ہوم > کالم > دہشت گردی کے خلاف بیانیہ- حا مد میر

دہشت گردی کے خلاف بیانیہ- حا مد میر

پارا چنار کے بعد لاہور میں دہشت گردی کا دلدوز واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں کمی ضرور ہوئی ہے لیکن دہشت گردی بدستور ایک چیلنج بن کر پوری قوم کے سامنے کھڑی ہے۔ اس واقعہ کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کی ہے جو تحریکِ طالبان پاکستان کا ایک باغی گروپ ہے۔ 2014میں نواز شریف حکومت نے تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا اعلان کیا تو مہمند سے تعلق رکھنے والے عمر خالد خراسانی نے ان مذاکرات کی مخالفت کی اور احرار الہند کے نام سے علیحدہ گروپ بنانے کا اعلان کیا۔ اس گروپ نے 2014میں اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس پر حملہ کیا تھا جس میں ایک جج اور خاتون وکیل سمیت گیارہ افراد شہید ہوئے۔ 15جون 2014کو آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد احرار الہند نے اپنا نام بدل کر جماعت الاحرار رکھ لیا۔ نومبر 2014میں اس گروپ نے واہگہ بارڈر پر حملہ کیا بعد ازاں اسی گروپ نے گلشن اقبال پارک لاہور میں بھی حملہ کیا۔ پشاور میں مسیحیوں کے چرچ اور کوئٹہ میں 50سے زائد وکلا پر حملے کی ذمہ داری بھی جماعت الاحرار نے قبول کی۔ اس سال 13فروری کو لاہور میں اس گروپ کے حملے میں پولیس کے سینئر افسران شہید ہوئے۔ اس گروپ کی طرف سے احرار کا نام استعمال کرنا بڑا معنی خیز ہے۔ 1929میں سید عطاءاللہ شاہ بخاری نے تحفظِ ناموس رسالت ؐ کے لئے مجلس احرار قائم کی تھی۔ مجلس احرار نے قادیانیوں کی مخالفت کی لیکن کانگریس کی حمایت کی۔ مجلس احرار قیام پاکستان کے حق میں نہ تھی لیکن قیام پاکستان کے بعد عطاءاللہ شاہ بخاری نے پاکستان کی حقیقت کو تسلیم کرلیا، تاہم مجلس احرار اپنا سیاسی وجود برقرار نہ رکھ سکی۔ مجلس احرار کی طرح جمعیت علماء ہند اور خدائی خدمت گار بھی کانگریس کے حامی تھے لیکن قیام پاکستان کے بعد ان جماعتوں نے بھی پاکستان کو تسلیم کرلیا۔ جمعیت علماء ہند سے وابستہ علما نے1948 میں جمعیت علماء اسلام قائم کی جس کے پہلے امیر مولانا محمد صادق تھے جن کا تعلق کراچی سے تھا۔ مولانا محمد صادق نے مولانا عبیداللہ سندھی کے ساتھ تحریک ریشمی رومال میں حصہ لیا تھا اور 1914میں لسبیلہ میں مینگل قوم کے ہمراہ انگریزوں کے خلاف بغاوت میں حصہ لیا۔ انہیں گرفتار بھی کیا گیا اور کراچی بدر بھی کر دیا گیا۔ وہ پاکستان میں جے یو آئی کی تشکیل میں مصروف تھے کہ انتقال کر گئے۔ ان کے بعد مولانا احمد علی لاہوری، مولانا عبداللہ درخواستی اور پھر مولانا مفتی محمود نے جے یو آئی کی امارت سنبھالی۔ مولانا مفتی محمود نے جے یو آئی کو پاکستان کے سیاسی دھارے میں شامل کیا۔ مولانا خواجہ خان محمد، مولانا سراج احمد دین پوری، مولانا عبیداللہ انور، مولانا سید حامد میاں، مولانا عبدالکریم قریشی اور مولانا اجمل خان کے بعد مولانا فضل الرحمٰن جے یو آئی کے امیر بنے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ایم آر ڈی کی تحریک میں حصہ لیا اور پھر اپنی سیاسی حکمتِ عملی کے ذریعے کبھی پیپلز پارٹی اور کبھی مسلم لیگ(ن) کے ساتھ مل کر جے یو آئی کو مرکزی و صوبائی حکومتوں میں شامل کرتے رہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے جمعیت علماء ہند کے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھا لیکن جمعیت علماء اسلام کو پاکستان میں آئین اور جمہوریت کی حامی قوتوں کا اتحادی بنائے رکھا۔
مولانا فضل الرحمٰن ایک سیاستدان ہیں اور پھر سیاستدان پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ کل تک جو انہیں مولانا ڈیزل کہتے تھے آج انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کو اپنا ’’اتحادی‘‘ بنا رکھا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ نائن الیون کے بعد پاکستان میں شروع ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کے لئے مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ مجھے وہ زمانہ یادہے جب انہوں نے قاضی حسین احمد مرحوم، مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم، علامہ ساجد نقوی اور دیگر علماء کے ساتھ مل کر متحدہ مجلس عمل قائم کی جس کا مقصد دینی جماعتوں کو قریب لاکر رواداری کو فرغ دینا تھا لیکن مجلس عمل چند سال میں ٹوٹ گئی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان کے اندر عسکریت پسندی کی کھل کر مخالفت کی اور ردعمل میں عسکریت پسندوں نے ان پر قاتلانہ حملے کئے۔ 