Sunday , October 21 2018
ہوم > کالم > ہر کہیں جاسوس کی سزا موت ہوتی ہے- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

ہر کہیں جاسوس کی سزا موت ہوتی ہے- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

سابق صدر پاکستان آصف زرداری نے بھارتی جاسوس کے لیے فیصلے کو درست قرار دیا ہے اور سوال پوچھا ہے کہ وہ یہاں آیا کیسے؟ اس کا جواب نواز شریف کو دینا چاہیے زرداری صاحب سابق صدر ہیں۔ اس کا جواب پروٹوکول کے لحاظ سے نواز شریف کو دینا چاہیے ورنہ صدر پاکستان ممنون حسین تو دیں گے۔
کلبھوشن کو ایک ہزار بار پھانسی دی جائے یہ میری رائے بھی ہے مگر یہ جرات مندانہ بات میرے یونیورسٹی فیلو میرے دوست جاوید ہاشمی نے کی ہے۔ یہاں میرا جی چاہتا ہے کہ وہ نعرہ لگاﺅں جو ہم پنجاب یونیورسٹی میں لگاتے تھے۔ ایک بہادر آدمی۔ ہاشمی، ہاشمی۔ برادرم مجیب الرحمن شامی کے دفتر میں بیٹھ کے یہ نعرہ بنایا گیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ شامی صاحب ہمارے ساتھ مل کر اب یہ نعرہ لگائیں گے؟
شامی صاحب حکومت کے معاملے میں نرم گوشہ ہمیشہ رکھتے ہیں۔ ہماری حکومت تو بھارت کے لیے دوستانہ اور مدافعانہ رویہ رکھتی ہے۔ نواز شریف نے تو کبھی کلبھوشن یادیو کا نام بھی نہیں لیا۔ انہوں نے بھارت کے لیے بھی کوئی بات نہیں کی۔ کاش مریم نواز ہی بات کرتیں۔
چودھری نثار کابینہ میٹنگ میں نواز شریف کی صدارت میں بہت غصے اور سنجیدگی میں بیٹھے ہوتے ہیں مگر وہ کابینہ میٹنگ میں جاتے ضرور ہیں مگر بات نہیں کرتے۔ ان کی طرف سے کوئی ردعمل آئے تو ہمیں خوشی ہو ورنہ کئی دوسرے وزرا ”ردی عمل“ ضرور دیتے ہیں۔
یہ تو طے ہے کہ کلبھوشن بلوچستان اور کراچی میں پاکستان مخالف کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ اس نے اعتراف بھی کر لیا ہے۔ اس لیے فوجی عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنائی ہے اور آرمی چیف نے اس کی منظوری بھی دے دی ہے مگر وزیراعظم نواز شریف اس کی منظوری کب دیں ۔ صدر ممنون حسین ضرور اس کی منظوری دے دیں گے۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ ان کی باتیں سن کر حکومت کا مزا خراب ہو جاتا ہو گا مگر ہمیں خوشی ہوتی ہے۔
اگر پاکستان کا کوئی آدمی کلبھوشن جیسی سرگرمیوں میں ملوث نہ بھی ہوتا تو بھارت اس کو پھانسی دے چکا ہوتا۔ ایک کشمیری رہنما کو جیل میں پھانسی دے دی تھی اور پاکستان کا حکومتی احتجاج بھی سامنے نہیں آیا تھا۔ یہاں تو صرف ہمارے جذبوں کی راکھ اڑتی رہتی ہے اور ہم رسوائیوں میں اٹے رہتے ہیں۔
کلبھوشن کی پھانسی پر جو کچھ سشما سوراج نے کہا ہے وہ بھارتی اور سرکاری آداب کی خلاف ورزی ہے۔ میری رائے ہے کہ کلبوشن کو اب فوری طور پر پھانسی دے دی جائے۔ فوجی عدالت نے پھانسی دی ہے اور آرمی چیف نے منظوری دے دی ہے تو اب پاک فوج کا فرض ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر عملدرآمد کرائے۔ پاک فوج کے اس فیصلے کے بعد حکومت پاکستان کیلئے مناسب نہیں کہ وہ کوئی بزدلانہ فیصلہ کرے۔ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ صدر پاکستان سے منظوری لے لی جائے۔ وہ ایک بہادر سچے بے باک اور پاکستانی مفاد کو ترجیح دینے والے آدمی ہیں۔
میری گذارش نواز شریف سے ہے کہ وہ جرات کریں اور حوصلہ رکھیں۔ ان کے جرات مندانہ فیصلے سے ان کو فائدہ ہو گا۔ پاکستانی عوام اس فیصلے کو سراہیں گے اور نواز شریف حکومت اور سیاست کو فائدہ ہو گا۔ میری گذارش غیور مگر خاموش وزیر داخلہ چودھری نثار سے یہ ہے کہ وہ وزیر داخلہ کے طور پر اس فیصلے پر عملدرآمد کرائیں۔ پاکستان اور پاکستانیوں کو رسوائی سے بچائیں۔
دنیا والے اور خاص طور پر بھارت یہ کہے گا حکومت پاکستان برابری کے نظریے کے تحت فیصلے پر عملدرآمد نہیں کر سکتی۔ سارے سیاسی رہنماﺅں نے کہا ہے کہ کلبھوشن نے پاکستان میں تباہی پھیلائی۔ سزائے موت کا فیصلہ درست ہے۔ پاک فوج کا فرض ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے کی سچائی کو ثابت کرے۔
خواجہ آصف ایک زبردست آدمی ہیں۔ چودھری نثار کے علاوہ وہ کابینہ میں غنیمت شخص ہیں۔ وہ برملا کہتے ہیں کہ کلبھوشن کو سزا قوانین کے مطابق دی گئی ہے۔ ہم وطن کی ناموس اور خودمختاری کا دفاع کریں گے۔
کشمیر میں بھارت ہر روز کئی حریت پسندوں کو قتل کرتا ہے اور ہم ایک بھارتی جاسوس کو سارے ثبوتوں کے بعد اور عدالتی فیصلے کے بعد بھی پھانسی نہیں دے سکتے۔ سراج الحق کہتے ہیں کہ کلبھوشن پاکستان آیا کیسے؟ وہ مسلمانوں کانام اختیار کرکے یہاں کیا کرتا رہا۔ یہ کچھ سامنے آنے کے بعد بھی کیا۔ حکومت بزدلی اور مصلحت کا مظاہرہ کرے گی کوئی بتائے کہ بھارت نے ایک بے گناہ شخص اجمل قصاب کو پھانسی پر لٹکا دیا اور کوئی پرواہ نہیں کی مگر اب پاکستان میں معروف بھارتی جاسوس کلبھوشن کو وزیر خارجہ بھارت سشما سوراج بھارت کا بیٹا کہتی ہے؟ یہ بات اس نے کلبھوشن کو پھانسی کے فیصلے کے بعد کی ہے؟ بھارت کے اس بیٹے کی پاکستان میں منفی سرگرمیوں سے کیا نواز شریف واقف نہیں ہیں؟ مریم نواز کو بھی سب معلوم ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار بھی سب جانتے ہیں۔ پھر مصلحتوں اور مصالحتوں کی زنجیر سے آزاد نہیں ہونا چاہیے؟۔ ثابت کریں کہ وہ پاکستان کے حکمران ہیں؟
مودی بار بار پاکستان کے خلاف بات کرتا ہے مگر نواز شریف نے ایک بار بھی بھارت کا نام نہیں لیا۔ کلبھوشن کو سرعام پھانسی دے کر اپنی خودمختار حیثیت ثابت کی جائے۔ اور پاکستان پر ایک طفیلی ریاست ہونے کی تہمت نہ لگنے دی جائے!

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *