Tuesday , December 11 2018
ہوم > کالم > غریب اور غربت اِک نئی نظر سے۔۔۔تحریر :عظیم ساگر

غریب اور غربت اِک نئی نظر سے۔۔۔تحریر :عظیم ساگر

غربت صرف بے گھر‘ بھوکا ننگا ہونے کا نام نہیں ہے۔ کسی کی توجہ نہ پایا جانا‘ کسی کی پرواہ حاصل نہ ہونا بڑی غربت ہے
حب دنیا‘ لالچ‘ عیش پرستی‘ تن پرستی‘ ہوس مال‘ تکبر‘ فضول خرچی‘ بے راہ روی کی یہ ایک بدترین مثال ہے ۔ یہ اسلام کی حقیقی روح پر داغ ہے۔ اسلام تو سادگی‘ قناعت‘ زکواۃ ‘ خیرات‘ فلاح انسانیت کا درس دیتا ہے۔ اگر مشرقی لوگ اتنی کثیر دولت رکھتے ہیں جو ان سے سنبھلتی نہیں اور جس کو خرچ کرنے کے لئے انہیں اپنی ذات کی کوئی جہت خالی نظر نہیں آتی تو اسے اپنے ملک کے عوام کی بہبود پر خرچ کریں۔
دنیا میں بسنے والے کثیر تعداد انسانوں بشمول مسلمانوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ کس ملک کی سیاست کیا ہے؟ لیکن ان کثیر تعداد انسانوں کو پتہ ہے کہ کون دولت سے ناک تک ٹھنا ہوا ہے۔ اس کے باوجود اس کو اپنی ناک کے تلے فاقہ سے سمٹا ترستا غریب نظر نہیں آتا۔ غریب اور غربت کو تلاش کرنے کے لئے کسی متمول کو دوربین کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ کوڑے کے ڈھیر سے خوراک تلاش کرتے‘ فاقے سے نچڑے ڈھانچے جیسے بدن لئے غریب‘ علاج اور ادویہ کی انتظار میں ہسپتالوں کے سامنے فٹ پاتھ پر قطرہ قطرہ مرتے غریب‘ بدصورت سیاست کا نشانہ بنتے ایک ملک سے دوسرے ملک کو جاتے ہوئے راستوں میں قلت غذا‘ دوا اور عدم تحفظ کے شکار الم نصیب‘ ابتر حالات میں زندگی کرتے فلسطینی الغرض کرہ ارض پر درد و الم‘ عسرت‘ قحط‘ فاقے کے مناظر کی کمی نہیں ہے اور جن کے پاس وسائل ہیں ان کی کہیں بھی رسائی مشکل نہیں ہے۔ایک انسان کو چندانچ کا معدہ ملا ہے اس کو بھرنے کے لئے اسے سینکڑوں باورچی‘ غذا خوراک کا کتنا انبار مطلوب ہو سکتا ہے؟ یہ تو کھجور کے چند دانے اور مٹھی بھر چنے سے ہی بھر جاتا ہے۔

حرص اور طمع کا پیٹ قبر کی مٹی کے سوا کسی چیز سے نہیں بھرتا۔ دنیا کے غریب ترین ممالک میں سرفہرست نائیجیریا‘ وسطی افریقہ‘ ملاوی ہیں۔ دنیا میں21 بلین انسان انتہائی درجہ کی غربت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔دیکھا جائے تو یہی وہ نکتہ نظر ہے جس پر امداد کا دارومدار ہوتا ہے۔ کسی کے پاس نان جویں نہیں ہے۔ کوئی کھانے کے انبار ضائع کر رہا ہے کسی کے بچے بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔ کوئی بچے کی سالگرہ پر لاکھوں روپے اڑا رہا ہے۔ کسی کے تن پر برسوں پرانے چیتھڑے ہیں۔ کوئی اتنے ملبوسات رکھتا ہے کہ تعداد یاد نہیں اور اتنے قیمتی کہ اس قیمت میں کئی غریب خاندان پل جائیں۔ یہ جذباتی منظر کشی نہیں ہے حقیقت ہے۔
انسانوں کی آبادی کا1/5 حصہ شدید غربت کے دائرے میں زندگی بسر کر رہا ہے۔ بچوں کی کل آبادی کا ایک تہائی قلت غذا کا شکار ہے۔ ایسے بچے بھوک غربت کی وجہ سے دو سال کی عمر تک پہنچتے ہوئے ذہنی معذور ہو جاتے ہیں۔ کرہ ارض کی آبادی کا 1/4حصہ غربت کے سبب تعلیم سے محروم ہے۔ افریقہ کے صحرائی علاقے میں دس ہزار لوگوں کے لئے دو ڈاکٹر بمشکل میسر ہیں۔ ایشیاء میں افریقہ سے زیادہ تعداد میں غریب رہتے ہیں۔ ہم کبھی نہیں جانتے غربت کیا ہے یا ہم دانستہ نظر انداز کرتے ہیں۔
خدا ایسے زرکثیر کے حاملین کے ضمیر زندہ کردے اور انہیں اسلام کی حقیقی روح اور سچے پیغام کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔ پل کی خبر نہ رکھنے والوں کو سو سال کے ذخیرے جمع کرنے سے رکنے کی توفیق عطا کرے اور وہ خوشی جو کسی مستحق کی مدد کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے اس خوشی سے لطف اندوز ہونے کا اہل کردے۔۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

مرغیاں اورکٹوں کاحکومتی منصوبہ۔۔نون لیگ بھی شریک گناہ ہے۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

مرغی پہلے آئی یا انڈا، یہ ایک جانا پہچانا مخمصہ ہے اور بارہا مباحث میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *