ہوم > کالم > لکھاری اور واجد ابرار کا ناول۔۔۔۔۔تحریر/رائے صابرحسین

لکھاری اور واجد ابرار کا ناول۔۔۔۔۔تحریر/رائے صابرحسین

آسمان پر سیاہ بادلوں نے شام سے ہی چادر تان رکھی تھی، جب برسے تو خوب برسے۔ موسم بہار کا مزہ دوبالا ہو گیا۔ پودوں پر نکھار آچکا اور درخت جون بدل چکے، سبزہ آنکھوں کو کتنی راحت دیتا ہے اندھا بے چارہ کیا جانے!
عاطر شاہین نے کرم فرمایا اور ملتان سے” لکھاری سیریز “کا پہلا شمارہ عنایت کیا۔ ساتھ میں نوجوان لکھاری واجد ابرار کا ناول بھی ”اِک عمر اثر ہونے تک“۔
ملتان جسے اولیاءاللہ کی سرزمین ہونے کا شرف حاصل ہے، میں ادباءاور شعراءکی بھی خاصی تعداد ہے جو اردو،پنجابی اور سرائیکی ادب کی ترقی و ترویج کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔عاطر شاہین،واجد ابرار،زبیرامین،شاہان علی خان اور آصف اقبال صدیقی پر مبنی ٹیم نے ”قلمکار“ کے بعد لکھاری سیریز کا آغاز کیا ہے جو خوش آئند ہے۔
تئیس چھتیس سائز کے آٹھ صفحات پر مشتمل لکھاری اپنے اندر اک سمندر سموئے ہوئے تھا۔ رنگارنگ خبریں تھیں، خصوصاً بچوں کے ادیبوں اور اُن کی سرگرمیوں سے متعلق۔ بڑے ادیبوں کی خبریں تو اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں مگر نوآموز کی خبر گیری کوئی نہیں کرتا۔ لکھاری میں نوجوان لکھاری مریم جہانگیر کا انٹرویو بھی ہے اور دو کالم بھی۔ کیرئیر کونسلسنگ کا سلسلہ بھی ہے اور کہانیاں بھی ۔
لکھاری کے مقاصد کچھ یوں بیان کیے گئے ہیں”لکھاری سیریز کا مقصد جہاں ادیبوں کی ترجمانی کرنا ہے، وہاں نئے لکھاریوں کو بھی پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ علاوہ زیں لکھاریوں کو متعارف کرانا اور نئے لکھاریوں کو سینئرز سے سیکھنے کے مواقع بھی فراہم کرنا ہے“۔
ہماری تجویز تو یہ ہے کہ اِسے صرف نیوز لیٹر بنائیں۔ اگر زیادہ ضروری ہو تو ایک آدھ ننھا سا کسی ابھرتے ادیب و شاعر کا انٹرویو بھی چھاپ دیجئے۔ ایک اور بات ،ایک فرد پر مبنی ایڈیٹوریل بورڈ کہیں نہیں دیکھا۔
ملتان سے ہی تعلق رکھنے والے واجد ابرار نے اپنے ناول کے ذریعے کچھ زمینی حقائق سے پردہ اٹھانے کی سعی کی ہے۔نوجوان لکھاری نے روایتی محبت کا سہارا لے کر کئی حقیقتیں بیان کی ہیں۔ہمارے ہاں امیر اور غریب ،طاقتوراور کمزور کی تفریق اس قدربڑھتی جارہی ہے کہ لگتا ہے کسی دن غریب جھگی نشین اپنے حقوق چھیننے کیلئے محلات پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ دھرتی تھر تھر کانپے گی اور تاج اچھالے جائیں گے۔
”اک عمر اثر ہونے تک “میں ایک بگڑا وڈیرہ زادہ کس طرح پریم کے بندھن میں بندھے پریمیوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھاتا ہے اور انہیں ہمیشہ کیلئے ایک دوسرے سے جدا کر دیتا ہے مگر حاصل کیا ہوا؟
زندگی کی اک اور تلخ سچائی بھی واجد ابرار کے قلم سے پھوٹی، ہمارے اردگرد اکثر ’اگرچہ نئی نسل میں یہ رجحان بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے، اپنی پہلی اولاد کی صور ت میں بیٹے کی ہی خواہش کرتے ہیں۔ اگر کسی کے ہاں رحمت خداوندی آ جائے تو جاہل عربوں کی طرح منہ سیاہ پڑ جاتے ہیں۔ کتنے ہی گھرانے اِسی سبب اجڑ گئے۔
”اِس معاشرے میں عورت صرف غلام ہے۔ رسم و رواج اور تکبر کی زنجیروں میں جکڑی غلام!!“ کیا یہ حقیقت نہیں؟
وڈیرہ زادہ اپنی انا کی تسکین کیلئے نوجوان محبوب کا قتل کر ڈالتا ہے مگر اُس کا ضمیر زندگی بھر اُسے ملامت کرتا رہتا ہے۔ ہاں اگر ضمیر زندہ ہوتو ۔ ”اُسے احساس ہونے لگا تھا کہ خدا سے معافی تک نہیں ملے گی جب تک وہ اُن لوگوں سے معافی نہیں مانگ لیتا جن کا اُس نے دل دکھایا تھا
وہ اپنی بیوی کا مجرم تھا،اُسے خط بھی لکھتا ہے مگر اُس کے بعد نامہ کہاں گیا؟کوئی ذکر نہیں۔ “
دل دکھایا تھا!وہ تو قاتل تھا اور اُسے سزا بھی بہت خوب ملی ۔
واجد ابرار کا 280صفحات پرمشتمل یہ پہلا ناول ہے، امید کی جانا چاہیے کہ آخری نہیں ہوگا۔بس یہی دعا ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
نوٹ:قارئین کرام!یہ ادبی بلاگ کیسا لگا؟ضرور بتائیے گا۔ آپ بھی اپنی کتب پر تبصرہ کیلئے فیس بک پر رابطہ کر سکتے۔

https://www.facebook.com/roysabir.hussain

یہ بھی دیکھیں

شکریہ نیازی صاحب- سلیم صافی

ان سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور نہ میں ان کا کوئی حریف ہوں۔ وہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *