Tuesday , October 23 2018
ہوم > کالم > مسلک سے دار تک ۔۔۔۔۔تحریر/راشدامام کھوکھر

مسلک سے دار تک ۔۔۔۔۔تحریر/راشدامام کھوکھر

کبھی کبھی اپنے معمول کے دوران ہی کچھ ایساواقعہ پیش آجاتاہے کہ انسان دنگ رہ جاتاہے،ایساہی کچھ ہوامیرے ساتھ جب میں سنٹرل جیل کادورہ کررہاتھا ۔

 تمام وکلاء برادری صدر بار اور ججز کے ساتھ مختلف بیرکوں کا وزٹ کر رہے تھے ،میں بھی ساتھ ساتھ تھا، اچانک مجھے ایک بیرک سے مرا نام سنائی دیا میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں میرے آنکھوں کے سامنے میرا ہا سٹل فیلو عامر سلاخوں کے پیچھے سے آواز دے رہا تھا۔۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ سنی ان سنی کروں اور آگے بڑھ جاوں لیکن مجھے میری غیرت نے جکڑ لیا ۔۔ آخر ایک لمحے کی تاخیر کے بعد میں عامر کی طرف متوجہ ہوا اور رسمی گفتگو کے بعد پوچھا کہ تم یہاں کیسے؟؟ کہنے لگا میرے اوپر 302 کا مقدمہ ہے پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے، میں قدرے افسوس اور تعجب سے پوچھا وہ کیسے ۔ اس نے کہا کہ میرے ماں باپ بریلوی سنی تھے، دوسرے مسالک کی تنقید سے تنگ آکر میں نے مسلک دیوبند اختیار کر لیا، ایک دن ہم تبلیغ پر تھے کہ کچھ لوگوں نے ہم پر لاٹھیاں برسادیں اور مسجد سے باہر نکال دیا ،میں گھر واپس پہنچا تو گھر والوں نے گھر سے نکال دیا ،اس کے بعد میں شیعہ مسلک میں جو قدرے بہتر لگتا تھا، اس میں آنے کے لیے عالم دین سے رجوع کیا اور سارا معاملہ تفصیل کیساتھ بتایا، انہوں نے کہاکہ  بھائی آپ پریشان نہ ہوں اللہ خوب سننے اور جاننے والا ہے کچھ دن بعد امام بارگاہ پر کافر کافر کہنے والوں نے حملہ کردیا ،میں بمشکل جان بچا کر وھاں سے کہیں اور بھاگ نکلا، اب میں نہ گھر جا سکتا تھا،نہ مسجد ،نہ  امام بار گاہ،، چند روز سڑک پر گزارے تو پیسے ختم ہو گئے،، میں نے پیٹ کا دوزخ ٹھنڈا کرنے کے لیے ایک واردات کی اور واردات میں مزاحمت کے دوران ایک شخص قتل ہو گیا اور مجھے  اس جرم میں سزائے موت سنادی گئی ہے۔۔۔ اسی دوران مجھے پیچھے سے پھر آواز آئی کہ آئیں  سب واپس جا رہے ہیں ۔۔ اور میں چکراتے ہوئے سر واپس مڑ گیا ۔

یقینااب تک آپ کابھی سرچکرچکاہوگا،تبھی تواس کے بعدمجھے لکھنے کی ہمت نہیں ہوئی،کیاتبصرہ کروں؟۔۔کون قصوروارہے؟کہاں پرابلم ہے؟۔۔اس کاحل کیاہے؟؟۔۔اب عامرتوشایداس گناہ کی سزاپالے مگرابھی بہت سے عامرایسے ہیں جنہیں بچایاجاسکتاہے،ہمیں اُنہیں بچانے کی کوشش کرناہوگی،اوریہ کسی ایک شخص کے بس کی بات نہیں بلکہ ہرفردکواپنے حصے کادیاجلاناہوگا،تبھی جاکراس سوچ کوختم کیاجاسکتاہے جو عامرکی بربادی کی طرف پہلی سیڑھی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *