ہوم > کالم > فیصلہ پوری طرح محفوظ۔۔۔۔۔تحریر/حسن تیمورجھکڑ

فیصلہ پوری طرح محفوظ۔۔۔۔۔تحریر/حسن تیمورجھکڑ

وطن عزیزکو معرض وجود میں آئے 70برس گزر گئے ۔ یہاں کے مسائل میں سے سب سے بڑا انصاف کی عدم فراہمی اور عدم مساوات ہے ۔ یہی مسئلہ اُم المسائل کی حیثیت سے باقی تقریباسبھی خرابیوں کی جد ہے ۔مساوات نہ ہونے سے پیدا ہونے والی غربت نے بےچینی کو جنم دیا جو معمولی جرائم سے ہوتی ہوئی دہشتگردی تک جاپہنچی۔ اس سےنمٹنے کےلیے واحد ہتھیارانصاف ہوسکتا تھامگر ہمارے ملک میں گنگااُلٹی بہتی ہے اور بجائے مظلوم کو انصاف دینے کے ،یہ ادارہ طاقتور کامحافظ ہے ۔نظریہ ضرورت کی ایجاد سے لیکر معمولی مقدمے میں منتخب وزیراعظم کی پھانسی جیسی بدعات اسی ادارےکی اختراع ہیں ۔۔ سیاستدان کو ‘‘کوٹیکنا‘‘میں سزادینی ہو یا ‘‘معزول ’’حکومت کی بحالی ہو،،ہر جگہ نظریہ ضرورت کےتحت انصاف بکا ہی ہے ۔شاہ رخ جتوئی ہو یا مصطفی کانجو،اانصاف امیر سے ہارا ہی ہے۔مظلوم ہوکر بھی غریب کا بچہ انصاف کی گرد کو بھی نہ پاسکا ۔ ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ تو ہمارے نظام پہ طمانچہ ہے کہ مجرم کوبچانےکےلیے خودمنصف بےچین رہے۔ ہر کیس میں مظلوموں کو بچانے کےلیے قانون کے اندرسے ہی نت نئی تاویلات سامنے آتی رہی ہیں ۔ غریب کو انصاف کےلیے ہمیشہ دھکےکھانا پڑے،کئی کو تو انصاف کےحصول کےلیے زندگی کی بازی لگانا پڑی ،کئی کو انصاف ان کے مرنے کے بعد ملا ۔۔۔۔

خیر ماضی کو چھوڑتے ہیں ۔حال کی جانب بڑھتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں عظمی اورعالیہ ہمیشہ شرفا کے گھرکی لونڈی رہی ہیں۔۔۔ اور اس کاواضح ثبوت ہر ‘‘شریف ‘‘حکمران کے دورمیں ملا ہے ۔تازہ ترین مثال اس وقت پانامہ لیکس کی صورت میں سامنے ہے۔۔۔ پانامہ ایسا کیس ہے جس کےبارے میں وفاقی وزرا سے لیکر جنرل کونسلرکےامیدوار تک ایک خاندان کے دفاع میں جت گئے۔۔ہزاروں تاویلیں محض ایک شخص کی کرپشن کو جواز دینے کےلیے گھڑی گئیں ۔۔متحارب سیاسی جماعتوں کے جائز مطالبا ت کو بھی غلط ثابت کرنے کےلیے ہلکان ہوئے پھرتے رہے ۔۔۔ایک وزیرتو دورکی کوڑی لائے کہ دنیاکےدیگرممالک میں یہ کیس عدالت میں ہی نہیں گیا،،، تو ان کےلیے جواب عرض ہے کہ وہاں پٹواری سسٹم جو نہیں ہے ،،،وہاں کے حکمرانوں کو محض الزام پہ ہی مستعفی ہونا پڑا ہے ۔ ہمارے ہاں تو جب سے یہ کیس شروع ہے تب سے ہی پوراسسٹم خود ملزمان کو اس میں سے نکالنے کےلیے تلا ہے ۔ پہلے پہل تو حسب معمول کچھوے کی چال سے سماعت کاآغاز ہوا جس میں شریف وزیراعظم ،ان کےاہلخانہ ،ان کے وکلا کے روز بدلتے بیانات نے خود ججز کو مشکل میں ڈالے رکھا ۔۔۔ پھر کسی دانا کے مشورے سے قطرسے خط منگوایا گیا جو آبیل مجھے مار کے مصداق ثابت ہوا ۔۔ طویل سماعتوں کےبعدایک جج نے معاملہ ہاتھ سے نکلتے دیکھا تو فیصلہ دینے سے انکار کرتے ہوئے کیس دوسرے کے سرمنڈھ دیا۔ عدالتی فنکاروں کے دوسرے فل بینچ نے آتے ہی ‘‘شغل ‘‘فرمانا شروع کردئیے ۔۔۔جب شغل ختم ہونے کاخدشہ پیدا ہوا تو ایک معزز رکن کو کچھ روز کےلیے اسپتال میں ‘‘قید‘‘کروادیاگیا۔۔ اس سے بھی خطرہ نہ ٹلا تو قطری سے دوسرا خط منگوانا پڑا ۔اور جب ہرطرح سے بےبسی ہوگئی تو پھر آخری حل کے طورپہ فیصلہ ہی حنوط، میرا مطلب ہے محفوظ کرلیاگیا۔۔۔ جی ہاں محفوظ۔۔۔ یہ صرف فیصلہ ہی نہیں خود کو بھی محفوظ کیاگیا۔۔ اس سسٹم کو محفوظ کیاگیاہے جس میں ان کی بادشاہی برقرار رہے ۔۔۔ اگر ماضی کے کئی فیصلوں کی روایت اپنائی گئی تو یقین جانیے اس اس حنوط مطلب محفوظ شدہ فیصلے کو ہمارے بچے ہی آکرسنیں گے ۔۔۔ ویسے اس کیس میں جس طرح ملزمان کو نقصان سے بچانے کی کوشش کی جاتی رہی او ر بالاخر قانونی طریقے سے کورمدد فراہم کی گئی اس کو دیکھ کر ایک لطیفہ یاد آگیا ۔۔۔ آپ کی سماعتوں کی نذر ۔۔۔(بے فکر رہیں اپ بھی پوری تحریر پڑھ کہ بوکھلاہی جائیں گے میری طرح) ایک دفعہ ایک نوجوان اکیلاکسی ویرانے سے گزررہاتھا۔۔۔اس پہ شہوانی جذبات کا غلبہ ہوا اور وہ بہک کرناپسندیدہ عمل کربیٹھا۔ جیسے ہی حواس بحال ہوئے تو گریہ زاری پہ اترآیا کہ اے اللہ معاف فرمادے،اس پہ شیطان کاغلبہ ہوگیاتھا۔۔اسی اثنامیں شیطان حاضرہوا اور اس نوجوان کو دو تھپڑلگاتے ہوئے کہا کہ ‘‘اوئے بےغیرتا،جیڑا طریقہ توں کیتا او تے مینوں آپ وی نئی سی پتہ’’۔۔۔ تو جناب میاں صاحب نے بھی گن کر گیارہ سلیوٹ اس جج کو کیے جس نے ان کو فیصلے سے ‘‘محفوظ ‘‘کیا۔۔

نوٹ۔کالم میں لکھاری کی رائے سے ادارے کامتفق ہوناضروری نہیں لہذاکالم نگارہی اپنی تحریرکاپوری طرح ذمہ دارہے۔۔ادارہ۔

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *