خیال ہے کہ پاناما کیس میں نوازشریف پھر بچ نکلیں گے کیونکہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں نوازشریف کے خلاف فیصلے نہیں دیتیں۔ سوال یہ ہے کہ پاناما کیس میں جو بھی فیصلہ آئے کیا عوام کے حالات میں کوئی بہتری آئے گی؟ اگر فیصلہ نوازشریف کے حق میں آگیاتو وہ بہادر شاہ ظفرؔ ہی رہیں گے۔ پرویز مشرف اور راحیل شریف کے معاملے پرپارلیمنٹ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے کی جرأت نہیں کریں گے۔ فیصلہ ان کے خلاف آگیا تو حکومت مسلم لیگ (ن) کی ہی رہے گی۔ نوازشریف رائے ونڈ میں بیٹھ کر دیسی مرغیوں کا سوپ پیا کریں گے اور وزیراعظم ہائوس میں بیٹھے نئے بہادر شاہ ظفرؔ کو احکامات دیا کریں گے۔ ہمارے یہ سیاسی حکمران ایک دوسرے کو نجانے کیا کچھ کہتے ہیں لیکن ان میں ایک شوق مشتر ک ہے۔ نوازشریف، آصف علی زرداری اور عمران خان کو دیسی مرغیاں بہت پسند ہیں۔ تینوں نے اپنے بڑے بڑے محلوں میں دیسی مرغیاں پال رکھی ہیں جبکہ تینوں کے ووٹر برائلر مرغی کھاتے ہیں اور برائلر آج کل بہت مہنگی ہوگئی ہے۔ تینوں مختلف صوبوں میں حکمران ہیں ان تینوں سے ایک حقیر سا مطالبہ ہے کہ آپ دیسی مرغیاں ضرور کھائیں لیکن عوام کے لئے برائلر مرغی تو سستی کرادیں۔ تینوں کے پرستاروں سے گزارش ہے کہ اب مجھ پر لعن طعن کرنے کی بجائے اپنے لیڈروں سے کہیں کہ کبھی عوام کے ساتھ بیٹھ کر برائلر مرغی بھی کھالیا کریں۔ بار بار بہادر شاہ ظفرؔ مت بنیں جس نے کہا تھا؎
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی