Friday , October 19 2018
ہوم > کالم > ایک میلے کی کہانی- حا مد میر

ایک میلے کی کہانی- حا مد میر

شہر شہر ادبی میلوں کا سلسلہ پاکستان میں ایک ایسی تبدیلی کا پتا دے رہا ہے جس کا کریڈٹ کوئی سیاسی جماعت یا حکومت نہیں لے سکتی۔ اکثر سیاسی جماعتیں صرف بے ادبی پھیلا رہی ہیں اور حکومتوں کو ادب سے محبت کرنےوالوں کی سرپرستی میں کوئی بڑا فائدہ نظر نہیں آتا لیکن اس کے باوجود ادبی میلوں کی روایات آگے بڑھ رہی ہے۔ پہلے پہل یہ ادبی میلے امیر اور انگلش اسپیکنگ طبقے کی دسترس میں تھے لیکن اب یہ روایت متوسط طبقے تک بھی پہنچ رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آرہی ہے کہ دہشت اور وحشت کا اصل علاج کتاب سے محبت میں ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں مجھے بہت سے ادبی میلوں میں جانے کا اتفاق ہوا اور میں نے دیکھا کہ ادبی میلے میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہو تو یہ میلہ بزرگوں کو بھی جوان کر دیتا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے ادبی میلے میں بھی بہت سے بزرگوں کو نوجوانوں کی طرح ہنستے کھیلتے اور قہقہے لگاتے دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے لٹریچر کارنیول کے نام پر ادبی میلہ سجایا تھا جس میں مشاعرہ بھی تھا، مباحثہ بھی تھا، بیت بازی بھی تھی، داستان گوئی بھی تھی اور یونیورسٹی کے سرسبز لان میں کتابوں کے ساتھ ساتھ روایتی کھانوں کے اسٹال بھی تھے۔ اس دو روزہ ادبی میلے کے افتتاحی سیشن کا موضوع ادب اور معاشرہ تھا جس میں اس ناچیز کو بھی اظہارخیال کی دعوت دی گئی تھی۔ سیشن کے آغاز میں تلاوت ِ قرآن پاک کے بعد جو نعت پڑھی گئی وہ احمد فرازؔ کی لکھی ہوئی تھی۔ ادیبوں کی اس محفل میں شکیل عادل زادہ صاحب کی موجودگی ایک خوشگوار حیرت کا باعث تھی۔ ان کے ایک بہت بڑے مداح رئوف کلاسرا کے علاوہ سعادت سعید، عقیل عباس جعفری، سعود ساحر، افضل بٹ، اسلم خان، صولت رضا اور جبار مرزا سمیت ملک بھر سے آئے ہوئے مہمانوں کی کثیر تعداد حاضرین میں موجود تھی۔ موضوع بظاہر بہت خشک تھا لیکن ادب اور معاشرے کے تعلق کو سمجھنے اور سمجھانےکے لئے ڈاکٹر شاہد صدیقی نے افتتاحی سیشن کو بامعنی بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کے کچھ اہم مہمانوں نے اس موضوع پر گفتگو کا وعدہ کیا تھا لیکن عین وقت پر ان مہمانوں کو کچھ اہم مصروفیات یاد آگئیں جو ادب اور معاشرے سے زیادہ اہم تھیں۔ اس سیشن میں تقریر کے دوران میں نے بہت سوچ سمجھ کر کچھ نکات اٹھائے تاکہ ملک کے پڑھے لکھے طبقے میں ان نکات پر غور و فکر کا سلسلہ آگے بڑھے۔ میری گزارش یہ تھی کہ کسی بھی معاشر ےکے تخلیقی رجحانات کا اندازہ اس کے ادب و ثقافت سے ہوتا ہے۔ ادب زندہ رہے تو قوم زندہ رہتی ہے۔ ادب قوموں کی شناخت بنتا ہے لیکن پاکستانی ادب جس اہم ترین زبان میں تخلیق ہو رہا ہے وہ زبان زوال کا شکار ہے۔ یہ درست ہے کہ اردو ہماری قومی زبان ہے لیکن اردو پڑھنے اور سمجھنے والوں کی تعداد میں اضافے کی بجائےکمی ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم صادر کیا کہ اردو کو دفتری زبان بنایا جائے لیکن اس سلسلے میں عملی اقدامات سست روی کا شکار ہیں۔ حالت یہ ہے کہ ہمارے سکولوں میں بچوں کو جو قومی ترانہ یاد کرایا جاتا ہے اس کا مطلب بہت کم بچوں کو معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس ترانے میں فارسی کے الفاظ کی آمیزش ہے۔ فارسی سے دور ہو جانے کےباعث ہمیں علامہ اقبالؒ کا بہت سا کلام بھی سمجھ میں نہیں آتا اور ہماری اس کمزوری کی وجہ ہمارا نظام تعلیم ہے جس نے قوم کو مختلف طبقات میں تقسیم کر رکھا ہے۔ میری تجویز تھی کہ اردو کو فروغ دینے کے لئے اس زبان کا دامن وسیع کیا جائے اور اس میں پاکستان کی علاقائی زبانوں کے الفاظ استعمال کئے جائیں۔ جب اس زبان میں پنجابی، سرائیکی، پشتو، سندھی، بلوچی، براہوی، کشمیری، ہندکو، شینا، بلتی، پروشسکی اور دیگر زبانوں کے الفاظ شامل ہو جائیں گے اور یہ زبان پاکستان کے ہر صوبے اور ہر علاقے میں پڑھائی جائے گی تو پھر یہ زبان واقعی سب پاکستانیوں کی زبان بن جائے گی۔ ماضی میں ایسی تجاویز بھی دی گئیں کہ اردو کو پاکستانی زبان کا نام دے دیا جائےکیونکہ اردو کا مطلب لشکر ہے اور یہ نام کسی قوم یا تہذیب کی نشاندہی نہیں کرتا۔ میں نے شکیل عادل زادہ کے ’’سب رنگ‘‘ ڈائجسٹ کا بھی ذکر کیا جو گزشتہ آٹھ سال سے شائع نہیں ہوا اور یہ وہ جریدہ تھا جس نے ادب اور معاشرے کے تعلق کو کافی مستحکم کیا تھا۔ اس تعلق کو مستحکم رکھنے کے لئے سب رنگ ڈائجسٹ کا دوبارہ اجرا ضروری ہے۔
شکیل عادل زادہ صاحب نے بڑی مختصر گفتگو کی۔ ’’سب رنگ‘‘ کی بات کسی اور وقت کے لئے چھوڑ دی البتہ یہ نکتہ لے کر آئے کہ اگر اردو کا نام پاکستانی رکھ دیا جائے تو جو لوگ ہندوستان میں یہ زبان بولتے، پڑھتے اور لکھتے ہیں وہ اس زبان کو کیا کہیں گے؟ دہلی، یوپی، بہار، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال میں اردو کو دیگر زبانوں کی طرح ریاستی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی زبان بھی اردو ہے لیکن اس زبان کو قومی زبان کا درجہ صرف پاکستان میں حاصل ہے۔ اس معاملے پر دیگر اہل فکر و نظر کو بھی غور کرنا چاہئے۔ پاکستان کی قومی زبان کو فروغ دینے کے لئے اس زبان کا پاکستان کی علاقائی زبانوں کے ساتھ رشتہ مضبوط کرنا بہت ضروری ہے۔ اردو کا نام ہمیشہ سے اردو نہ تھا۔ امیرخسرو نے اسے ’’ہندوی‘‘ کا نام دیا تھا۔ بعد ازاں اسے اردو کہا گیا جو ترک اور فارسی زبان میں لشکر کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ افغان نیشنل آرمی آج بھی ’’اردوئے ملی افغانستان‘‘ کہلاتی ہے۔ یہ بھی درست نہیں کہ اردو نثر کی روایت کا آغاز فورٹ ولیم کالج سے ہوا تھا۔ شمس الرحمٰن فاروقی کی صاحبزادی اور ورجینیا یونیورسٹی امریکہ میں اردو کی استاد مہر افشاں فاروقی کی تحقیق کے مطابق اردو نثر کی روایت کا آغاز فورٹ ولیم کالج سے بہت پہلے قرآن پاک کے تراجم سے شروع ہوا۔ اس سلسلے میں وہ شاہ رفیع الدین اور شاہ مراد اللہ سنبھلی کے تراجم کا حوالہ دیتی ہیں لیکن وہ اردو کو صرف ایک مذہب کی زبان تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بہرحال ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اردو کو محض قومی زبان قرار دینے اور سپریم کورٹ کے حکم سے اس زبان کا فروغ ممکن نہیں۔ اس زبان کے فروغ کے لئے قائم اداروں کو اسے پاکستانی بنانا ہوگا۔ نام بے شک پاکستانی نہ رکھیں لیکن جن لوگوں کی مادری زبان اردو نہیں ان کا اردو سے تعلق استوار کرنے کےلئے اردو کا دامن وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ادبی میلے میں اس اہم معاملے پر بحث کا آغاز ہو چکا۔ اس بحث کو مثبت انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ زبان اور اس زبان میں تخلیق ہونےوالا ادب پاکستانی معاشرے کی پوری دنیا میں پہچان بن سکے۔ اس ادبی میلے کے انعقاد پر ڈاکٹر شاہد صدیقی، ڈاکٹر ثمینہ اعوان، ڈاکٹر عارف سلیم عارف، رانا طارق جاوید، ڈاکٹر عبدالواجد، ڈاکٹر افشاں ہما، ان کے دیگر ساتھی اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے تمام طلبا و طالبات مبارکباد کے مستحق ہیں۔