2010 میں انہوں نے جامعہ اشرفیہ لاہور میں پاکستان کے اکابر علماء کا ایک اجلاس بلایا جس کی صدارت وفاق المدارس العربیہ کے صدر مولانا سلیم اللہ خان نے کی۔ اس اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن نے دیگر علما کی مشاورت سے ایک اعلامیہ تیار کیا۔ تین دن کے بحث مباحثے کے بعد یہ اعلامیہ منظور کرلیا گیا۔ اس اعلامیے میں وہ سب کچھ تھا جسے وقت کی اہم ترین ضرورت کہا جاتا ہے۔ اس اعلامیے میں کہا گیا کہ اس وقت ملک کاسب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے۔ جگہ جگہ خودکش حملوں اور تخریبی کارروائیوں نے ملک کو بدامنی کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔ ان تخریبی کارروائیوں کو تمام محب وطن حلقوں نے سراسر ناجائز قرار دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ملک بھر کی مذمت اور فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود یہ کارروائیاں کیوں جاری ہیں؟ اعلامیے میں کہا گیا کہ ’’ہماری نظر میں اس کا سب سے بڑا سبب وہ افغان پالیسی ہے جو جنرل پرویز مشرف نے غلامانہ ذہنیت کے تحت کسی تحفظ کے بغیر شروع کر دی‘‘ اس اعلامیے کا سب سے اہم حصہ تھا جس میں کہا گیا کہ پاکستان کے موجوہ حالات میں نفاذِ شریعت اور ملک کو غیر ملکی تسلط سے نجات دلانے کے لئے پرامن جدوجہد ہی بہترین حکمتِ عملی ہے اور مسلح جدوجہد شرعی اعتبار سے غلط ہے اور اس کا براہ راست فائدہ دشمنوں کو پہنچ رہا ہے اور امریکہ اسے علاقے میں اپنے اثر و رسوخ کو دوام بخشنے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ اس اعلامیے کے بعد مولانا فضل الرحمٰن پر اوپر نیچے تین خودکش حملے ہوئے لیکن وہ معجزانہ طور پر بچ گئے۔ وہ ڈٹ کر پاکستان کے مسائل کا حل پاکستان کے آئین و قانون کے اندر تلاش کرنے کے بیانئے پر قائم ہیں اور اپنے اس بیانئے کو مزید دوام دینے کے لئے انہوں نے 7سے 9اپریل 2017تک اضاخیل نوشہرہ میں ایک عالمی اجتماع کے انعقاد کا اعلان کیا ہے جس میں امام کعبہ مہمان خصوصی ہوں گے اور 7اپریل کو جمعہ کی نماز بھی پڑھائیں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اس اجتماع میں علامہ ساجد نقوی سمیت تمام مکاتبِ فکر کے علماء کو شرکت کی دعوت دی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کے اندازے میں 30لاکھ سے زائد افراد اس عالمی اجتماع میں شرکت کریں گے اور اس اجتماع کا اعلامیہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا۔
اضاخیل کے اجتماع میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کی شرکت اور یہاں دہشت گردی کے خلاف ہونے والی تقاریر کو میڈیا میں اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ آج کل میڈیا پر یہ بحث ہو رہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بیانئے کی تشکیل میں علماء کا کیا کردار ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ1973کا آئین ایک بیانئے کے طور پر پہلے سے ہمارے پاس موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ کہ آئین کے حامی علماء2010 میں ایک بیانیہ جاری کر چکے ہیں اور اب 2017میں اضاخیل میں اسی بیانئے کا اعادہ کیاجائے گا۔ بیانیہ موجود ہے صرف عملدرآمد کی ضرورت ہے اور ردالفساد آسان ہو جائے گا۔ حکومت کو صرف یہ کرنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی مدد سے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کو دوبارہ اکٹھا کرکے دہشت گردی کے خلاف بیانئے کو قومی پالیسی میں تبدیل کر دے۔

یہ بھی دیکھیں

کشمیر اب ہماری ترجیح نہیں رہا – بلال شوکت آزاد

کشمیر اب ہماری ترجیح نہیں رہا لیکن کشمیریوں کی اول آخر ترجیح پاکستان ہی ہے۔ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *