Tuesday , October 23 2018
ہوم > کالم > وزیراعظم بلاول ہو گا یا عمران خان؟ ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

وزیراعظم بلاول ہو گا یا عمران خان؟ ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

”صدر“ زرداری بات تو انوکھی اور کھری کھری کرتے ہیں۔ ایک حیرت انگیز اسلوب گفتگو۔ اپوزیشن میں رہ کر چیئرمین سینٹ بنایا۔ وزیراعظم بھی اپوزیشن میں رہ کر بنا کے دکھا دوں گا۔ یہ بات بھی قابل عمل ہے۔ حکومت نواز شریف کی۔ وہ قومی اسمبلی میں قائد ایوان ہیں۔ سپیکر اسمبلی ایاز صادق ان کا اپنا بلکہ ان کا ذاتی؟ جو تھوڑی بہت ہمارے سپیکر میں غیر جانبداری ہوتی ہے وہ بھی ایاز میں نہیں ہے۔ ایاز کی جو حیثیت محمود غزنوی کے زمانے میں تھی وہ بھی ایاز صادق کی نواز شریف کے زمانے میں نہیں ہے۔
پارلیمانی جمہوریت میں صدر کی حیثیت صرف آئینی ہوتی ہے مگر ”صدر“ زرداری نے یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنایا جو اس منصب کے لئے سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ پھر راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم بنایا جو کہ ”صدر“ زرداری کے سچے اور فرماں بردار دوست ہیں۔ اپوزیشن میں چیئرمین سینٹ بنایا جا سکتا ہے تو وزیراعظم بھی بنایا جا سکتا ہے۔ یہ تو بہت بڑی ڈیل کے بعد بلکہ گراں ڈیل کے بعد نواز شریف وزیراعظم بنے۔ وہ پریشان ہیں کہ اب سپریم کورٹ سے پانامہ کیس کے لئے فیصلہ آئے گا تو کیا بنے گا بلکہ میرا کیا بنے گا؟
بلاول بھی ”صدر“ زرداری سے پیچھے نہیں وہ کہتے ہیں کہ عوام شریف برادران سے نجات چاہتے ہیں ”صدر“ زرداری کے خیال میں وہ 15دن پنجاب میں بیٹھے تو بلے والوں اور کاغذی شیروں کا حال خراب ہو گیا ہے۔ ”صدر“ زرداری کو کم از کم 15دن اور پنجاب میں رہنا چاہیے تھا پھر نجانے کیا ہوتا؟ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سال الیکشن ہوں گے میں تیار ہوں۔ ہر ڈویژن اور ڈسٹرکٹ میں جاﺅں گا جئے بھٹو کے نعرے وجن گے تو سارے پیٹو بھجن گے۔ نہ ہم پہلے کبھی ڈرے نہ اب ڈریں گے۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر ”صدر“ زرداری خطاب کر رہے تھے۔ لوگ کبھی کبھی یہ بات کرتے ہیں کہ بھٹو کے مشن کو زرداری صاحب کیسے پورا کریں گے۔ میرے خیال میں صرف وہی ہیں جو یہ کام کر سکتے ہیں۔ ورنہ غنویٰ بھٹو بری طرح ناکام ہو گئیں انہوں نے اپنے خاوند مرتضیٰ بھٹو کی یاد کو بھی اس صورتحال میں شامل کیا۔ مگر بھٹو کی برسی کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے ان کی تصویر کی اشاعت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکا۔
فاطمہ بھٹو لیڈر بن سکتی تھیں مگر غنویٰ بھٹو نے اپنے عزائم کے لئے یہ زبردست کام نہیں ہونے دیا۔ ورنہ فاطمہ میں صلاحیت بھی تھی وہ بہت پڑھی لکھی تھی۔ دانشور لیڈر بن سکتی تھی مگر غنویٰ بھٹو شاید یہ سمجھتی تھیں کہ مرتضیٰ بھٹو کی اچانک موت سے انہیں بہت فائدہ ہو گا یہ فائدہ صرف فاطمہ بھٹو کو ہو سکتا تھا پھر کسی کو بھی نہ ہوا۔ اور مرتضیٰ بھٹو بھی سیاسی میدان میں فراموش ہو گئے۔
یہ ”صدر“ زرداری کا کمال ہے کہ وہ ایک عام حیثیت سے اٹھ کے صرف بینظیر بھٹو کے شوہر ہونے کے ناطے اور ان کی شہادت کے طفیل اور خاص طور پر اپنی بے پناہ صلاحیتوں اور بہترین حکمت عملی سے پاکستان کے سب سے بڑے عہدے تک جا پہنچے۔ انہوں نے یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنایا جب ابھی وہ صدر پاکستان نہ تھے۔
انہوں نے اپنی صدارت کے پانچ سال بہت خوش اسلوبی اور سیاسی طاقت کے ساتھ پورے کئے۔ پارلیمانی نظام میں ایسا صدر کبھی نہیں آیا۔ محترم ممنون حسین بھی صدر پاکستان ہیں مگر ان کا موازنہ صدر زرداری سے نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ کبھی ان کے جرات مندانہ بیانات چونکا دیتے ہیں۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ انہوں نے نواز شریف کے خلاف بیان دیا ہے۔ کرپشن کے خلاف ان کے بیانات اتنے واضح اور اتنے اہم ہوتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔
اقتدار میں باریوں کی بات بہت ہوتی ہے تو پھر نواز شریف کے بعد ”صدر“ زرداری کا آنا بالکل ممکن ہے۔ ”صدر“ زرداری اپوزیشن کے حوالے سے جو بات کر رہے ہیں تو لگتا ہے کہ یہ الیکشن کی تیاری تو ہے۔ دوبارہ اقتدار میں آنے کی تیاری بھی ہے۔ صدر زرداری اور خاص طور پر بلاول بھٹو زرداری نواز شریف کے لیے مخالفانہ بیان بازی میں بہت سرگرم ہیں۔ زرداری صاحب نے پہلے تو ”ہتھ ہولا“ رکھا ہوا تھا مگر اب وہ بھی بہت دھڑلے سے سامنے آئے ہیں اور نواز شریف کے خلاف بولتے ہیں۔
بلاول نے تو کھلم کھلا کہہ دیا ہے کہ میاں صاحب بہت ہو چکا۔ اب آپ کو جانا ہو گا۔ زرداری صاحب کہتے ہیں کہ الیکشن اسی سال ہوں گے۔ حکومت بنا کے دکھاﺅں گا۔ میری ان سے گذارش ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو تو وزیراعظم بالکل نہ بنائیں اور اگر راجہ پرویز اشرف کو بھی نہ لائیں تو آپ کے لیے اور پیپلز پارٹی کا بھلا ہو گا۔
میرے خیال میں بلاول بھٹو وزارت عظمیٰ کے لیے موزوں ہیں۔ نوجوان ہیں۔ ان کی عظیم والدہ شہید بے نظیر بھٹو جس عمر میں وزیراعظم بنی تھیں بلاول کی عمر بھی تقریباً اتنی ہی ہے مگر درمیان میں عمران خان بھی ہیں۔ وہ بلاول کے والد صاحب ”صدر“ زرداری سے بھی عمر میں بڑے ہوں گے۔ نواز شریف بھی عمر میں عمران خان سے چھوٹے ہوں گے تو بزرگی کا لحاظ کرتے ہوئے عمران خان کو حکومت دے دینی چاہیے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ وہ کرتے کیا ہیں۔ مجھے امید ہے کہ عمران کچھ نہ کچھ کریں گے۔ جو لوگوں کے حق میں ہو گا۔ مگر عمران خان خود کو یہ کہتے ہوئے بھی کہ باسٹھ سال کا ہو گیا ہوں وہ ابھی تک اپنے آپ کو نوجوان سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو اتنا فٹ رکھا ہوا ہے کہ لگتا ہے ابھی دو تین شادیاں اور کر سکتے ہیں۔
اور اگر چھوٹی عمر کی رعایت دینا ہے تو بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنا کے دیکھ لو تو یقیناً کچھ نہ کچھ نیا ہو گا۔ آصف زرداری بے شک بلاول کے پیچھے کھڑے ہو جائیں مگر وہ کچھ نہ کچھ انوکھا کر کے دکھا دے گا۔ میں ”صدر“ زرداری سے بھی گذارش کروں گا کہ وہ بلاول کو وزیراعظم بنا کے دکھا دیں۔ لیکن اس میں شرط ہے کہ زرداری صاحب صدر نہ بنیں۔ وزیراعظم کے لیے میرے دل میں مریم نواز کا نام بھی ہے۔ یہ تو شریف برادران کی طرح کا معاملہ ہو گا۔ اوپر بڑا بھائی نیچے چھوٹا بھائی۔ باپ صدر، بیٹا وزیراعظم۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

ایک تبصرہ

  1. نہ عمران نہ بلاول

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *